کونڈم کے استعمال سے متعلق قانون برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سنہ 2012 میں جہاں لاس اینجلس میں 500 بالغ فلمیں بنی تھیں اس کے مقابلے گذشتہ سال صرف 40 فلمیں ہی بن سکی ہیں

ایک امریکی عدالت نے پورن اداکاروں کے لیے کونڈم کے استعمال کے قانون کے ‏خلاف درخواست کو مسترد کرتے ہوئے لاس اینجلس کے قانون کو برقرار رکھا ہے۔

بالغوں کے لیے فلم بنانے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم میں جو اظہار رائے کی آزادی کی گارنٹی دی گئی ہے یہ فیصلہ اس کے منافی ہے۔

یہ قانون جسے ’میزر بی‘ یعنی اصول بی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اسے ایک ریفرینڈم کے ذریعے سنہ 2012 میں منظور کیا گیا تھا۔

ایڈز ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس سے اداکاروں کو ایچ آئی وی سے تحفظ فراہم ہوگا۔

کیلیفورنیا کے پورن فلم بنانے والوں کا کہنا ہے کہ ایڈز/ایچ آئی وی سے اداکاروں کو تحفظ فراہم کرانے والے اقدامات پہلے سے موجود ہیں۔

اپنے فیصلے میں امریکی وفاقی عدالت نے پہلی ترمیم کی دلیل کو مسترد کردیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت کا خیال ہے کہ پارن فلموں میں کونڈوم کے استعمال کی شرط درست ہے

جج سوزین پی گریبر نے کہا: ’ہم ضلعی عدالت کے فیصلے سے متفق ہیں۔ خواہ مدعی بغیر کونڈوم کے سیکس کے ذریعے کتنا ہی غیر معمولی پیغام کیوں نہ دینا چاہتے ہوں یہ بہت ممکن ہے کہ ایسی بالغ فلم کے دیکھنے والے اس پیغام کو سمجھنے سے قاصر رہ سکتے ہیں۔‘

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس فیصلے کے خلاف مزید اپیل کی جائے گی یا نہیں۔

اصول بی میں استعمال فلم بنانے کی اجازت کے لیے کونڈوم کا ضروری ہے اور اس میں فلم سازوں کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ عوامی صحت کے متعلق اجازت نامہ بھی حاصل کریں۔

اس قانون کے ناقدین کا کہنا ہے جب سے یہ قانون نافذ ہوا ہے بالغ فلم سازی میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے اور سنہ 2012 میں جہاں لاس اینجلس میں 500 بالغ فلمیں بنی تھیں اس کے مقابلے گذشتہ سال صرف 40 فلمیں ہی بن سکی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بعض سٹوڈیوز اپنے پروڈکشن ہاؤس کو نیویدا یا فلوریڈا جیسی ریاستوں میں منتقل کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں