بھارت کیوں فلموں پر پابندی لگاتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کانگرس کا ’قوم دے ہیرے‘ کے بارے میں موقف ہے کہ یہ فلم قاتلوں کو ہیرو بنا کر پیش کررہی ہے

بھارت میں سابق وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کے قتل پر بننے والی فلم پر حالیہ تنازعے جیسے واقعات پہلے بھی رونما ہو چکے ہیں۔

کانگرس پارٹی نے صوبہ پنجاب میں گذشتہ دنوں ریلیز ہونے والی فلم ’قوم دے ہیرے‘ کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

کانگریس کا موقف ہے کہ یہ فلم اندرا گاندھی کا قتل کرنے والے ان سکھ باڈی گارڈز کو مثبت انداز میں پیش کرتی ہے جنھوں نےگولڈن ٹیمپل میں فوج بھیجنے پر فائرنگ کر کے اندرا گاندھی کو ہلاک کر دیا تھا۔

بھارت کے خفیہ اداروں نے اس فلم کے بارے میں خبردار کیا تھا کہ اگر یہ ریلیز ہوئی تو اس سے تشدد کے واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ 1984 میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد پورے بھارت میں سکھوں کے خلاف فسادات شروع ہوگئے تھے جس میں 3000 کے قریب سکھوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔

کانگریس کا ’قوم دے ہیرے‘ کے بارے میں موقف ہے کہ یہ فلم قاتلوں کو ہیرو بنا کر پیش کر رہی ہے جبکہ فلم بنانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ بالکل غلط ہے اور یہ صرف سیاسی قتلِ عام پر بننے والی ایک فلم ہے۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ کانگریس فلموں میں اپنے رہنماؤں کو دکھانے کے موضوع کو لے کر بہت جذباتی ہو جاتی ہے۔

1975 میں اندرا گاندھی کی زندگی پر مبنی فلم ’آندھی‘ کو بھی اس وقت کی کانگریس کی حکومت نے جزوی ریلیز کی اجازت دی تھی۔

جبکہ 1977 میں طنزیہ فلم ’قصہ کرسی کا‘ کو بھی پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کی وجہ سے اس فلم کے پرنٹ کو بھی ضائع کر دیا گیا تھا۔

جبکہ آٹھ سال پہلے کانگریس حکام نے اندرا گاندھی کی زندگی پر بننے والی ایک فلم کی نمائش کرنے والے افراد کو قانونی نوٹس بھجوایا تھا۔ کانگریس کا خیال تھا کہ اس فلم میں غلطیاں ہو سکتی ہیں۔

فلموں کے ناقد سبھرا گپتا کا کہنا ہے کہ سیاسی شخصیات کے ساتھ ایک ’مقدس گائے‘ کی طرح کا سلوک کیا جاتا ہے اور ان پر فلموں میں تنز نہیں کیا جاتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دیپا مہتا حساس موضوعات پر فلمیں بنانے کے لیے مقبول ہیں

1994 میں مشہور بھارتی ڈاکو پھولن دیوی کی زندگی پر بننے والی فلم پر ریپ کے مناظر اور تحقیر آمیز مناظر کی وجہ سے پابندی عائد کردی گئی تھی۔

اس کے اگلے ہی برس مذہبی فسادات کے تناظر میں منی رتنام کی فلم ’بومبے‘ کو بھی مشکالات کا سامنا کرنا پڑا۔

1998 میں دیپا مہتا کی فلم ’فائر ‘جب نمائش کے لیے پیش کی گئی تو متعدد مذہبی انتہا پسند گروہوں نے سیمنا گھروں پر دھاوا بول دیا۔ یہ فلم عورتوں کی ہم جنس پرستی پر مبنی تھی۔

دو سال بعد دیپا مہتا کی ہی فلم ’واٹر‘ کے سیٹ کو ان ہی گروہوں نےنقصان پہنچایا تھا۔ یہ فلم بھارت ہندوؤں کے مقدس شہر وارانسی میں بن رہی تھی۔

اس گروہ کا کہنا تھا کہ یہ فلم ایک مقدس شہر کو ایک غلط انداز میں پیش کر رہی ہے۔دیپا مہتا کو اس فلم کے کچھ حصے کی دوبارہ شوٹنگ سری لنکا میں کرنی پڑی۔

سماجی تجزیہ کار شیو وشوناتتھن کا کہنا ہے کہ فلموں پر پابندی ایک ایسے ملک میں مزید بے چینی پیدا کر رہی جہاں لوگوں نے حساس موضوعات کو روزگار بنایا ہوا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کانگریس اس بات پر بہت سنجیدہ ہو جاتی ہے جب فلمیں ان کی لوک کہانیوں سے پردہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں۔

ان کے مطابق فلموں میں قومی رہنماؤں پر تنقید ہرگز برداشت نہیں کی جاتی اور سرکاری روایات سے ہٹ کر کچھ بیان کرنے کو خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔

وشوناتتھن کے مطابق’یہ ایک نئی طرز کا حربہ اور صاف سنسرشپ ہے۔ بھارت عدم رواداری کے معاشرے میں تبدیل ہو رہا ہے۔‘

دنیا کی سب سے بڑی فلمی صعنت بالی وڈ کے بارے میں ناقدین کا خیال ہے کہ یہ حقیقی اور سنجیدہ موضوعات پر فلم بنانے کے بجائے آسان موضوعات کو ترجیح دے رہی ہے۔

اسی بارے میں