پاکستانی مصنفہ کے لیے فرانسیسی شاہی اعزاز

تصویر کے کاپی رائٹ UNKNOWN
Image caption تہمینہ درانی کی کتاب ’مائی فیوڈل لارڈ‘ کا ترجمہ 39 زبانوں میں ہو چکا ہے

پاکستان سے تعلق رکھنے والی مصنفہ اور مصورہ تہمینہ درانی کو فرانس کی حکومت نے سرکاری شاہی اعزاز سے نوازا ہے۔ فرانس کا یہ اعزاز ادب اور مصوری کے شعبوں میں غیر معمولی کارکردگی پر دیا جاتا ہے۔

اسلام آباد میں جمعرات کو ہونے والی ایک تقریب میں فرانسیسی سفیر نے اس اعزاز کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا: ’فرانس کے شاہی دور سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ مصوری اور ادب کے شعبے میں جو لوگ غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں انھیں انفرادی پہچان دی جاتی ہے۔ تہمینہ درانی نہ صرف فرانسیسی عوام کی پسندیدہ مصنفہ ہیں بلکہ وہ مصورہ اور خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی بااثر شخصیات میں سے ایک ہیں۔‘

24 سال پہلے’مائی فیوڈل لارڈ سے،‘ جس کا اردو میں ’مینڈا سائیں‘ کے نام سے ترجمہ ہوا، شہرت پانے والی تہمینہ درانی پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لیے اٹھنے والی نئی مگر مختلف آواز تھی۔ یہ اس عورت کی آواز تھی جو خود جاگیردارانہ نظام میں جکڑی ہوئی تھی۔

تہمینہ درانی نے اس کتاب میں خواتین کی شخصی آزادی پر بات کرتے ہوئے پاکستانی معاشرے میں بسنے والے مردوں اور اس کی جاگیردارانہ سوچ کی عکاسی کی تھی۔

فرانسیسی سفیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’پاکستان کو کئی چیلنجوں کا سامنا ہے اور تعلیم کی کمی یقیناً ان میں سب سے اہم ہے مگر تہمینہ درانی نے تعلیم اور ثقافت کو ہم آہنگ کر کے ایسے بچوں کے لیے ایک راستہ تشکیل دیا ہے جنھیں اچھی تعلیم تک رسائی نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ فرانس اور جرمنی کی حکومتیں پاکستان میں ضرورت کی بنیاد پر ان بہترین طلبہ کو سکالرشپ دے رہی ہے تاکہ وہ باہر کی بہترین یونیورسٹیوں میں پڑھ سکیں اور ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رکھا جا رہا ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔

تہمینہ درانی کی کتاب ’مائی فیوڈل لارڈ‘ کا ترجمہ 39 زبانوں میں ہو چکا ہے۔

فرانسیسی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تہمینہ درانی نے انکشاف کیا کہ اس کتاب کے پاکستان اور بھارت میں سامنے آنے کے بعد فرانس ہی وہ پہلا ملک تھا جس نے اس کتاب کو مغربی دنیا میں پھیلایا۔

تہمینہ درانی نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ معاشرے میں ہر شخص خوفزدہ ہے اور وہ جن موضوعات پر لکھتی ہیں اس پر بات کرنے کے لیے اس خوف پر قابو پانا ضروری ہے، لوگوں کو خوف پر قابو پا کر اس سے باہر نکلنا اور حالات کا مقابلہ کرنا ہو گا۔

’ہیپی تھنگز ان سورو ٹائمز‘ یعنی افسردہ لمحوں میں خوشیوں کی باتیں، تہمینہ درانی کی نئی کتاب ہے جو حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے۔

یہ کہانی ایک ایسی افغان بچی کی ہے جو جنگ کے دوران زندگی کی مشکلات کو جھیلتی ہے اور اپنے خاندان کی جدائی برداشت کرتی ہے۔

تہمینہ درانی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جنگ زدہ ماحول میں پرورش پانے والے بچوں کو اس وقت سب سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں