فلموں سے ریٹائرمنٹ امیتابھ کے کریئر کا بدترین دور

Image caption مارک مینوئل کا کہنا ہے کہ 1992 میں 50 سال کا ہونے کے ساتھ ہی وہ کم فعال رہنے لگے تھے

میں امیتابھ بچن کو ایک پرستار اور دوست کے طور پر طویل عرصے سے جانتا ہوں۔ میں ہمیشہ ان کا مداح رہا اور اب بھی ہوں۔

میں نے انھیں 1972 میں محمود کی فلم ’بامبے ٹو گوا‘ میں سب سے پہلے دیکھا اس کے بعد 1992 میں ’خدا گواہ‘ تک ان کی فلمیں دیکھتا رہا۔

اس کے بعد انھوں نے کام کرنا بند کر دیا۔ ٹھیک اسی وقت میری ان سے جان پہچان ہوئی۔

ایسا لگ رہا تھا جیسے بچن ریٹائر ہونے والے ہیں۔ پتہ نہیں ایسا کیوں تھا؟ وہ تو محض 50 سال کے تھے۔

کسی کی زندگی میں عمر کا یہ پڑاؤ میل کا پتھر ثابت ہوتا ہے، لیکن عمر ان پر بڑی مہربان تھی۔

وہ عمر کی 72 بہاریں دیکھنے کے باوجود ابھی بھی تازہ دم لگتے ہیں اور ہر جگہ دھوم مچا رہے ہیں۔

Image caption اس عمر میں وہ پہلے سے زیادہ زندہ دل نظر آنے لگے ہیں

لیکن 1992 میں 50 سال کا ہونے کے ساتھ ہی وہ کم فعال رہنے لگے تھے۔

یہ سچ بھی تھا کہ اب ان میں وہ ’اینگری ینگ مین‘ والی بات نہیں رہی تھی جسے انھوں نے’زنجیر‘، ’دیوار‘ اور ’ترشول‘ جیسی فلموں میں بہترین اداکاری کے ساتھ قائم کیا تھا۔.

حیرت اس بات کی تھی کہ فلم انڈسٹری بچن کو خود ہی ریٹائر ہونے کا موقع دے رہی تھی جبکہ ان میں کئی سال تک سنیما کے پردے پر چھائے رہنے کا مادہ ابھی بچا ہوا تھا۔

میرے خیال میں وہ اپنی زندگی کے ایسے دور سے گزر رہے تھے جس میں کچھ بھی واضح نہیں تھا۔ فلموں سے وہ تھک چکے تھے۔ وہ ایک وقفہ چاہتے تھے۔

Image caption رواں سال سنیچر کو امیتابھ بچن 72 سال کے ہو گئے

انھوں نے کاروبار کے میدان میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا۔

بدقسمتی سے ان کی کمپنی امیتابھ بچن کارپوریشن لمیٹڈ (اے بی سی ایل) کامیاب نہیں رہی۔ انھیں مالی بحران سے گزرنا پڑا۔

بچن نے خود کو جوہو والے گھر پرتیکشا یعنی ’انتظار‘ کی دیواروں تک محدود کر لیا۔

انہوں نے مونچھیں اور داڑھی رکھنے، کرتا پاجاما پہننے کے ساتھ شال اوڑھنا شروع کر دیا۔ کئی لوگوں نے یہ بھی کہنا شروع کر دیا کہ وہ عمر دراز نظر آنے لگے ہیں۔

حیران کن بات یہ ہے کہ 72 سال کا ہونے کے بعد بچن اب اتنے بزرگ نہیں لگتے جتنے وہ 22 سال پہلے نظر آنے لگے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Manoj Kumar
Image caption امیتابھ کی واپسی تو ہوئی لیکن اینگری ینگ مین کی شبیہ واپس نہ آسکی

اس دور میں لوگوں نے بھی انھیں خارج کردیا تھا۔ اچانک ان کے پاس کوئی فلم بھی نہیں رہی۔

اپنے اس ریٹائرمنٹ کے دور کے بعد بچن نے ’مرتيو داتا’، ’بڑے میاں چھوٹے میاں’ اور ’لال بادشاہ‘ جیسی فلموں سے ایک بار پھر واپسی کی لیکن باکس آفس پر ان کا پرانا جادو نہیں چل پایا۔

دراصل، وہ اچھی فلمیں نہیں تھیں۔ فلم انڈسٹری نے پس پشت ہنسنا شروع کر دیا اور ان کے لیے دروازے بند ہونے لگے۔ میرے خیال سے یہ ان کی زندگی کا سب سے خراب دور تھا۔

اسی بارے میں