جاں نثار اور صفیہ کے جادو کی شاعری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جاوید اختر بھارتی فلم انڈسٹری میں 70 کی دہائی سے فلموں کے سکرپٹس اور گانے تحریر کر رہے ہیں

ممتاز نقاد گوپی چند نارنگ نے درست کہا ہے ’جاوید اختر کی شہرت ان کی شاعری سے کئی قدم آگے چلتی ہے، حالانکہ ہمیں اُس جاوید اختر سے مطلب نہیں جسے سلولائیڈ کی دنیا والے جانتے ہیں اور نہ جاننے کی طرح جانتے ہیں۔ اس لیے کہ وہ عکس کی دنیا ہے جس کا رنگ ونور بھی سب عکس ہے۔‘

لیکن جاوید اختر کی شخصیت کا ایک پہلو اور بھی ہے کہ ان کے پاس ایسی ددھیالی اور ننھیالی وراثت ہے جو اور کسی کے پاس نہیں۔

علامہ فضل حق خیرآبادی سے شروع ہونے والی ورثت کے اِس سرے پر موجود جاں نثار اختر اور ’زیرِ لب‘ کی صفیہ اختر کے بیٹے اور جوانا مرگ شاعر مجازکے بھانجے جاوید اختر ہیں۔ کیفی اعظمی سے نسبت اس میں مزید اور بعد کا اضافہ ہے۔

فضل حق خیرآبادی وہ انقلابی ہیں جنھوں نے انگریزوں کے خلاف بغاوت کے قابلِ ’جرم‘ میں کالے پانی کی سزا پائی اور اسی سزا کے دوران جسم کی قید سے بھی آزاد ہوئے۔

گھر میں جادو کہے جانے والے جاوید اختر کے ساتھ یہ بھی ہوا کہ جب وہ اپنے مستقبل کی تلاش میں بمبئی پہنچے تو ان کا استقبال کرنے کے لیے صرف فٹ پاتھوں کا دامن تھا۔

اسی میں جب اندر کا لاوا پھٹا تو اثر انگیز لفظوں میں ڈھلنے لگا۔ لیکن انھوں نے پُرکھوں کی وراثت کو بوجھ نہیں بننے دیا۔ نارنگ کے مطابق ان کی شاعری ہر جگہ ان کی اپنی شاعری ہے، اس میں ان کی اپنی آواز ہے، اپنا لہجہ اور اپنا پیرایۂ بیان ہے۔

گوپی چند نارنگ کی یہ بات کسی حد تک درست ہے لیکن اس بات سے اختلاف کی بھی خاصی گنجائش ہے۔

جاوید اختر کا پہلا مجموعہ ’ترکش‘ برسوں پہلے منظر عام پر آیا تھا اور اس کی نظمیں ’وقت‘، ’وہ کمرہ یاد آتاہے‘، ’ ایک مہرے کا سفر‘، ’مری آوارگی‘، ’بھوک‘ ،’مدرٹریزا‘ گویا کسی حد تک ان کی شناخت بن گئیں۔

اس کے بعد یہ دوسرا مجموعہ ’لاوا‘ آنے میں اتنا وقت کیوں لگا، اس بارے میں جاوید اختر خود بتاتے ہیں:

’کاہلی اور تساہل کو نظر انداز کر دیا جائے تو تاخیر کی وجہ یہ بتائی جا سکتی کہ میرے نزدیک مجموعوں کا انبار لگا دینا کوئی کارنامہ نہیں۔ انبار لگے تو مضامین نو کا‘۔

نارنگ کا کہنا ہے کہ جاوید اختر کی نظمیں جدید نظم کی اس روایت سے خاصی مختلف ہیں جو ن۔ م۔ راشد، میراجی اور اخترالایمان سے چلی آتی تھی یا جو مجاز و جاں نثار اختر و مخدوم و سردار جعفری و کیفی اعظمی سے عبارت تھی۔ اس سے آج تک کسی نے بحث نہیں کی ، داد البتہ سب دیتے ہیں۔

اس مجموعے میں ’یہ کھیل کیا ہے‘، ’کائنات ‘، ’عجیب قصہ ہے‘، ’برگد‘، ’بروقت ایک اور خیال ‘ خاص ہیں اور ان میں تجسس قدرِ مشترک ہے۔ نارنگ نے اس پر اتنی ہی تفصیلی بات کی ہے جتنی پیش لفظ میں کی جا سکتی ہے۔

بھارت میں مختلف زبانوں اور ادب کے فروغ کے ادارے ساہتیہ اکیڈمی نے جاوید اختر کے مجموعے کو ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جاوید اختر جو17 جنوری سنہ 2015 کو 70 برس کے ہو جائیں گے، پہلے بھارتی شاعر ہیں جن کی نظموں کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے۔

یہ ترجمہ ودیا ونکتیش اور اینی سنہا نے کیا ہے۔ یونیورسٹی آف پیرس میں فرانسیسی زبان میں مجموعے کے افتتاح پر جاوید اختر نے کہا ’یہ میرے لیے حیران کن ہے کیوں کہ میری نظموں کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ کرنا آسان بات نہیں۔‘

واضح رہے کہ جاوید اختر بھارتی فلم انڈسٹری میں 70 کی دہائی سے فلموں کے سکرپٹس اور گانے تحریر کر رہے ہیں۔

بالی ووڈ کے لیے گراں قدر خدمات پر انھیں پدم شری ایوارڈ، پدم بھوشن ایوارڈ اور 14 مرتبہ فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔

’لاوا‘ کو مکتبہ دانیال کی حوری نورانی نے خوبصورت شائع کیا ہے۔ 182صفحات پر مشتمل اس مجموعے کی قیمت 450 روپے رکھی گئی ہے۔

عام پاکستانی خریداروں کے لیے تو یہ قیمت زیادہ ہو گی لیکن جیسی یہ کتاب شائع ہوئی ہے اُس کے حوالے سے اور جاوید اختر کے چاہنے والوں کے لیے تو یہ قیمت ضرور زیادہ نہیں ہو گی۔

مجموعہ میں پروفنگ کی کچھ کمی محسوس ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک غزل طویل بحر میں ہے جس میں ہر مصرع صفحے کی سائز کی وجہ سے الگ الگ شعر کا تاثر دیتا ہے۔ اسے بدلا جا سکتا تھا۔

اسی بارے میں