کامیڈین راج پال سے قیدیوں نے کہا ’پھر آنا‘

تصویر کے کاپی رائٹ RAJPAL YADAV
Image caption راج پال یادو اپنی ایک فلم کے لیے دھوکہ دہی کے الزام میں جیل بھی جا چکے ہیں

بالی وڈ کے معروف کامیڈین راج پال یادو گذشتہ ماہ ریلیز ہونے والی فلم ’بھوپال: اے پریئر فار رین‘ میں بہت دنوں بعد نظر ایک بار پھر سے نظر آئے۔

یہ فلم سنہ 1984 میں بھارت کے وسطی شہر بھوپال میں ہونے والے گیس حادثے پر مبنی ہے جس میں ہزاروں لوگ زہریلی گیس کے اخراج کی وجہ سے اپنے گھروں میں سوتے ہی رہ گئے تھے۔

فلم ناقدین کی جانب سے بہت پزیرائی کے باوجود یہ فلم باکس آفس پر زیادہ کامیاب نہ ہو سکی۔ تاہم راج پال یادو کا کہنا ہے کہ وہ اس فلم کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اس فلم کے بعد اپنے ماضی کے مشکل وقت کو بھلا کر مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ RAJPAL YADAV
Image caption راج پال یادو نے بھارتندو اکیڈمی آف ڈرامٹک آرٹس سے تعلیم حاصل کی ہے

اس سے قبل سنہ 2013 میں انھیں پانچ کروڑ روپے کی مبینہ دھوکہ دہی کے معاملے میں 10 دنوں کے لیے جیل کی ہوا بھی کھانی پڑی تھی۔

ان پر یہ الزام تھا کہ انھوں نے اپنے پروڈکشن کی فلم ’اتا پتہ لاپتہ‘ کے سلسلے میں فلم کے ایک فائنینسر کو پانچ کروڑ روپے کا فریب دیا تھا۔

فی الحال راج پال ضمانت پر رہا کر دیے گئے ہیں لیکن 10 دن کی جیل کو وہ ’آنکھیں کھول دینے والا تجربہ‘ بتاتے ہیں۔

راج پال نے بی بی سی ہندی کی مدھوپال کو اپنے اس تجربے کے بارے میں بتایا: ’اگرچہ جیل انتظامیہ اور قیدیوں نے مجھے بہت پیار دیا لیکن خدا نہ کرے کہ کسی کو جیل جانا پڑے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption راج پال سٹینڈ اپ کامیڈی کر کے پیسہ کمانے کے حق میں نہیں

اس کے بعد راج پال نے اپنے جانے پہچانے مزاحیہ انداز میں بتایا کہ جب وہ باہر آنے والے تھے تو اس موقعے پر جیل انتظامیہ نے ان کے لیے ایک پروگرام منعقد کیا اور جیسے ہی وہ سٹیج پر چڑھے تمام قیدی چلانے لگے: ’راج پال جی۔ آپ کے ساتھ گزارا وقت ہم نہیں بھولیں گے۔ آپ پھر سے یہاں آئیے گا۔‘

راج پال بتاتے ہیں کہ جیل کی زندگی سے برا کچھ نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بھارت کی جیل انتہائی گندی ہے اور بدنظمی کا شکار ہے۔‘

راج پال یادو کی شبیہ مجموعی طور پر ایک کامیڈین کی ہے تاہم وہ اپنی اس امیج سے کہیں نہ کہیں پریشان بھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ RAJPAL YADAV
Image caption وہ اپنے شوخ اور چنچل کردار کے لیے معروف ہیں

انھوں نے کہا: ’بالی ووڈ میں جو ایک کردار میں بندھ جاتا ہے اسے وہی رول ملتے ہیں۔ ہم اداکار بھی سست ہوتے ہیں اور کچھ نیا کرنے کے بجائے پرانے اور آزمائے ہوئے کام کو کرنے میں ہی لگے رہتے ہیں۔ جب لوگ مجھ سے ملتے ہیں تو وہ یہ امید کرتے ہیں کہ میں انھیں ہنساؤں لیکن میں 24 گھنٹے تو ایسا نہیں کر سکتا۔‘

راج پال کا کہنا ہے کہ وہ سٹینڈ اپ کامیڈی کرکے پیسے کمانے کے حق میں نہیں ہیں۔

ان کے مطابق: ’میرے کئی ڈائیلاگ (مکالمے) امر ہو گئے ہیں۔ اگر میں چاہوں تو ان کی بنیاد پر سٹینڈ اپ کامیڈی کے شوز کرکے بہت سارے پیسے کما سکتا ہوں۔ لیکن میں اداکاری کے جس سکول سے تعلق رکھتا ہوں اس میں اپنے ہنر کو اس طرح بیچ کر پیسے کمانے کی اجازت نہیں۔‘

انھوں نے بھارتندو اکیڈمی آف ڈرامٹک آرٹس سے تعلیم حاصل کی ہے۔ ان کی آنے والی فلموں میں ’گول مال 4‘ اور ’اماں‘ شامل ہے۔

انھوں نے ’میں، میرے پتنی اور وہ‘ میں مرکزی کردار نبھایا تھا اس کے بعد ’چھپ چھپ کے‘ میں اپنی اداکاری کا جوہر دکھایا تھا۔

اسی بارے میں