جنسی تفریق؟ دیپکا اور اخبار میں تنازع

  • سوتک بسواس
  • بی بی سی، انڈیا
،تصویر کا کیپشن

جنسی تفریق کے خلاف آواز اٹھانے پر دیپکا کو بہت سراہا گیا

بالی ووڈ کی اداکارہ دیپکا پاڈوکون اور بھارت کے سب سے بڑے اخبار دی ٹائمز آف انڈیا کے درمیان شروع ہونے والا تنازع ختم ہونے کے فی الحال کوئی امکانات نظر نہیں آ رہے۔

یہ تنازع تب شروع ہوا جب دی ٹائمز آف انڈیا نے دیپکا کے خط سینہ کے بارے میں نہ صرف ٹویٹ کی بلکہ تصویر بھی چھاپ دی۔

اخبار نے گذشتہ برس کی ایک تقریب میں لی گئی ایک تصویر سمیت ٹویٹ کی کہ ’او میرے خدایا، دیپیکا کے خط سینہ کا شو دیکھیے۔‘

دیپکا نے ردعمل میں غصّے سے ٹویٹ کی: ’ہاں میں ایک عورت ہوں، میری چھاتیاں بھی ہیں اور خط سینہ بھی۔‘

اس ٹویٹ کو سات ہزار مرتبہ ری ٹویٹ کیا گیا اور دیپکا کی حمایت کے لیے بنایا گیا ہیش ٹیگ IStandWithDeepikaPadukone# کئی گھنٹوں تک بھارت میں سب سے مقبول ٹرینڈ رہا۔

،تصویر کا کیپشن

دیپکا نے ٹویٹ کی: ’ہاں میں ایک عورت ہوں، میری چھاتیاں بھی ہیں اور خطہ سینہ بھی، کیا آپ کو کوئی مسئلہ ہے؟‘

اخبار نے تو یہ ٹویٹ ہٹا دی لیکن دیپکا کے جواب میں ٹویٹ کی کہ ’یہ تو آپ کی تعریف کی گئی تھی، آپ اتنی اچھی لگ رہی تھیں کہ ہم نے یقینی بنا دیا کہ ہر کسی کو آپ کی خوبصورتی کے بارے میں پتہ چلے۔‘

ظاہر ہے کہ اس جواب سے دیپکا سمیت بہت سے لوگ ناراض ہوئے۔

دیپکا نے اپنے فیس بک پر ایک لمبی پوسٹ لکھی کہ ’ایسے وقت میں جب عورت کو برابری کی بنیاد پر حقوق دینے کی جدوجہد کی جا رہی ہے، اب بھی قارئین کی توجہ حاصل کرنے کی لیے ایسے ہتھکنڈے اختیار کیے جاتے ہیں۔‘

’ مجھے اپنے جسم کے بارے میں بات کرنا معیوب نہیں لگتا اور میں کردار کو بہتر طور پر نبھانے کے لیے فلموں میں بھی ایسا کرنے سے شرم محسوس نہیں کرتی، لیکن میں صرف یہ کہنا چاہتی ہوں کہ فلموں سے ہٹ کر نجی حیثیت میں میری عزت کی جائے۔‘

ٹائمز آف انڈیا نے تو اس کے بعد پورا مضمون چھاپ ڈالا جس نے سوشل میڈیا پر لوگوں کا غصہ اور بڑھا دیا اور بہت سوں نے مضمون کو ’ٹویٹ کی طرح بدتمیزی‘ پر مبنی قرار دیا۔

،تصویر کا کیپشن

دیپکا کا شمار بالی ووڈ کی چوٹی کی اداکاراؤں میں ہوتا ہے

ٹائمز آف انڈیا دیپکا پر بے جا تنقید کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بہت سے اخبارات اور میڈیا نے دیپکا کے خط سینہ کی تصویر دکھائی اور اس پر بات بھی کی لیکن انھوں نے کچھ نہیں کہا۔

جنسی تفریق اور تعصب:

اخبار نے تسلیم کیا ہے کہ ان کی ہیڈ لائن بہتر ہو سکتی تھی۔

لیکن ان کا کہنا ہے کہ ’آن لائن کی دنیا اخبارات سے بہت مختلف ہے، سنسنی خیز ہیڈ لائنز وہاں خاصی عام ہیں۔‘

اخبار کا کہنا ہے کہ دیپکا سنسر شپ کو فروغ دے کر اپنی نئی فلم کی ریلیز سے پہلے زیادہ سے زیادہ شہرت حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

اخبار نے سوالات اٹھایا کہ کیا اداکاراؤں کی پبلک تقاریب میں اتاری گئی تصاویر کے لیے الگ سنسر بورڈ بنانا پڑے گا؟ اور کیا ان سے اجازت لینا پڑے گی کہ کون سی تصاویر شائع کی جائیں اور کون سی نہیں؟

بہت سے صحافیوں اور سماجی حقوق کے کارکنوں نے اخبار کے اس موقف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ صحافی کنیکا گھلوٹ نے ٹویٹ کی کہ دیپکا جس طرح کے کپڑے پہنے، یہ اس کی مرضی لیکن کیا ہمیں ان پر اس طرح کی تنقید کرنے کا حق ہے؟

انھوں نے دیپکا کی تعریف کی کہ اخبار کی جنسی تفریق پر مبنی کوریج کے خلاف انھوں نے آواز اٹھائی لیکن ساتھ ہی انھوں نے امید ظاہر کی کہ دیپکا اب عورت کو ’سیکس سمبل‘ کے طور پر پیش کرنے والی اشتہارات میں کام نہیں کریں گی۔

یہ تنازع اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ تمام دنیا میں میڈیا اور فلم سٹارز کے درمیان تعلقات دو دھاری تلوار ہے۔