روپرٹ مرڈوک کا کردار کون ادا کرنا چاہتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ولیم سن کا کہنا ہے کہ لندن میں ڈرامے کے لیے کسی بڑے اداکار کو لیے بغیر کام نہیں بن پا رہا

ویسٹ اینڈ سٹیج شو میں مرکزی کردار حاصل کرنے کے لیے اداکار کچھ بھی کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ کسی کو قتل بھی کر دیں گے لیکن اگر ان سے کہا جائے کہ انھوں نے ایک طنزیہ ڈرامے میں میڈیا کی بڑی کاروباری شخصیت روپرٹ مرڈوک کا کردار کرنا ہو تو وہ کنی کترا جاتے ہیں۔

آسٹریلوی ڈرامہ نگار ڈیوڈ ولیم سن کا ڈرامہ ’روپرٹ‘ لندن کے ویسٹ اینڈ میں سنہ 2015 کے اوائل میں دکھایا جائے گا۔

اس ڈرامے کا سنہ 2013 میں میلبرن میں آغاز کیا گیا تھا، اس کے بعد اسے مارچ میں واشنگٹن ڈی سی کے ورلڈ سٹیج تھیٹر میں دکھایا گیا اور جلد ہی اس کا دوسرا سیزن سڈنی سے شروع کیا جائے گا۔

ولیم سن کا کہنا ہے کہ لندن میں ڈرامے کے لیے کسی بڑے اداکار کو لیے بغیر کام نہیں بن پا رہا۔

’تمام کمرشل پروڈکشن کرنے والے اس قسم کے اداکاروں پر انحصار کرتے ہیں جو تماشائیوں کو اپنی طرف کھینچ سکیں لیکن ہم نے دیکھا کہ بعض اداکار درحقیقت سٹیج پر روپرٹ مرڈوک کا کردار کرنے سے کتراتے ہیں۔‘

روپرٹ مرڈوک کو میڈیا ٹائیکون ہونے کے ناتے زبردست طاقت حاصل ہے اس لیے اداکار انھیں ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ وہ وال سٹریٹ جرنل سمیت کئی اخباروں، فاکس ٹیلی ویژن چینل اور ٹونٹیتھ سینچری فاکس سٹوڈیوز کے بھی مالک ہیں۔

سڈنی میں ’روپرٹ‘ 29 نومبر کو دکھایا جائے گا جس میں سٹیج اور سکرین کے امریکی اداکار جیمز کروم ویل نے مرڈوک کا کردار کرنے کی ٹھانی ہے جنھوں نے بظاہر اپنے کریئر کے مستقبل کے بارے میں خدشات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔

انھوں نے آسٹریلوی میڈیا کو بتایا کہ ’میں ڈریگن سے لڑنا پسند کرتا ہوں، مرڈوک یقیناً ڈریگن ہے۔۔۔ میں اپنی کریئر کی ابتدا میں نہیں ہوں۔‘

72 سالہ ولیم سن کو بھی کوئی خوف نہیں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’وکلا نے ہر چیز کا بغور مطالعہ کیا ہے۔‘

’آپ کو بدنامی سے متعلق قوانین کی وجہ سے حد میں رہنا پڑتا ہے اور ایسی قوانین آسٹریلیا میں بہت سخت ہیں۔ لیکن مرڈوک نے اپنے بارے میں لکھے گئے مواد میں کبھی دلچسپی نہیں لی۔‘

اگر ’روپرٹ‘ ویسٹ اینڈ میں دکھایا جاتا ہے تو یہ ولیم سن کے حالیہ ڈراموں میں سے ایک ہوگا جو انھوں نے برطانیہ میں سٹیج کرائے ہیں۔

اسی بارے میں