’بکینی پہن کر سٹیج پر چلنا ہمیشہ سے بھدّا لگتا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ RAINDROP
Image caption پرینکا کو امید ہے کہ اب کئی اسلامی ملک کی لڑکیاں بھی مس ورلڈ مقابلے میں حصہ لیں گی

سابق ملکۂ حسن اور بالی وڈ کی ہیروئن پریانکا چوپڑا نے خواتین کے عالمی مقابلۂ حسن سے تیراکی کے لباس والا راؤنڈ ختم کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

یہ مقابلہ منعقد کروانے والی تنظیم کی صدر جولیا مورلے نے گزشتہ دنوں اعلان کیا تھا کہ آئندہ سے ان مقابلوں میں شریک خواتین کو بکینی پہن کر سٹیج پر نہیں آنا پڑے گا۔

جولیا نے کہا تھا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ خواتین کو بکینی میں چلتا دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس مقابلے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ خواتین بکینی میں کیسی دکھائی دیتی ہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ کیا سوچتی ہیں اور کیا کہتی ہیں۔‘

سنہ 2000 کی مس ورلڈ پرینکا چوپڑہ نے اس پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ ’میں مس ورلڈ رہ چکی ہوں اور اس بات کو بہت اچھی طرح سے سمجھتی ہوں کہ بکینی پہن کر سٹیج پر چلنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔‘

بی بی سی ہندی کی مدھو پال سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں بہت خوش قسمت ہوں کہ جب میں نے اس مقابلے میں حصہ لیا تھا اس سال یہ والا راؤنڈ نہیں تھا۔ ہم نے مالدیپ میں بکینی پہن کر فوٹو شوٹ ضرور کرایا لیکن ہمیں سٹیج پر چلنے کو نہیں کہا گیا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption پرینکا چوپڑہ سنہ 2000 میں مس ورلڈ مقابلے کی فاتح بنی تھیں

انھوں نے کہا کہ ’مجھے ہمیشہ سے ہی یہ بکینی راؤنڈ بھدّا لگتا تھا اور میں سوچتی تھی کہ میں کیسے بکینی اور اونچی ایڑی والے جوتے پہن کر سٹیج پر چلوں گي؟‘

پرینکا کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ مستقبل میں اس مقابلے میں حصہ لینے والی تمام خواتین اس فیصلے سے خوش ہوں گی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس فیصلے کے بعد امید ہے کئی اسلامی ملک کی لڑکیاں بھی مس ورلڈ مقابلے میں حصہ لیں گی۔

خیال رہے خواتین کے عالمی مقابلۂ حسن میں شرکت کرنے والی کئی بھارتی حسینائیں بھارت کی فلمی صنعت کا حصہ بنی ہیں۔

ان میں پرینکا چوپڑہ کے علاوہ لارا دتہ، جوہی چاولہ، ایشوریہ رائے بچن اور سشمتا سین شامل ہیں۔

اسی بارے میں