مین بُکر پرائز رچرڈ فلینگن نے جیت لیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رچرڈ فلینیگن نے اپنے ناول ’دی نیرو روڈ ٹو ڈیپ نارتھ‘ کو لکھنے میں 12 سال صرف کیے اور یہ ان کا چھٹا ناول ہے

آسٹریلیا کے رچرڈ فلینیگن نے اپنے ناول ’دی نیرو روڈ ٹو ڈیپ نارتھ‘ کے لیے مین بکر پرائز جیت لیا ہے۔ زمانہ جنگ سے متعلق لکھے جانے والے اس ناول کے لیے انھیں50 ہزار پاؤنڈ بطور انعام ملے ہیں۔

ججوں کے مطابق ’یہ محبت کی ایک غیر معمولی داستان کے ساتھ انسانی تکالیف اور دوستی کی کہانی ہے۔‘

فلینیگن کا یہ ناول جنگ عظیم دوم کے دوران ’تھائی لینڈ برما ڈیتھ ریلوے‘ کی تعمیر کے تناظر میں لکھا گیا ہے۔

لندن کے گِلڈہال میں 53 سالہ فلینیگن نے مین بکر پرائز برطانوی شہزادہ چارلس کی اہلیہ ڈچس آف کارن وال کے ہاتھوں وصول کیا۔

فلینیگن نےاس موقعے پر اپنے تاثرات میں کہا کہ آسٹریلیا میں اس انعام کو لاٹری کی مانند سمجھا جاتا ہے۔

انھوں نے یہ ناول اپنے والد کی زندگی سے متاثر ہو کر لکھا تھا جو جنگِ عظیم دوم میں جاپان میں قیدی بنے مگر وہ زندہ بچ جانے والوں میں شامل تھے۔ ان کا انتقال 98 برس کی عمر میں ٹھیک اسی روز ہوا جب فلینیگن نے اپنا ناول مکمل کیا۔

جاپان نے بینکاک اور رنگون کےدرمیان 1943 میں ریل کی تعمیر کی جس کا مقصد جنگ میں مصروف اپنی افواج کو مدد فراہم کرنا تھا۔ ریلوے کو فعال کرنے کے لیے جاپان نے جنگی قیدیوں سے جبری مشقت کروائی اور اس دوران ایک لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔

بی بی سی سے گفتگو میں فلینیگن نے بتایا کہ ان کا مقصد اپنے والد کی کہانی لکھنا نہیں تھا، لیکن یہ درست ہے کہ وہ اپنے والد کےتجربات کی بنیادی اور روحانی سچائی بیان کرنا چاہتے تھے۔

’انھیں مجھ پر اعتماد تھا، انھوں نے مجھ سے کہانی کے متعلق کبھی کچھ نہیں پوچھا لیکن میں ان سے اکثرچھوٹی چھوٹی چیزوں کے متعلق بات کرتا تھا: مٹی کیسی تھی، جب بھوکے ہوتے تھے تو خراب چاولوں کا ذائقہ کیسا لگتا تھا، دماغ اور پیٹ میں بھوک کا احساس کیسا ہوتا تھا۔‘

فلینیگن کا کہنا تھا کہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں حالات کے متعلق سچائی ملتی تھی۔

پروفیسر گریلنگ کے مطابق ججوں نے اس انعام کا فیصلہ کرنے کے لیے تین گھنٹے تک بحث کی۔

وہ کہتے ہیں کہ ادب کے دو بنیادی موضوعات جنگ اور محبت سے متعلق یہ ایک حیران کن ناول ہے۔

’ غیرمعمولی شائستگی اور توانائی سے لکھی گئی یہ تحریر مشرق اور مغرب، ماضی اور حال کو جرم اور جرات کی کہانی کے ساتھ باہم ملاتی ہے۔‘

رچرڈ فلینیگن نے اپنے ناول ’دی نیرو روڈ ٹو ڈیپ نارتھ‘ کو لکھنے میں 12 سال صرف کیے اور یہ ان کا چھٹا ناول ہے۔

یہ کہانی جاپان کے جنگی قیدیوں کے کیمپ میں سرجن ڈوریگو ایوانز کے تجربات سے متعلق ہے جو اس قید سے دو سال قبل اپنے چچا کی نوجوان بیوی کی محبت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

رچرڈ فلینیگن کے پہلے ناول ڈیتھ آف اے ریور گائیڈ، دی ساؤنڈ آف ہینڈ کلپنگ اور دیگر ناول 26 ممالک میں شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے اپنے ناول ’دی ساؤنڈ آف ہینڈ کلیپنگ‘ کی کہانی پر بنی فیچر فلم میں بطور ہدایت کار خدمات سرانجام دیں۔

انھوں نے یہ کتاب اپنے والد کے نام کی ہے جو جاپان کی جنگ میں قیدی نمبر 335 تھے۔

ٹیلی گراف کے لیے اس ناول پر تبصرہ کرتے ہوئے کیتھرین ٹیلر نے کہا کہ رچرڈ فلینیگن کی تحریریں دریا کی مانند ہوتی ہیں، کبھی مٹی اور لاشوں سے اٹی ہوئی سیاہ اور کبھی چاند کی روشنی سے چمکتی ہوئی۔

’دی نیرو روڈ ٹو ڈیپ نارتھ‘ کو ’دی لائفز آف ادرز‘ کے بعد دوسری پسندیدہ ترین کتاب قرار دیا جا رہا تھا۔ نیل مکھرجی کی یہ تصنیف 1960 کی دہائی میں کلکتہ کی زندگی کے بارے میں ہے۔

اس مرتبہ اس ایوارڈ کو کسی بھی ملک کی شہریت سے قطع نظر انگریزی میں لکھنے والے تمام مصنفین کے عام کیا گیا تھا لیکن کچھ لکھنے والوں نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ شاید اس سے بکر انعام پر امریکی مصنفین کا غلبہ ہو جائے گا۔

اس ایوارڈ کے لیے کل نامزد ادیبوں کی حتمی فہرست میں چھ نام تھے، جن میں دو امریکی اور تین برطانوی اور ایک آسٹریلوی ادیب کا نام شامل تھا۔

گذشتہ سال یہ ایوارڈ 28 سالہ ایلینور کیٹن کے ناول ’دا لومینریز‘ ملا تھا۔ کیٹن کا تعلق نیوزی لینڈ سے ہے اور وہ مین بکر حاصل کرنے والی سب سے کم عمر مصنفہ ہیں۔

۔

اسی بارے میں