بل کازبی کے خلاف جنسی حملے کا مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کازبی کے وکیل کی طرف سے جنسی حملے کے الزام پر اب تک کوئی بیان نہیں آیا

مشہور امریکی مزاحیہ فنکار بل کازبی کے خلاف ایک خاتون نے جنسی حملے کا مقدمہ درج کروایا ہے جس میں انھوں نے الزام لگایا ہے کہ کازبی نے ان پر تب جنسی حملہ کیا تھا جب ان کی عمر صرف 15 برس تھی۔

جوڈی ہوتھ نے مقدمے میں الزام لگایا ہے کہ بل کازبی نے سنہ 1974 میں امریکی ریاست لاس اینجلس کے ’پلے بوائے مینشن‘ میں ان پر جنسی حملہ کیا تھا اور انھیں کہا تھا کہ وہ اپنی عمر کے بارے میں جھوٹ بولیں۔

کازبی کے وکیل کی طرف سے جنسی حملے کے الزام پر اب تک کوئی بیان نہیں آیا۔

77 سالہ کازبی کو حال ہی میں ایک درجن سے زیادہ خواتین کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں ان کا کہنا ہے کہ کازبی نے انھیں منشیات دے کر ان پر جنسی تشدد کیا تھا۔

ان الزامات کے تحت بل کازبی پر اب تک کوئی فرد جرم نہیں عائد کی گئی، اور ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان الزامات کا مقصد انھیں ’بدنام‘ اور ’رسوا‘ کرنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption این بی سی اور نیٹ فلکس جیسے کئی نشریاتی اداروں نے بل کازبی کے ساتھ مجوزہ منصوبے ملتوی کر دیے ہیں

جوڈی کے مقدمے میں انھوں نے بیان دیا ہے کہ جب وہ 15 برس کی تھیں تو وہ اور ان کی ایک 16 سالہ دوست بل کازبی کو ایک فلم کے سیٹ پر ملی تھیں اور کازبی نے دونوں کو اپنے ٹینس کلب پر بلایا جہاں انھیں شراب دے کر پلے بوائے مینشن لے کر جایا گیا۔

جوڈی کا کہنا ہے کہ وہاں جا کر انھیں اپنی مرضی کے خلاف جنسی افعال کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ان کے مقدمے میں درج ہے کہ دونوں لڑکیوں کو کہا گیا تھا کہ اگر ان سے ان کی عمریں پوچھی گئیں تو انھیں اپنی عمریں 19 سال بتانی ہے۔

مقدمے میں یہ بھی درج ہے کہ اس واقعے سے جوڈی کو ’نفسیاتی دباؤ اور ذہنی اذیت‘ سے گزرنا پڑا تھا۔ یہ واضح نہیں کیا گیا کہ جوڈی نے اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کی کتنی تلافی مانگی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جوڈی کے مقدمے میں ان کا دعویٰ ہے کہ بل کازبی نے ان پر تب جنسی حملہ کیا تھا جب وہ قانونی طور پر نابالغ تھیں۔

سنہ 2005 میں ایک خاتون نے بل کازبی پر الزام لگایا تھا کہ انھوں نے منشیات دے کر انھیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ اس خاتون نے ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کروایا تھا لیکن کیس کا عدالت سے باہر ہی تصفیہ کر لیا گیا تھا۔

این بی سی اور نیٹ فلکس جیسے کئی نشریاتی اداروں نے بل کازبی کے ساتھ مجوزہ منصوبے ملتوی کر دیے ہیں۔

اسی بارے میں