ساتویں عالمی اردو کانفرنس میں ’شامِ شعر یاراں‘

Image caption پریس کانفرنس کے موقع پر نائب صدر محمود احمد خان، خازن ڈاکٹر ہما میر، جوائنٹ سیکرٹری شہناز صدیقی، پروفیسر سحر انصاری اور دوسرے عہدیدار بھی موجود تھے

آرٹس کونسل کراچی میں جمعرات 16اکتوبر سے شروع ہونے والی چار روزہ عالمی اُردو کانفرنس میں شرکت کیلئے دنیا بھر سے عالمی مندوبین کی آمد کا سلسلہ آئندہ چند روز میں شروع ہو جائے گا۔

اس بار پھر کانفرنس میں ہندوستان کے علاوہ امریکہ، کینیڈا، مصر، ترکی، ناروے، فن لینڈ اور دیگر ممالک سے ادیب، شعرا و دانشور شرکت کریں گے۔

آرٹس کونسل کے سیکرٹری محمد احمد شاہ نے پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کو اردوکانفرنس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس بار بھی ہندوستان سے نامور شاعر جاوید اختر سمیت پندرہ نامور ادیب و شعرا تشریف لا رہے ہیں۔

احمد شاہ نے مزید بتایا کہ اس بار عالمی اُردو کانفرنس میں پہلی بار عالمی مشاعرہ بھی شامل کیا گیا ہے جس میں دنیا بھر کے نامور شعرا کلام پیش کریں گے۔

کانفرنس میں اس بار کلاسیکی رقص اور محفلِ موسیقی کو شامل کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ داستان گوئی اور معروف صداکار و اداکار ضیا محی الدین کا بھی خصوصی سیشن ہو گا۔

انہوں نے بتایا کہ کانفرنس کے پہلے روز معروف مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کی نئی کتاب ’شام شعرِ یاراں‘ کی تقریب اجرا بھی ہو گی۔ مشتاق احمد یوسفی کی یہ پانچویں کتاب ہے۔

اس پہلے ان کی چار کتابیں چراغ تلے 1961، خاکم بہ دہن 1969، زرگزشت 1976 اور آبِ گُم 1990 میں شائع ہو چکی ہیں۔

اس موقع پر آرٹس کونسل کے صدر پروفیسر اعجاز فاروقی کا کہنا تھا کہ ساتویں اُردو کانفرنس میں اُردو اور پاکستانی زبانوں کے رشتوں، ذرائع ابلاغ اور زبان، ترقی پسند تحریک کے اُردو ادب پر اثرات، اُردو ڈرامہ روایات اور مسائل اور خطے میں امن کے مسائل پر سیشن ہوں گے۔

کانفرنس میں حالی و شبلی کے صد سالہ جشن کے حوالے سے بھی خصوصی اجلاس ہوں گے جب کہ یادِ رفتگان میں احمد ندیم قاسمی، شفیع عقیل، سلیم احمد، سرشار صدیقی، محبوب خزاں اور صادقین کو خراتحسین پیش کیا جائے گا۔

پریس کانفرنس کے موقع پر نائب صدر محمود احمد خان، خازن ڈاکٹر ہما میر، جوائنٹ سیکرٹری شہناز صدیقی، پروفیسر سحر انصاری اور دوسرے عہدیدار بھی موجود تھے۔

اسی بارے میں