برقع یا بکینی:مغرب میں مسلم لڑکی کی الجھن

Image caption ’برق آف‘ ایک ایسی مسلم لڑکی کی آب بیتی ہے جو دو ثقافتوں اور اپنے ماحول کی منافقتوں کا شکار ہوئی

کامیڈی سٹیج شو ’برق آف‘ کہانی ہے مغربی ممالک میں پرورش پانے والی، نیویارک کے ایک آرٹ سکول سے فارغ التحصیل نادیہ منظور کی، جن کا تعلق پاکستان سے ہے۔

شو کی کہانی کار، فنکار اور پیش کار نادیہ اس شو میں اپنے پانچ برس کی عمر سے لے کر بیس برس تک دو ثقافتی دنیاؤں اور اپنے گھر میں تضادات میں گھرے سفر کی کہانی بیان کرتی ہیں۔

گھر اور سکول سے لے کر یونیورسٹی تک کی زندگی کے مختلف مراحل میں جو مختلف کردار ان کی زندگی آتے اور جاتے رہے وہ سب کردار نادیہ نے خود ہی ادا کیے ہیں۔

نادیہ کہتی ہیں کہ ان کے گھر کا ماحول تضادات کا شکار تھا، مثلا نادیہ کے لیے والد کی ہدایات تھیں کہ وہ گھر سے باہر کسی لڑکے سے گفتگو نہ کریں۔

اس کے علاوہ نادیہ کی والدہ اپنی بیٹی کے ان پرتجسس سوالوں پر اسے مطمئن نہیں کر پاتی تھیں کہ جو کام اگر ایک لڑکی کے لیے غلط ہے تو اس کے بھائی کے لیے کیوں نہیں اور یہ کہ اس قسم کے اصول مذہب کے نام پر صرف لڑکیوں پر ہی کیوں تھوپے جاتے ہیں۔

نادیہ کے بقول ’گو کہ میں جھوٹ بولنا نہیں چاہتی تھی مگر اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے مجھے اپنے والد سے جھوٹ بولنا پڑا۔‘

نادیہ اس معاشرے میں ضم ہونے کے وہ سب کچھ کرگزرتی ہے، جو مقامی ثقافت میں تو کوئی معیوب بات نہیں، مگر وہ اسلامی نکتہ نگاہ سےگناہ کی مرتکب ہوتی ہے۔

وہ یونیورسٹی میں اپنے آئرش دوست سے جنسی تعلقات قائم کر لیتی ہیں اور اپنی والدہ کے وفات کے بعد اس خوف سے اس کے والد اور بھائی عزت کے نام پر اسے ہلاک نہ کرڈالیں، گھر سے فرار ہو جاتی ہیں۔

شو دیکھتے ہوئے مجھے محسوس ہوتا رہا ، نادیہ ہر اس بات کو چھیڑ رہی تھی جو یا تو خود میں نے بھی کسی مرحلے پر اپنی بیٹی سے کہی ہوگی یا دوسروں سے سنی تھی۔

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یوں تو سٹیج شو ایک ایسی مسلم لڑکی کی آب بیتی ہے جو دو ثقافتوں اور اپنے ماحول کی منافقتوں کا شکار ہوئی، اور جس نے اپنے خاندان کی ان روایات کے خلاف بغاوت کا فیصلہ کیا جو مذہب کے نام پراس پر تھوپی جا رہی تھیں۔

لیکن یہ بہت سے ایسے گھروں اور خاندانوں کی کہانی بھی ہے جو ایک بہتر زندگی، روزگار اور اپنے بچوں کے لیے اچھی تعلیم کی غرض سے برطانیہ آئے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔

یہ لوگ اپنی اقدار کو اتنی مضبوطی سے گلے لگائے رہے کہ اکثر خاندان یہاں پلنے والی اپنی آئندہ نسلوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

بہت سے تارکین وطن نے اپنی شناخت قائم رکھنے کے لیے اپنے بچوں کو دو دنیاؤں میں رکھا۔ ایک باہر کی دنیا جو انھیں ہر قسم کی آزادیوں کے باعث بہت رنگین نظر آتی ہے اور ان کے گھر کی دنیا جہاں انھیں ہر مرحلے پر اپنے والدین اور خصوصاً والد کے طے کردہ اصولوں کے مطابق زندگی گزارنی ہوتی ہے۔

نادیہ نے اسی کشمکش کو اجاگر کیا ہے۔

کثیر ملکی ناظرین کے درمیان شو دیکھتے ہوئے میں نادیہ کی اداکاری، تخلیقی صلاحتیوں اور اپنی روایات کو ہنسی اڑانے کے انداز میں اپنے والد، بھائی، دوسرے عزیزوں اور دوستوں کے سامنے یوں بے باکی سے پیش کرنے پراس کی جرات کی داد دیے بغیر نہ رہ سکی۔

مگر ’برق آف‘ دیکھ کر مجھے یوں بھی لگا کہ شو محض بین الاقوامی مارکیٹ کی توجہ حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے۔

شو کا فوکس سیکس رہا کہ مسلم گھرانوں میں لڑکیوں کو صرف شادی کے لیے ایک جنسی شے کے طور پر تیار کیا جا تا ہے یا یہ کہ مسلم گھرانوں میں بچوں سے یا ان کے سامنے سیکس یا جنسی تعلقات پر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ انھیں شادی سے قبل جنسی تعلقات قائم کرنے سے باز رکھا جاتا ہے۔ بچے چھپ چھپ کر اپنی جنسی تسکین کرتے ہیں اور بقول نادیہ کے اسی جنسی گھٹن کے باعث نئی نسل باغی ہورہی ہے۔

نادیہ نے مختلف کرداروں کی مدد سے اپنے ان تجربات کا ذکر کیا۔

ایسے شوز کے ذریعے اپنے معاشرتی تضادات کو سامنے لانا اور ان پر ہنسنا درست اور مذہب کے نام پر منافقتوں کو اجاگر کرنا ضروری صحیح مگر مغربی طرز معاشرت میں ضم ہونے کے لیے اپنی تہذیب کے بنیادی ’پیرامیٹرز‘ کی بےعزتی غیر مناسب لگی۔

اس قسم کے تخلیقی کامیڈی شوز اور ثقافتی ذریعے کو استعمال کر کے مغربی دنیا میں نئی نسل کے لیے دو مختلف ثقافتوں کے درمیان ایک پل تعمیر کیا جا سکتا ہے اور اگر اس معیار پر پرکھا جائے تو یہ شو پورا اترتا نظر نہیں آیا۔

اسی بارے میں