طالبان دور میں بھی قائم رہنے والا سنیما

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سنیما میں شائقین کے لیے آٹھ سو کے قریب نشستیں موجود ہیں

’سوات سنیما‘ پاکستان کے ضلع سوات میں واقع ملاکنڈ ڈویژن کا واحد اور قدیم ترین سینما ہے۔

50 برس قبل قائم کیے جانے والے اس سنیما کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ایک ایسے وقت میں بھی قائم رہا جب سوات کے بازاروں میں جہادی ترانوں کی گونج سنائی دیتی تھی اور سی ڈیز مارکیٹوں کو بموں سے اڑایا جا رہا تھا۔

سوات سینما کے مینجر فضل خالق نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیما طالبان کے عروج کے دور میں تین سال تک بند تو رہا لیکن امن کی بحالی کے بعد اب ایک بار پھر سوات کے لوگوں کے لیے تفریح کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ سنہ 1964 میں والی سوات میاں گل عبدالحق جہانزیب نے اس سینما کا افتتاح کیا تھا اور اس میں پہلی ہندی فلم ’آبِ حیات‘ لگی تھی جس سے والی سوات خود بھی اپنے وزیروں کے ہمراہ لطف اندوز ہوئے تھے۔

اس سنیما میں شائقین کے لیے آٹھ سو کے قریب نشستیں موجود ہیں اور انتظامیہ کے مطابق عموماً پانچ سو افراد یہاں ایک شو میں فلم دیکھنے آتے ہیں۔

سوات میں طالبان کے سابق ہیڈ کوارٹر پیو چار سے آئے ہوئے تین نوجوان یہاں لگی پشتو فلم دیکھنے کی خواہش لیے سنیما کا گیٹ کھلنے کے منتظر نظر آئے۔

وہ اس حقیقت سے مکمل طور پر آگاہ تھے کہ اندر جانے پر ان کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے تاہم ان کے لیے یہ خوشی زیادہ تھی کہ انھیں ایک بار پھر تفریح کے مواقع میسر آ رہے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک شدت پسند صوبہ خیبر پختونخوا میں چھ سو سے زائد سی ڈیز شاپس کو بم سے اڑا چکے ہیں۔

طالبان کے دور میں کشیدہ حالات کے دوران موسیقی کا کاروبار انتہائی خطرناک بن چکا تھا مگر طالبان کی شکست کے بعد اب ایک مرتبہ پھر اس میں تیزی آئی ہے۔

سوات کے مقامی دکاندار کے مطابق پشتو فلموں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے جس پر وہ بہت خوش ہے کیونکہ یہ نہ صرف ان کی ثقافت کا حصہ بلکہ آمدنی کا ایک ذریعہ بھی ہے۔

اسی بارے میں