’جو تنقید کر رہے ہیں وہ بھی ضرور دیکھیں گے‘

Image caption فلم میں سب سے زیادہ جس چیز نے دیکھنے والوں کو’ کلک‘ کیا وہ آئٹم نمبرہے:مہوش حیات

ڈراموں اور فلم میں منفرد اور غیر روایتی کردار کی تلاش نے پاکستان کی نامور ماڈل مہوش حیات کو آئٹم گرل بنا دیا۔

عیدالاضحیٰ پر ریلیز ہونے والی فلم ’نامعلوم افراد‘ فلم میں روایتی میلوں پر لگنے والے موت کے کنویں کے تختوں پر مہوش حیات نے ’میں ہوں بلی‘ نامی گیت پر رقص کیا ہے۔

نامعلوم افراد ایک ’مزیدار فلم‘

اس گیت نے فلم کی ریلیز سے قبل ہی مقبولیت حاصل کرلی ہے۔ یہ گیت صائمہ اقبال نے گایا ہے جو اس سے پہلے مصنوعات کی تشہیر کے لیے گایا کرتی تھیں۔

مہوش حیات کہتی ہیں کہ یہ گیت ایک بڑی ذمہ داری تھی، ان کی کوشش تھی کہ اس میں کوئی کسر نہ رہ جائے، اس کے لیے انہوں نے چھ روز تک پریکٹس کی اور چار دن شوٹنگ میں لگ گئے۔

’لکڑی کا فرش تھا جس کی وجہ سے پیر میں چھالے پڑگئے، اندازہ کریں کہ شام چھ بجے شوٹنگ شروع کرتے تھے اور صبح کے چھ بج جاتے تھے، پوری پوری رات کا سیکوئنس تھا۔ یہ تجربہ بہت دشوار تھا لیکن میں نے اسے خوب لطف اٹھایا کیونکہ مجھ رقص سے جنون کی حد تک عشق ہے۔‘

پاکستان کی فلمی دنیا میں حالیہ دنوں آئٹم نمبر کا یہ دوسرا تجربہ ہے اور اس سے پہلے ’میں ہوں شاہد آفریدی‘ میں اداکارہ متھیرا نے ایک گیت پر رقص کیا تھا۔

مہوش حیات کہتی ہیں کہ آئٹم نمبر شروع ہی سے پاکستان کی فلمی صنعت میں رہے ہیں چاہے 1970 کی دہائی کی فلمیں ہوں یا 1980 کی دہائی میں بننے والی فلمیں۔ صرف گیتوں کی پیشکش تھوڑی مختلف ہوتی جا رہی ہے۔‘

ان کے مطابق ’جب انڈیا میں ایسے گیت بن رہے ہیں تو لوگ ان کا موازنہ کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ انڈیا کی نقل ہو رہی ہے۔‘

مہوش حیات کہتی ہیں کہ اس فلم میں سب سے زیادہ جس چیز نے دیکھنے والوں کو’ کلک‘ کیا وہ آئٹم نمبرہے۔

’فلم کے ٹریلر میں گانے کی جھلک صرف تین سیکنڈ کی تھی تھا لیکن سب نے آئٹم نمبر دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔لوگوں میں بہت زیادہ تجسس تھا جہاں بھی نامعلوم افراد کی بات ہوتی ہے تو آئٹم نمبر ضرور زیر بحث آتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آئٹم نمبر شروع ہی سے پاکستان کی فلمی صنعت میں رہے ہیں: مہوش حیات

مہوش کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کے تاثرات منفی اور مثبت دونوں طرح کے ہی ہیں، جو لوگ منفی رد عمل کا اظہار کر رہے ہیں وہ بھی جاکر دیکھیں گے ضرور۔ لوگ اچھائی اور برائی دونوں ہی کرتے ہیں لیکن مجھے دل سے کام کرنا ہے اور امید ہے کہ لوگ یاد رکھیں گے کیونکہ محنت بہت کی ہے۔‘

مہوش حیات نے اپنے کریئر کی ابتدا بطور ماڈل کی تھی بعد میں انہوں نے ڈراموں کی دنیا میں قدم رکھا۔ ان کے مطابق انہوں نے جہاں بھی کام کیا ہے وہاں ٹرینڈ سیٹ کیا ہے، ان کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ کچھ نیا یا منفرد کریں کیونکہ ہر وقت وہ ایک جیسے کردار نہیں کر سکتیں۔

’ڈراموں میں ہمارے یہاں مظلوم بہن، بھابھی، بیوی اور ماں کے کردار ہوتے ہیں لیکن فلم میں یہ موقع ہے کہ آپ مختلف تجربات کر سکتے ہیں اور نامعلوم افراد نے یہ موقع فراہم کیا۔ فلم کرنا ہر اداکار کا خواب ہوتا ہے اور میں یہ کرنا چاہتی تھی، آئندہ بھی میں کوئی نیا تجربہ کروں گی۔‘

مہوش پاکستان میں کسی اداکارہ سے متاثر نہیں جبکہ بالی ووڈ کا وہ ذکر نہیں کرنا چاہتیں تاہم وہ امریکی سنگر اور ڈانسر بیونسے اور میڈونا کی مداح ہیں۔

ان کی خواہش ہے کہ کچھ ہپ ہاپ ڈانس بھی کریں کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ وہ اداکاری کے علاوہ ڈانس سے بھی اپنے چاہنے والوں کو تفریح فراہم کرسکتی ہیں۔

اسی بارے میں