جارج کلونی کی ساس کا ’اعتراض‘، اخبار کی معافی

Image caption میل آن لائن نے ایک خبر شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ علم الدین کی والدہ کی خواہش ہے کہ وہ دروز فرقے ہی میں شادی کریں

برطانوی اخبار میل آن لائن نے اداکار جارج کلونی سے اپنی اس کہانی پر معافی مانگی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اداکار کی ہونے والی ساس نے مذہبی بنیاد پر اس شادی پر اعتراض کیا ہے۔

میل آن لائن نے جارج کلونی کی امل علم الدین سے جلد ہی شادی کے حوالے سے خبر شائع کی تھی کہ کلونی کی ہونے والی ساس نے جارج کلونی کے مذہب کے حوالے سے اعتراض کیا ہے۔

اس خبر کے شائع ہونے کے بعد کلونی نے میل اخبار پر ’غیر ذمہ دارانہ‘ رپورٹنگ کا الزام لگایا تھا۔

میل آن لائن کی جانب سے شائع ہونے والے معافی نامے میں کہا گیا ہے ’ہم جارج کلونی کے اس موقف کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ خبر درست نہیں ہے۔ ہم نے اس خبر کو اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیا ہے اور ہم کلونی کے نمائندے سے بات چیت کریں گے اور کلونی کو اپنا ورژن بیان کرنے کا موقع دیں گے۔‘

حال ہی میں میل آن لائن نے ایک خبر شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ علم الدین کی والدہ کی خواہش ہے کہ وہ دروز فرقے ہی میں شادی کریں۔

واضح رہے کہ دروز فرقہ سات لاکھ افراد پر مشتمل ہے اور ان میں سے زیادہ تر لبنان، شام، اسرائیل اور اردن میں ہیں۔

آن لائن رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ’علم الدین کے قریبی اقارب نے بتایا ہے کہ علم الدین کی والدہ بیروت میں ہر دوسرے شخص سے یہ کہہ رہی ہیں کہ ان کی بیٹی کو زیادہ اچھا لڑکا مل سکتا ہے۔‘

امریکی اخبار یو ایس اے ٹو ڈے میں جارج کلونی نے اس بات کی تردید کی ہے کہ امل علم الدین کی والدہ دروز فرقے سے تعلق رکھتی ہیں اور نہ ہی وہ اس شادی کے خلاف ہیں۔