امریکہ سمگل کیے گئے نوادرات کی پیرو واپسی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہ نوادرات پیرو میں ان مقامی کسانوں سے خریدے گئے تھے جنھوں نے قبریں کھود کر ان سے یہ سامان نکالا تھا

امریکہ نے لاطینی امریکی ملک پیرو کو 20 کے قریب ایسے نادر آثارِ قدیمہ واپس کیے ہیں جنھیں غیرقانونی طریقے سے امریکہ لایا گیا تھا۔

ان نوادرات میں سے کچھ 1800 سال سے بھی زیادہ قدیم ہیں۔

واپس کیے جانے والی چیزوں میں برتن اور دیگر اشیا بھی شامل ہیں اور انھیں پیرو میں ان قدیم قبروں سے چرایا گیا تھا جو وہاں 16ویں صدی میں ہسپانوی باشندوں کی آمد سے قبل موجود تھیں۔

یہ آثارِ قدیمہ امریکہ کے محکمۂ کسٹمز نے گذشتہ چند برس کے دوران چار مختلف کارروائیوں کے دوران بازیاب کیے تھے۔

امریکی کسٹمز کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ یہ اشیا پیرو کے عوام کی ملکیت اور اس ملک کے شاندار ورثے کا حصہ ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ نوادرات پیرو میں ان مقامی کسانوں سے خریدے گئے تھے جنھوں نے قبریں کھود کر ان سے یہ سامان نکالا تھا۔

بعدازاں انھیں ڈاک کے ذریعے امریکہ کے ایک سمگلر کو بھیج دیا گیا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق سنہ 2007 کے بعد سے امریکہ نے فرانس، چین، پولینڈ اور عراق سمیت 27 ممالک کو ایسے سات ہزار سے زیادہ نوادرات واپس کیے ہیں جنھیں غیرقانونی طریقے سے امریکہ لایا گیا تھا۔