’اردو کو تحریک پاکستان کے رہنماؤں نے نقصان پہنچایا‘

Image caption معروف افسانہ نگار و کالم نگار زاہدہ حنا ’اردو کا جدید ناول اور افسانہ‘ کے عنوان سے ہونے والے اجلاس میں معاصر افسانے میں عورت کی آواز پر بات کی

اردو کے ممتاز فکشن نگار انتظار حسین نے کہا ہے کہ تحریکِ پاکستان کے رہنما نہیں دیکھ سکے کہ اردو کو قومی زبان بنانے کے نتائج کیا ہوں گے۔ وہ کراچی میں جاری ساتویں عالمی اردو کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری چار روزہ ساتویں عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے روز پانچ اجلاس ہوئے اور اختتام محفلِ موسیقی پر ہوا۔

دوسرے روز کے پہلے اجلاس کا موضوع ’اردو کا جدید ناول اور افسانہ‘ تھا جس سے خطاب کرتے ہولیے مقررین نے کہا کہ ناول اور افسانہ آج کے جدید دور میں ادب کے لیے ناگزیر صنف بن گیا ہے۔

اجلاس کی مجلسِ صدارات انتظار حسین، عبداللہ حسین، مستنصر حسین تارڑ، اسد محمد خان، مسعود اشعر، نجم الحسن رضوی، انیس اشفاق، زاہدہ حنا، فرحت پروین پرمشتمل تھی جب کہ نظامت کے فرائض عرفان جاوید نے انجام دیے۔

معروف افسانہ نویس زاہد ہ حنا نے کہا کہ افسانے کی دنیا میں خواتین نے ان اہم اور تلخ موضوعات پر بھی لکھا ہے جن پر لکھتے ہوئے مرد قلم کار بھی گھبراتے ہیں۔

نجم الحسن رضوی کا کہنا تھا کہ نقاد آگے اور افسانہ پیچھے رہ گیا ہے۔

مبین مرزا نے کہا کہ آج کا قاری افسانے میں معاشرے کی ذہنی ساخت دیکھنا چا ہتا ہے۔

ڈاکٹر امجد طفیل نے کہا کہ اردو ناول کا عہد زریں قیام پاکستان کے بعد سے شروع ہوتا ہے۔ادب کا کام سیاسی و سماجی صورت حال کی عکاسی کرنا ہو تا ہے۔

لکھنو سے آئے ہوئے افسانہ نگار انیس اشفاق نے کہا کہ ہندوستان میں انسانیت کا استحصال افسانے کا خاص موضوع بن گیا ہے۔

ممتاز افسانہ نگار اخلاق احمد نے کہا کہ آج کے اردو افسانے کو اپنے خوف پر قابو پانا ہوگا۔ ہمیں اصل اورپوری کہانی لکھنی ہوگی۔

عنبرین حسیب عنبر کا کہنا تھا کہ اکیسویں صدی ناول کی صدی ہو گی مگر افسانہ بھی اپنی پوری قوت اور شنا خت کے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔

Image caption ممتاز افسانہ نگار انتظار حسین ’اردو کو درپیش مسائل اور اُس کا مستقبل‘ کے عنوان سے ہونے والے اجلاس کے صدر الصدور تھے

’اردو زبان کو درپیش مسائل اور اس کا مستقبل‘ کے موضوع پر ہونے والے سیشن کے صدر الصدور ممتاز فکشن نگار انتظار حسین نے کہا کہ اردو کو سب سے زیادہ نقصان تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں نے پہنچایا وہ یہ نہیں دیکھ سکے کہ اردو زبان کو قومی زبان بنانے کے نتائج کیا ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا بابائے اردو مولوی عبدالحق جب پاکستان آ گئے تو بھارت والے پریشان ہوگئے کہ ہماری اردو کا اب کیا بنے گا؟ تویہاں لوگوں نے برجستہ کہا کہ فکر کی بات نہیں وہاں اردو کے لیے لتا منگشیگتر موجود ہیں۔

سنیئیر براڈ کاسٹر ر ضا علی عابدی نے کہا کہ جب تک ہرگھر میں پانچ پانچ بچے پیدا ہوتے رہیں گے اردو کو کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔

بھارت سے آئے مندوب ڈاکٹر قاضی افضال حسین نے کہا کہ ہم نے یہ تصور کر لیا ہے کہ گلوبلائزیشن پر گرفت کرلیں گے مگر ہم نہیں جانتے کہ اس کوشش میں ہم گلو بلائزیشن کا شکار ہو چکے ہیں۔

ڈاکٹر انعام الحق جاوید کا کہنا تھا کہ اردو کی طاقت ہے کہ سیاست دانوں تک سب اردو بولتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ذریعہ تعلیم ابھی تک سو فیصد اردو نہیں ہو سکا۔

ڈاکٹر ناصر عباس نیئر کا کہنا تھا کہ اردو کی بقا کے لیے اردو میں تراجم کا کام زیادہ ہونا چاہیے۔ قومی سطح پر تراجم کا شعبہ ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر فاطمہ حسن کا کہنا تھا کہ غیرسرکاری ادارے اپنا کام اپنی حد سے بڑھ کر کر رہے ہیں لیکن سرکاری سطح سے ان اداروں کو بھر پور توجہ ملنی چاہیے۔

ڈاکٹرنجیبہ عارف نے اس معاملے پر توجہ دلانے کی کوشش کی کہ جامعات میں زبان سے زیادہ توجہ ادب پر دی جاتی ہے اور نتیجہ یہ ہے کہ جامعات کے فارغ التحصیل درست اردو میں درخواست تک نہیں لکھ پاتے۔

اس اجلاس کی نظامت فراست رضوی نے کی۔

بیادِ رفتگاں کے عنوان سے ہونے والے تیسرے اجلاس میں معروف ادیب شاعر کالم نگار عطاالحق قاسمی نے احمد ندیم قاسمی پر بات کی اور کہا کہ ان میں انکسار ی کوٹ کوٹ کر بھر ی ہوئی تھی اور حس مزاح بہت زبردست تھی۔

اس اجلاس میں شفیع عقیل پر احفاظ الرحمن کا مضمون علی احمد خان نے پڑھا۔ جاذب قریشی نے سلیم احمد کی شخصیت کا جائزہ لیا۔ اظہر عباس ہاشمی نے سرشار صدیقی کو یاد کیا۔ ڈاکٹر آصف فرخی نے محبوب خزاں کے بارے میں بات کی اور مصور شاہد رسام نے صادقین کے نقوش تازہ کیے۔ اجلاس کی نظامت نصرت علی نے کی۔

Image caption عطاالحق قاسمی نے ’بیادِ رفتگاں‘ کے عنوان سے ہونے والے اجلاس میں احمد ندیم قاسمی کو یاد کیا

’اردو کی نئی بستیاں اور تراجم کی روایت‘ کے عنوان سے ہونے والے چوتھے اجلاس میں صدر الصدور معروف شاعر و دانش ور امجد اسلام امجد نے تراجم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بغیر نہ ہماری بات دنیا تک پہنچے گا اور نہ ہی دنیا کی ہم تک۔

اجلاس میں ارشد فاروق نے فن لینڈ میں اردو کی صورت حال کے بارے میں بتایا۔ نصر ملک نے ڈنمارک میں اردو تراجم پر روشنی ڈالی۔

ترکی سے آنے والے خلیل طوقارنے ’ترکی میں اردو کی تعلیم وتدریس اور آئند ہ امکانات‘ کے موضوع پر مقالہ پڑھا۔

مصر سے آئے مندوب ابراہیم محمد ابراہیم جنھوں نے پاکستان سے ہی اردو تعلیم حاصل کی ہے، انھوں نے مصر میں اردو کے بارے میں مسائل اور امکانات پر اظہار خیا ل کیا۔

Image caption مصری مندوب ابراہیم محمد ابراہیم ’اردو جی نئی بستیاں اور تراجم کی روایت‘ کے عنوان سے ہونے والے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں

کینیڈا سے آئے شاعر اور نقاد اشفاق حسین نے کہا کہ اردو کی نئی بستیوں کی بات کی جائے تو اس میں ٹورنٹو کو امتیازی حیثیت حاصل رہے گی۔

امریکہ سے آئے افسانہ نگار سعید نقوی نے بتایا کہ امریکہ کے سکولوں میں اردو نہیں پڑھائی جاتی لیکن سمجھ دار لوگ گھروں میں اردو بو ل کر اپنے بچوں کو اردو زبان سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

دوسرے دن کا پانچواں اجلاس مقبول شاعر جاوید اختر کے شعری مجموعے ’لاوا‘ کی تقریب اجرا تھی جس میں خود جاوید اختر کو بھی شرکت کرنا تھی لیکن آرٹس کونسل کے سیکریٹری محمد احمد شاہ کے مطابق وہ کچھ سرکاری معاملات کی وجہ سے وہ نہیں آسکے۔

اسی بارے میں