’صاحب عالم یعنی دلیپ کمار‘

تصویر کے کاپی رائٹ Saira Bano
Image caption بھارت کے پہلے وزیر اعظم دلیپ کمار کی اداکاری کے بڑے مداح تھے

معروف ہالی وڈ اداکار جانی ڈیپ نے ایک بار مارلن برینڈو کے بارے میں کہا تھا: ’برینڈو سے پہلے اداکار اداکاری کیا کرتے تھے، لیکن ان کے بعد کے اداکار صرف کام کرتے ہیں۔‘

دلیپ کمار نے چھ دہائیوں کے اپنے فلمی کریئر میں صرف 63 فلمیں کیں لیکن انھوں نے ہندی سنیما میں اداکاری کے فن کو نئی معنویت نئی تعریف دی۔

ایک زمانے میں دلیپ کمار بھارت کے بہترین فٹ بال کھلاڑی بننے کا خواب دیکھتے تھے۔

خالصہ کالج میں ان کے ساتھ پڑھنے والے راج کپور جب پارسی لڑکیوں کے ساتھ فلرٹ کرتے تھے، تو تانگے کے ایک کونے میں بیٹھے شرميلے دلیپ کمار کو بس انھیں دزدیدہ نظروں سے دیکھا ہی کرتے تھے۔

کسے پتہ تھا کہ ایک دن یہ شخص بھارت کے فلم پرستاروں کو خامشی کی زبان سکھا دے گا۔

اور اس کی ایک نگاہ وہ سب کچھ کہہ جائے گی، جس کو کئی صفحات پر لکھے مکالمے بھی کہنے کے قابل نہیں ہوں گے!

دلیپ کمار، راج کپور اور دیو آنند کو بھارتی فلم دنیا کی تثلیث کہا جاتا ہے، لیکن جتنی رنگا رنگی اور تنوع دلیپ کمار کی اداکاری میں ہے اتنا شاید ان دونوں کی اداکاری میں نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Saira Bano
Image caption راج کپور نے ’شکتی‘ دیکھنے کے بعد بنگلور سے دلیپ کمار کو فون کر کے کہا، ’لاڈے‘، آج فیصلہ ہو گیا۔تم آج تک کے سب سے عظیم اداکار ہو

راج کپور نے چارلی چیپلن کو اپنا آئیڈیل بنایا، تو دیو آنند گریگوری پیك کے انداز میں مہذب اداؤں والے شخص کی امیج سے باہر نہیں آ پائے۔

دلیپ کمار نے ’گنگا جمنا‘ میں ایک دیہاتی کے کردار کو جس خوبی سے نبھایا، اتنا ہی انصاف انھوں نے ’مغل اعظم‘ میں مغل شہزادے کے کردار کے ساتھ کیا۔

دیویکا رانی کے ساتھ اتفاقا ہونے والی ایک ملاقات نے دلیپ کمار کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔

یوں تو دیویکا رانی 40 کی دہائی میں بھارتی فلم دنیا کا بہت بڑا نام تھا لیکن ان کا سب سے بڑا کارنامہ پشاور کے پھل تاجر کے بیٹے یوسف خان کو ’دلیپ کمار‘ بنانا تھا۔

ایک فلم کی شوٹنگ دیکھنے بامبے ٹاکیز جانے والے ہینڈسم یوسف خاں سے انھوں نے پوچھا تھا کہ کیا آپ اردو جانتے ہیں؟ یوسف کے ہاں کہتے ہی انھوں نے دوسرا سوال کیا تھا کیا آپ اداکار بننا پسند کریں گے؟ اور آگے کی کہانی ایک تاریخ ہے۔

دیویکا رانی کا خیال تھا کہ ایک رومانی ہیرو پر یوسف خان کا نام زیادہ نہیں جچے گا۔

اس وقت بامبے ٹاکیز میں کام کرنے والے اور ہندی کے بڑے شاعر نریندر شرما نے انھیں تین نام تجویزکیے: جہانگیر، واسودیو اور دلیپ کمار۔

تصویر کے کاپی رائٹ Saira Bano
Image caption دلیپ کمار نے سائرہ بانو کے ساتھ شادی کی دونوں گوپی فلم میں ساتھ آئے

یوسف خاں نے اپنا نیا نام دلیپ کمار منتخب کیا۔ اس کے پس پشت ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس نام کی وجہ سے ان کے پرانے خيالوں والے والد کو ان کے اصلی پیشے کا پتہ نہیں چل پاتا۔

فلم والوں کے بارے میں ان کے والد کی رائے بہت اچھی نہیں تھی اور وہ ان کا نوٹنكي والا کہہ کر مذاق اڑاتے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنے پورے کریئر میں صرف ایک بار دلیپ کمار نے ایک مسلم کردار ادا کیا اور وہ بھی کے آصف کی فلم مغل اعظم میں۔

دلیپ کمار نے مجموعی طور پر 63 فلمیں کی اور ہر کردار میں اپنے آپ کو مکمل طور پر ضم کر لیا۔

فلم ’كوہ نور‘ میں ایک نغمے میں ستار بجانے کے رول کے لیے انھوں نے سالوں تک استاد عبد حلیم جعفر خاں سے ستار بجانا سیکھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک بار دلیپ کمار نے کہا تھا: ’صرف یہ سیکھنے کے لیے کہ ستار پکڑا کیسے جاتا ہے، میں نے سالوں تک ستار بجانے کی ٹریننگ لی۔ یہاں تک کہ ستار کے تاروں سے میری انگلیاں تک کٹ گئی تھیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Saira Bano
Image caption دلیپ کمار اپنے بعض دوستوں کے ساتھ جن میں پریم ناتھ کو پہچانا جا سکتا ہے

اسی طرح ’نیا دور‘ بننے کے دوران بھی انھوں نے تانگا (یکہ یا بگھی) چلانے والوں سے تانگا چلانے کی باقاعدہ تربیت لی۔ یہی وجہ تھی کہ معروف ہدایتکار اور فلم ساز ستیہ جیت رے نے انھیں بہترین میتھڈ اداکار کا لقب دیا تھا۔

یوں تو انھوں نے کئی اداکاراؤں کے ساتھ کام کیا لیکن ان کی جوڑی مدھوبالا کے ساتھ سب سے زیادہ مقبول رہی کہیں اس کا سبب ان دونوں کی محبت تو نہیں؟

اپنی آپ بیتی میں دلیپ کمار نے یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ مدھوبالا سے متاثر تھے ایک اداکارہ کے طور پر بھی اور ایک عورت کے طور پر بھی۔

دلیپ کہتے ہیں کہ مدھوبالا بہت ہی زندہ دل اور پھرتيلي خاتون تھیں، جن میں مجھ جیسے شرميلے اور سوچ کر بولنے والے شخص سے بات چیت کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی تھی۔

لیکن مدھوبالا کے والد کی وجہ سے یہ محبت کی کہانی بہت دنوں تک نہیں چل پائی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Saira Bano
Image caption دلیپ کمار، راج کپور اور دیو آنند کو بھارتی فلم دنیا کی تثلیث کہا جاتا ہے

مدھوبالا کی چھوٹی بہن مدھر بھوشن کہتی ہیں: ’ابا کو یہ لگتا تھا کہ دلیپ ان سے عمر میں بڑے ہیں۔ اگرچہ وہ میڈ فار ايچ ادر تھے۔ بہت خوبصورت جوڑی تھی۔ لیکن ابا کہتے تھے اسے رہنے ہی دو۔ یہ صحیح راستہ نہیں ہے لیکن وہ ان کی سنتی نہیں تھیں اور کہا کرتی تھیں کہ وہ ان سے محبت کرتی ہیں لیکن جب بی آر چوپڑا کے ساتھ نیا دور فلم پرکورٹ کیس ہو گیا، تو میرے والد اور دلیپ صاحب کے درمیان تنازع پیدا کرنا ہو گیا۔‘

مدھر بھوشن کہتی ہیں: ’عدالت میں ان کے درمیان معاہدہ بھی ہو گیا۔ دلیپ صاحب نے کہا کہ چلو ہم لوگ شادی کر لیں۔ اس پر مدھوبالا نے کہا کہ شادی میں ضرور کروں گی لیکن پہلے آپ میرے والد کو 'ساری' کہیں۔ لیکن دلیپ کمار نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے یہاں تک کہا کہ گھر میں ہی ان کے گلے لگ جائیں لیکن دلیپ کمار اس پر بھی راضی نہ ہوئے۔‘

’مغل اعظم‘ بننے کے درمیان نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ دونوں کے درمیان بات تک بند ہو گئی۔

’مغل اعظم‘ کا وہ کلاسک پنکھوں والا رومانٹک منظر تب فلمایا گیا تھا، جب مدھوبالا اور دلیپ کمار نے ایک دوسرے کو عوامی طور پر پہچاننا تک بند کر دیا تھا۔

سائرہ بانو سے دلیپ کمار کی شادی کے بعد جب مدھوبالا بہت بیمار تھیں، تو انھوں نے دلیپ کمار کو پیغام بھجوایا کہ وہ ان سے ملنا چاہتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Madhur Bhushan
Image caption دلیپ کمار اور مدھو بالا کی محبت فلم ترانہ کے دوران پروان چڑھی تھی

جب وہ ان سے ملنے گئے تب تک وہ بہت کمزور ہو چکی تھیں۔ دلیپ کمار کو یہ دیکھ کر دکھ ہوا۔ ہمیشہ ہنسنے والی مدھوبالا کے ہونٹوں پر اس دن بہت کوشش کے بعد ایک پھیکی سی مسکراہٹ آ پائی۔

مدھوبالا نے ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا: ’ہمارے شہزادے کو ان کی شہزادی مل گئی، میں بہت خوش ہوں۔‘

23 فروری سنہ 1969 کو صرف 35 سال کی عمر میں مدھوبالا کا انتقال ہو گیا۔

’مغل اعظم‘ کے بعد جس فلم میں دلیپ کمار نے سب سے زیادہ نام کمایا وہ تھی ’گنگا جمنا‘۔

امیتابھ بچن کا کہنا ہے کہ جب وہ الہ آباد میں پڑھ رہے تھے، تو انھوں نے ’گنگا جمنا‘ فلم بار بار دیکھی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Saira Bano
Image caption دلیپ کمار اپنے پرستاروں کے درمیان

امیتابھ دیکھنا چاہتے تھے کہ ایک پٹھان جس کا اتر پردیش سے دور دور کا بھی تعلق نہیں وہ کس طرح وہاں کی بولی کو مکمل پرفكشن کے ساتھ بولتا ہے۔

بعد میں دونوں نے ایک ساتھ رمیش سپپي کی فلم ’شکتی‘ میں کام کیا۔

ان کے معاصر، مخالف اور بچپن کے دوست راج کپور نے ’شکتی‘ دیکھنے کے بعد بنگلور سے انھیں فون کر کے کہا، ’لاڈے‘، آج فیصلہ ہو گیا۔تم آج تک کے سب سے عظیم اداکار ہو۔

اسی بارے میں