پشتو شاعری پر ’دہشت گردی کا اثر‘

Image caption بتایا جاتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں چھوٹی بڑی 500 کے قریب ادبی تنظمیں ہیں جو مختلف مواقعوں پر امن کے موضوع پر مشاعروں کا انعقاد کرتی ہیں

پشتون شعرا اپنی شاعری کے ذریعے دنیا میں امن اور معاشرے میں موثر سماجی تبدیلی لانے کے لیے انتھک کوششوں میں مصروف ہیں۔

ماضی میں شعرا رومانوی موضوعات اور دیگر سماجی مسائل پر شعر و شاعری کرتے تھے مگر اب دہشت گردی کی نہ ختم ہونے والی لہر نے ادبی میدان کو بھی کافی حد تک تبدیل کر دیا ہے۔

اب شعر و شاعری کی ایسی کتاب شاید کم ہی ملے گی جس میں بم دھماکے اور خودکش حملوں کے ذریعے ہونے والے بے گناہ اور معصوم افراد کے قتلِ عام کا ذ کر نہ ہو۔

بتایا جاتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں چھوٹی بڑی 500 کے قریب ادبی تنظمیں ہیں جو مختلف مواقعوں پر امن کے موضوع پر مشاعروں کا انعقاد کرتی ہیں۔

پشتو شاعری کا مرکز تصور کیے جانے والے خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کے شعرا امن اور محبت کا پیغام دینے کی کوششیں کر رہے ہیں جس کا مقصد دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ پشتون امن پسند قوم ہے اور وہ ہر قسم کے تشدد کی مذمت کرتی ہے۔

Image caption گل مینگورہ میں نویں جماعت کی طالبہ ہیں جسے پشتو شاعری پڑھنے میں دلچسپی ہے

سوات کے معروف شاعر شوکت خزاں کہتے ’ملک اور خصوصاً خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلا جاری ہے جس سے ناقبل تلافی نقصان ہو رہا ہے اور دنیا میں جس طرح پشتونوں پر دہشت گردی کی جو چھاپ لگی ہے وہ اپنے ادبی تخلیقات کے ذریعے اسے مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

پشتو شاعری سے ذوق رکھنے والے رفیع اللہ کہتے ہیں ’آج ہمیں جس صورت حال کا سامنا ہے وہ نفرت کی پیداوار ہے۔ پشتو شاعری میں امن اور محبت کے بلند نظریات کو اپنا کر ہی ہم اپنی سرزمین پر امن قائم کرسکتے ہیں۔‘

مینگورہ کی رہائشی خاتون زینب بی بی نے بتایا کہ عسکریت پسندی کے دوران خواتین ذیادہ متاثر ہوئی ہیں اور ان کے گھروں سے نکلنے پر پابندی بھی ہے جبکہ ان کے سکولوں کو بموں سے تباہ کیاگیا۔

ان کے مطابق پشتو شعرا دہشت گرد کاروائیوں پر جس طرح لعن طعن کرتے ہیں اور جس طریقے سے امن اور محبت کا پرچار کرتے ہیں وہ قابل قدر ہے۔

اسی بارے میں