بھارت میں اندرا گاندھی کے قتل پر فلم پر پابندی

Image caption فلم کے پیش کار روندر سنگھ نے اپنی فلم کا متعدد بار سختی کے ساتھ دفاع کیا ہے تاہم اب تک انھوں نے اس تازہ ترین فیصلے پر اپنا ردِ عمل ظاہر نہیں کیا

بھارت میں سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل پر مبنی ایک فلم کے بارے میں اس شکایت کے بعد فلم پر پابندی عائد کر دی گئی ہے کہ اس میں قاتلوں کو ہیرو بنا کر پیش کیا گیا ہے۔

بھارتی خفیہ اداروں نے اس فلم کی ریلیز سے ممکنہ تشدد کا عندیہ دیا ہے۔

فلم ’قوم دے ہیرے‘ جمعے کے روز ریلیز ہونا تھی۔

فلم میں اندرا گاندھی کے سکھ محافظوں کی کہانی بیان کی گئی ہے جس میں بظاہر انھوں نے وزیراعظم کو گولڈن ٹیمپل پر فوجی کارروائی کے احکامات دینے کی پاداش میں قتل کر دیا تھا۔

اس واقعے میں جب فوج سکھوں کے مقدس ترین مقام میں داخل ہوئی تو ہزاروں سکھ ہلاک ہوئے تھے۔

اندرا گاندھی کے قتل کے بعد بھارت میں نسلی فسادات کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا اور ملک بھر میں کم از کم 3000 سکھوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق جمعرات کی شب بھارت میں ریلیز ہونے والی فلموں کے نگراں ادارے سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن نے ’امن و امان کی ممکنہ کشیدہ صورتحال‘ کے پیشِ نظر فلم کی ریلیز روک دی۔

فلم کے پیش کار روندر سنگھ نے اپنی فلم کا متعدد بار سختی کے ساتھ دفاع کیا ہے تاہم اب تک انھوں نے اس تازہ ترین فیصلے پر اپنا ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔

بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے روندر سنگھ نے کہا کہ انھوں نے فلم بنانے سے پہلے اس قتل کے مقدمے اور بعد میں انکوائری رپورٹ کی باریک بینی سے چھان بین کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ میں نے ستونت اور بےانت سنگھ کے گھر والوں کے ساتھ بہت وقت گزارا۔

ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں سیاسی قتلوں کے بارے میں فلمیں بنتی ہیں تو اندرا گاندھی کے قتل کے بارے میں فلم کیوں نہیں بن سکتی۔

تاہم اندرا گاندھی کی جماعت کانگریس نے فلم کی ریلیز کی صورت میں پنجاب میں مظاہرے کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ پارٹی کے یوتھ ونگ نے وزیراعظم مودی کو ایک خط بھی لکھا ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ اس فلم پر پابندی لگا دی جائے۔

اسی بارے میں