’میں کامیاب سیاستدان نہیں بن سکوں گی‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے اپنے فنی کریئر کا آغاز انور مقصود کے ڈرامے ستارہ اور مہرالنسا سے کیا جس کے بعد انہوں نے کئی مشہور ڈراموں اور فلموں میں کام کیا۔

انھوں نے بی بی سی اردو کی فیفی ہارون سے بات کرتے ہوئے ان پانچ گانوں کے بارے میں بات کی جن کا ان کی زندگی پر اثر ہے۔ یہ آڈیو انٹرویو سنیے۔

ٹینا ثانی کے پانچ پسندیدہ نغمے

زوئی وکا جی کے پانچ پسندیدہ نغمے

تصویر کے کاپی رائٹ Atiqa Odho
Image caption عتیقہ اوڈھو اپنے ساتھی فنکار سجیرالدین کے ساتھ اپنے ایک حالیہ ڈرامے ’بہو بیگم‘ کے سیٹ پر جس کی اب تک 80 سے زیادہ اقساط نشر ہو چکی ہیں

’ایک اداکار کی زندگی جو ہوتی ہے وہ ہوتی ہی تبدیلی کے بارے میں ہے۔ اگر آپ اپنے آپ کو بدلتے نہیں ہیں تو آپ نہ خود کچھ سیکھتے ہیں نہ آپ اپنے سامعین کے ساتھ بڑھ سکتے ہیں۔ اگر میں وہی کام کروں جو میں بیس سال پہلے کر رہی تھی تو لوگ بوریت سے مر جائیں۔ لوگ کیا میں خود بوریت سے مر جاؤں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Atiqa Odho
Image caption عتیقہ اوڈھو کی کامیاب ترین ڈرامہ سیریل ہمسفر جس میں انہوں نے فواد خان کی بااثر ماں کا کردار نبھایا

’بہت سے لوگوں نے کہا آپ نے ہمسفر میں فریدہ کا کردار کیوں کیا۔ اتنا منفی کردار کبھی پہلے کیا نہیں تھا جب آپ بات کرتی ہیں کہ صرف مرکزی یا ہیروئین کا مرکزی کردار کرنے کا تو میں اس سے اتفاق نہیں کرتی۔ میں سمجھتی ہوں کہ فریدہ کے بغیر جو ہمسفر کا اثر ہے وہ بہت دھیما ہو جاتا کیونکہ ایک طاقتور ساس کا کردار نہیں ہوتا تو ہمسفر میں وہ جو رومانس تھا وہ اتنا بہتر نہ ہوتا۔ اس کردار نے اس پورے منصوبے کو طاقت دی جواب میں جو ہمدردی آئی اس جوڑے کے لیے اور جو کہانی آگے بڑھی وہ تھی فریدہ کی وجہ سے۔ دیکھیں ایسے لوگ ہمارے معاشرے میں رہتے ہیں ایسے لوگ ہیں ایسی سوچ ہے۔ اگر ہم اردو ڈرامے میں ان لوگوں کو زندہ کر کے نہیں لائیں گے کردار کی حیثیت میں تو ہم سوچ بھی نہیں سکیں گے کہ یہ لوگ کہاں آتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Atiqa Odho
Image caption عتیقہ اوڈھو ڈرامہ سیریل بہو بیگم میں تین لڑکوں کی ایک ڈیمانڈنگ ماں کا کردار ادا کرتی ہیں

’اگر یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں ایک بہت مضبوط عزم اور حوصلے والی عورت ہوں ہاں میں بالکل ہوں میں بالکل اس سے اتفاق کرتی ہوں۔ میں یہ نہیں سمجھتی ہوں کہ یہ خامیاں ہیں میں سمجھتی ہوں یہ خوبیاں ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Atiqa Odho
Image caption عتیقہ اوڈھو اپنے شوہر ثمر علی خان کے ساتھ جو سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے رکن ہیں

’ہمارے گھر میں کیونکہ میں مشرف صاحب کے کیمپ میں ہوں اور ثمر عمران کے کیمپ میں ہیں تو ہمارے گھر میں میں کہتی ہوں کہ حقیقی جمہوریت ہے۔ اس سے زیادہ جمہوریت تو ہو ہی نہیں سکتی کہ میں ایک سیاسی جماعت سےتعلق رکھتا ہوں اور میری بیوی کسی دوسرے سیاسی رہنما کو چاہتی ہے۔ بہت سے مرد ایسے ہوتے ہیں جو برداشت نہیں کرتے کہ بیوی سیاسی طور پر متحرک ہو یا سیاسی نظریات بھی رکھ سکے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Atiqa Odho
Image caption عتیقہ اوڈھو لیڈی ڈفرین ہسپتال کے بال میں اپنے شوہر ثمر علی خان اور دوست اداکارہ ماریہ واسطی کے ساتھ

’کامیاب شادی اس وقت چلتی ہے جب آپ ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں۔ پھر محبت آ جاتی ہے پھر ایک دوسرے کو سمجھنے کی بات آتی ہے۔ پھر صبر آ جاتا ہے۔ شادی میں صبر کی بہت ضرورت ہوتی ہے اگر آپ میں صبر نہ ہو تو شادی نہیں چل سکتی ہے۔ اونچ نیچ بہت آتی ہے۔ انسان کی زندگی میں آتی ہے شادی میں کیسے نہیں آئے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Atiqa Odho
Image caption عتیقہ اوڈھو جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے ساتھ جن کی عتیقہ سیاسی طور پر حمایت کرتی ہیں اور ان کی جماعت میں عہدیدار رہ چکی ہیں

’میں منہ پھٹ بہت ہوں اگر مجھے کوئی چیز سمجھ نہیں آئی یا اچھی نہیں لگی تو میں منہ پر کہہ دیتی ہوں اور میں سمجھتی ہوں کہ سیاست میں آپ کو تھوڑا سا مصلحت پسندی سے کام لینا پڑتا ہے اور وہ مجھ سے نہیں ہوتا۔ میں کل کر بولوں تو میں نہیں سمجھتی کہ میں کامیاب سیاستدان بن سکوں گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Atiqa Odho
Image caption عتیقہ اوڈھو کا کہنا کہ عورتوں کو مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا چاہیے

’پاکستان کی جو عورت ہے وہ بہت ہمت والی عورت ہے میں تو سمجپتی ہوں کہ پاکستان کا مستقبل اگر ٹھیک ہوگا تو وہ عورت کی وجہ سے ہو گا۔ یہی عوت نکلے گی اور اپنے آگے کی پشتوں کے لیے کام کرے گی اپنے بچیوں کے لیے کام کرے گی اپنی بچیوں کے لیے لڑے گی۔ ابھی بھی عورت نکلی ہوئی ہے سڑک پر آپ دھرنے دیکھیں ان میں عورتیں ہیں۔‘