پاکستان نژاد ثمینہ کو بہترین نئی اداکارہ کا ایوارڈ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ثمینہ جبین احمد کو ایوارڈ ’کیچ می ڈیڈی‘ فلم میں بہترین اداکاری پر دیا گیا

گذشتہ دنوں منعقد ہونے والے لندن فلم فیسٹیول میں جہاں روسی فلم کو بہترین فلم کا ایوارڈ ملا وہیں یوکرین اور شام پر مبنی فلموں کو بھی اعزازات سے نوازا گیا۔

پاکستان نژاد برطانوی اداکارہ ثمینہ کو برطانیہ کی بہترین نئی اداکارہ کا ایوارڈ ملا۔

اس بار لندن فلم فیسٹیول کا موضوع ریئلسٹک سینیما یا حقیقت نگاری پر منبی سینیما تھا۔

سنیچر کی رات کو 58 ویں لندن فلم فیسٹیول میں ان فلموں کو اعزاز سے نوازا گیا جو دنیا کو تلخ حقائق سے روشناس کراتی ہیں۔ یہ فلمیں بدعنوانی، اجتماعی تشدد، جنگ اور ناموسی قتل جیسے سنگین مسائل پر مبنی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY
Image caption فلم فیسٹیول میں دنیا بھر کے سینیما سے متعلق افراد یکجا ہوئے

روسی فلم ’لیویاتھن‘کو لندن فلم فیسٹیول میں بہترین فلم کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ واضح رہے کہ اس فلم کو کین فلم فیسٹیول میں بہترین سکرین پلے کا ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ اس فلم کو روس نے آسکر ایوارڈز کے لیے بھی نامزد کیا ہے۔

یہ فلم روس کے عصر حاضر کی عکاس ہے۔ یہ ایک ایسے آدمی کی کہانی ہے جو اپنے خاندان کو بدعنوان نظام سے بچانے کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔

یوکرائن کی فلم ’دی ٹرائب‘ کو باوقار سودرلینڈ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ ایوارڈ اوریجنل اور تخلیقی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے والی کسی کی پہلی کاوش کو دیا جاتا ہے۔

اس فلم کا پس منظر بہرے بچوں کا ایک سکول ہے اور پوری فلم میں علامتی زبان کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں تمام غیر پیشہ ور افراد نے اداکاری کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بریڈ پٹ کو مداحوں نے گھیر لیا

بہترین دستاویزی فلم کا ایوارڈ ’سلورڈ واٹر- سیریا سیلف پورٹریٹ‘ کو دیا گیا۔ یہ فلم شام کی خانہ جنگی پر مبنی ہے اور شام کے شہر حمص کی کہانی بیان کرتی ہے۔

پاکستان نژاد برطانوی اداکارہ ثمینہ جبين احمد کو نئی برطانوی اداکارہ کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انھیں یہ انعام ’کیچ می ڈیڈی‘ فلم کے لیے دیا گیا۔

تقریب میں برطانیہ کے ڈائریکٹر سٹیون فرييرز کو برطانوی فلم انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے فیلوشپ سے بھی نوازا گیا۔

فلم فیسٹیول کا اختتام دوسری جنگ عظیم پر مبنی بریڈ پٹ کی فلم ’فیوری‘ سے ہوا۔

اسی بارے میں