’بیلی ڈانس کلاسز تو نہیں، پر پیغامات بہت آئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میرے طلبہ میں 40 اور 50 کے پیٹے میں عورتیں ہیں جو تفریح اور زندگی میں کچھ نیا پانے کی تلاش میں آتی ہیں۔

یہ کہانی ہے پاکستان میں معروف مصری رقص بیلی ڈانس کی۔ یہ ملک کلاسیکل اور دیگر رقص کی کچھ نہ کچھ شد بد رکھتا ہے لیکن ناچ کی اس عربی قسم سے مکمل طور پر بےگانہ ہے۔

مرد حضرات انٹرنیٹ پر اسے ذوق و شوق سے دیکھتے ہوں گے اور ایک آدھ بڑی کمپنی کی تقریب میں اس کا باقاعدہ اہتمام کرنے کی بھی اطلاعات ہیں، لیکن بات بس یہیں ختم ہو جاتی ہے۔ رقص کی یہ قسم پاکستان میں اس سے زیادہ آگے نہیں بڑھ سکی۔ جس کی کئی وجوہات ہیں۔

گذشتہ دنوں یورپ سے آنے والی ایک خاتون سے ملاقات ہوئی جنھوں نے پاکستان میں اسے سکھانے کی بہت کوشش کی لیکن بات نہیں بن سکی۔ یہ خاتون اپنے آپ کو پاکستان میں بیلی ڈانس کی واحد مستند (سرٹیفائیڈ) استاد قرار دیتی ہیں۔ (ان کا نام ان کی خواہش پر ان کے تحفظ کی خاطر ظاہر نہیں کیا جا رہا ہے۔)

اس خاتون سے ای میلز کے ذریعے گفتگو کے بعد انٹرنیٹ پر اس رقص کی تدریس سے متعلق دیگر لوگوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن صرف راولپنڈی میں النجوم بیلی ڈانس کلب کے علاوہ کچھ نہ ملا۔

کلب کی ویب سائٹ پر دیے گئے موبائل نمبر پر بات کرنے کی کافی کوشش کی لیکن بات نہیں ہو سکی۔ نہیں معلوم یہ بیلی ڈانس کا کتنا اصلی کلب ہے۔ بیلی کی کراچی میں اس ٹیچر کا بھی کہنا تھا کہ بسا اوقات بعض عورتیں اپنے آپ کو بیلی ڈانسر کے طور پر اشتہارات میں ظاہر کرتی ہیں لیکن انھیں اس رقص کی الف بے کا بھی پتہ نہیں ہوتا۔

بیلی ڈانس پر مصر اور ترکی کا جھگڑا ہے کہ اس کی ابتدا کس نے کی۔ تقریباً چھ ہزار سال پرانا یہ رقص ابتدائی طور پر عورتیں صرف عورتوں کے لیے کرتی تھیں۔

’البتہ بعض بدکردار مرد انھیں کسی بھی چیز کے لیے پیسے دینے کو آمادہ ہو جاتے ہیں۔ یہ بات اس انتہائی دلکش اور زبردست ناچ کو سکھانے کے کاروبار کو بری طرح متاثر کرتی تھی۔ یہ رقص میری طالبات کو صحت اور جذبات کے کئی فوائد سے بہرہ ور رکھتا ہے۔‘

’اس مخصوص ناچ کو سکھانے کے اعلان کے بعد بھی طویل عرصے تک میرے تین سے پانچ سے زیادہ شاگرد نہیں رہے تھے۔ کئی ماہ تو کوئی بھی نہیں ہوتا تھا۔ کسی نے بھی اس میں دلچسپی نہیں دکھائی اور نہ مجھے اور نہ میری کلاسوں کو سنجیدگی سے لیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’مجھے افسوس ہوتا ہے جب پاکستان میں لوگ جب بیلی ڈانس کا لفظ سنتے ہیں تو ان کے ذہنوں میں نیم عریاں عورت کا جو پیسوں کی خاطر ناچتی ہے کا خاکہ ذہن میں ابھرتا ہے‘

ان یورپی خاتون کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مشاہدے سے کہہ سکتی ہیں کہ لوگوں کو یہاں رقص سیکھنے کا کوئی شوق نہیں: ’وہ اسے یا تو ورزشِ قلب یا وزن کم کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں (اس ناچ میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے)۔ ہر کوئی وزن کم کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔

’میری کوششوں کے نتیجے میں پاکستانی خواتین کی جانب سے تو کم دلچسپی سامنے آئی لیکن مرد مجھے کال کر کے یا پیغام بھیج کر کارپوریٹ میٹنگوں میں ناچنے کی دعوتیں دیتے رہے۔ اس کے بدلے وہ ناقابل یقین حد تک رقوم کی پیشکش بھی کرتے رہے (ہم سب کو معلوم ہے کہ اس سے کیا مراد ہے)۔‘

ان کا کہنا تھا: ’مجھے افسوس ہوتا ہے پاکستان میں لوگ جب بیلی ڈانس کا لفظ سنتے ہیں تو ان کے ذہنوں میں نیم عریاں عورت کا خاکہ ابھرتا ہے جو پیسوں کی خاطر ناچتی ہے۔ میں اسے اس طرح نہیں سکھاتی ہوں۔ ایک مسلمان، شادی شدہ اور ماں ہونے کے ناطے میں اس ناچ کو انتہائی باعزت اور قدامت پسند انداز میں سکھاتی ہوں۔ میں صرف خواتین کو سکھاتی ہوں اور عوامی سطح پر یہ ناچ نہیں کرتی۔

’سماجی نقطۂ نظر کی وجہ سے نوجوان لڑکیوں کو میری کلاس میں آتے ہوئے شرم آتی ہے جبکہ 30 کے پھیرے میں عورتیں اپنے بچوں کو خاندانوں کے ساتھ بہت مصروف ہو جاتی ہیں۔ میرے طلبہ میں 40 اور 50 کے پیٹے میں عورتیں ہیں، جو تفریح اور زندگی میں کچھ نیا پانے کی تلاش میں آتی ہیں۔ ایسی خواتین جو بور اور اکیلی ہوتی ہیں۔‘

یورپی خاتون نے کہا کہ شوہر بھی اپنی بیویوں کو یہ رقص سیکھنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں: ’میرے صرف دو وفادار شاگرد ہیں۔ ان میں سے شروع ہی سے میرے ساتھ ہے۔ میں فخر سے کہتی ہوں کہ یہ عظیم خاتون اب پوری طرح سے میری طرح رقص کر سکتی ہے۔ میں اسے اب اپنا ہم پلہ سمجھتی ہوں۔‘

اس خاتون نے بالآخر لوگوں کی دل چسپی کم ہونے کی وجہ سے رقص کی تعلیم بند کر دی ہے۔

اسی بارے میں