بھارت میں ای بک کا بڑھتا رجحان

Image caption ’بھارت میں ای بک پڑھنے والوں کی تعداد میں آئندہ چار برس میں 25 فیصد اضافہ ہو گا‘

کتاب ایک خواب ہے جو آپ اپنے ہاتھوں میں پکڑتے ہیں۔‘ نیل گیمن کے یہ الفاظ کتاب کی اہمیت بتانے کے لیے کافی ہیں۔

بھارت میں کتاب، مصنف اور قارئین کی اپنی تاریخ ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں۔

انٹرنیٹ انقلاب کے بعد علم اور کہانیاں صرف کتابوں تک محدود نہیں رہ گئیں بلکہ کتابوں کی ایک نئی صنف وجود میں آئی جسے ’ای بک ‘کا نام دیا گیا ہے۔ ’ای بک‘ شائع شدہ کتابوں کا الیکٹرانک ورژن ہے جسے آپ کمپیوٹر، موبائل فون یا آئی پیڈ پر پڑھ سکتے ہیں۔

یورپ اور امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ای بک خاصی مقبول ہو چکی ہیں۔ لیکن کیا ہندوستان میں بھی ای بک اپنی جگہ بنا چکی ہے۔ کیا روایتی کتابوں کے بازار کو ای بک سےخطرہ محسوس ہو رہا ہے؟

آن لائن شاپنگ کے لیے معروف ویب سائٹ ایمیزون انڈیا کےترجمان کا کہنا ہے کہ’بھارت میں ای بک کا بازار فی الحال نوزائیدہ ہے۔ ویسے کتابوں کے بازار میں ہندوستان کا شمار دنیا کے ٹاپ ٹین ممالک میں ہوتا ہے۔ ہندوستان انگریزی کتابوں کا تیسرا سب سے بڑا بازار ہے۔‘

فلپ کارٹ کے ترجمان گوروگپتا کے مطابق ’بھارت میں ابھی بھی چھپی ہوئی کتابوں کا زور زیادہ ہے۔ لیکن انٹرنیٹ، سمارٹ فون اور ٹیبلیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھنے کی وجہ سے ای بُک پڑھنے والوں کی تعداد میں بھی بہت اضافہ ہوا ہے۔ انڈسٹری رپورٹ کے مطابق آئندہ تین چار برسوں میں ای بُک پڑھنے والوں کی تعداد دیگر کتاب پڑھنے والوں کی تعداد کی25 فیصد ہو جائے گی۔‘

گراہک کون ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کیا روایتی کتابوں کے بازار کو ای بک سےخطرہ محسوس ہو رہا ہے؟

گورو گپتا کے مطابق کے ای بک پڑھنے والوں میں زیادہ تر نوجوان ہیں۔ ساتھ ہی طالب علموں کا ایک طبقہ بھی ہے جو سفر کےدوران انہیں پڑھنا پسند کرتا ہے۔

بھارت میں فی الحال ای ُبک کی مانگ بڑے شہروں میں زیادہ ہے۔

سائنس کی ایک طالبہ ارملا سبرامنیم کہتی ہیں:’مجھے دونوں فارمیٹ میں کتاب پسند ہے پر ای بک کی خصوصیت یہ ہے کہ اس سے آپ کے بیگ کا وزن نہیں بڑھتا۔‘

ميڈيا میں کام کرنے والی سواتی روہتگي کہتی ہیں کہ’مجھے چھپی کتاب پڑھنا زیادہ پسند ہے لیکن انھیں ہمیشہ ساتھ رکھنا ممکن نہیں اس لیے اب میں ای بک بھی پڑھنے لگی ہوں۔‘

لائبریوں پر اثرات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہندوستان انگریزی کتابوں کا تیسرا سب سے بڑا بازار ہے

ممبئی میں 160 برس قدیم لائبریری ’ڈیوڈ سیسون‘ کی سیکریٹری اوما واگھلے کا کہنا ہے’اس سے لائبریری میں کافی تبدیلیاں آئی ہیں۔ حال میں ای بک کے بڑھتے رجحان کی وجہ سے ہمارے یہاں قاری کچھ کم ضرور ہوئے تھے، لیکن اب وہ پھر سےآنے لگے ہیں۔ نوجوان طبقہ، علاقائی زبان کی کتابوں میں بھی دلچسپی لینے لگا ہے۔ لیکن ہاں 40 برس کی عمر سے زیادہ کےقاری بڑی تعداد میں ہیں۔‘

پیشے سے وکیل سندیش سیٹھ کہتے ہیں:’مجھے تو لائبریری جا کر کتابیں پڑھنا زیادہ اچھا لگتا ہے۔ جو نشہ اصل کتابوں کا ہے وہ کمپیوٹر یا فون میں کتاب پڑھنے سے نہیں ملتا۔‘

اوما واگھلے آخر میں کہتی ہے ’چھپی کتاب خریدنے کے بعد آپ کی ہو جاتی ہے۔ لیکن ای بک آپ کو صرف پڑھنے کا لائسنس دیتی ہے اس پر مالکانہ حق نہیں دیتی۔‘

اسی بارے میں