تنے ہوئے رسے پر چلنے کا نیا کارنامہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ہوا میں تنے رسے پر چلنے والے کرتب باز نک ویلنڈا نے ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں کامیابی کے ساتھ شکاگو شہر پر لگائے گئے رسے کو یکے بعد دیگرے پار کیا۔

35 سالہ ویلنڈا نے یہ کارنامہ دو بلند عمارتوں کے درمیان رسہ باندھ کر اسے کسی حفاظتی جال یا جسم سے لگی کسی زین کے بغیر عبور کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پہلے انھوں نے شکاگو دریا کے آر پار بندھے ڈھلواں رسے پر اپنا ہنر دکھاتے ہوئے ندی کو عبور کیا۔ اس کے بعد انھوں نے آنکھوں پر پٹی باندھر کر مرینا شہر کے دو ٹاوروں کے درمیان رسے پر اپنا ہنر دکھایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

500 میٹر کا پہلا مرحلہ پار کرنے کے لیے انھوں چھ منٹ اور 52 سیکنڈ کا وقت لیا۔ یہ رسہ زمین سے 152 میٹر کی بلندی پر نصب کیا گیا تھا اور اس وقت تقریباً 40 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے ہوا چل رہی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اس کے بعد انھوں نے میرینا سٹی کے ٹاورز کے درمیان 94 فٹ کے فاصلے کو ایک منٹ اور 17 سیکنڈ میں پار کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اس کرتب کو ٹیلی ویژن پر اس لیے دس سیکنڈ کی تاخیر سے دکھایا گیاکہ کہیں اگر وہ گر گئے تو اسے نہ دکھایا جائے۔

زمین پر ہزاروں شائقین ویلنڈا کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔ واضح رہے کہ ویلنڈا کا تعلق رسے پر چلنے والے معروف خاندان کی ساتویں نسل سے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

مسٹر ویلنڈا نے اس کے بعد پھر آنکھوں پر پٹی باندھ لی اور صحافیوں کے سوالات کے جواب دیے۔ وہ اس سے قبل نیاگرا فالز اور گرینڈ کینیئن کو بھی رسے پر چل کر عبور کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں