’دو شادیوں والے ڈرامے پر جنرل ضیا نے بلوا لیا‘

Image caption عظمٰ گیلانی کی ان یادداشتوں کو غلام عباس سیال نے قلم بند کیا ہے۔ وہ آئی ٹی سپیشلسٹ اور فری لانس جرنلسٹ بھی ہیں۔ یہ اقتباسات خصوصی اجازت سے شائع کیے جا رہے ہیں

پاکستان کی معروف اداکارہ عظمٰی گیلانی کی یادداشتوں کی کتاب ’جو ہم پہ گذری‘ میں سے کچھ ڈراموں کی یادوں کے بارے میں اقتباس۔

’میرے کیرئیر کی ابتدا اشفاق احمد کی تاریخی سیریز ’قلعہ کہانی‘ سے ہوئی۔

یاور حیات نے پہلی ملاقات میں ہی کہا کہ آپ کے اندر ایک شہزادی ہے، چونکہ آپ کی زبان بہت صاف ہے، اسی لیے میں آپ کو قلعہ کہانی سیریز کے کھیل ’پاداش‘ میں قطب الدین ایبک کی ملکہ کا کردار دوں گا۔

قلعہ کہانی کا کھیل ’پاداش‘ قطب الدین ایبک کی زندگی پر بنایا گیا تھا لیکن نئی آرٹسٹ ہونے کے ناطے مجھے ڈرامے میں ایک ہندو باندی کا کردار دیا گیا، جسے سنتے ہی میں ہواؤں میں اڑنے لگی۔

میرے اس کردار میں ایک جگہ جب قطب الدین ایبک گھوڑے سے گرتا ہے تومجھے محل کی راہداریوں سے بھاگ کر ملکہ تک بادشاہ کی موت کی خبر پہنچانا ہوتی ہے اور جب میں وہاں پہنچتی ہوں تو ملکہ اپنے ہیرے کی انگوٹھی چاٹ کر مر چکی ہوتی ہے۔ مری ہوئی ملکہ کو دیکھ کر میں ایک دلخراش چیخ مارتی ہوں۔

یاور حیات نے اس سین کو پرفیکٹ بنانے کے لیے کوئی ڈیرھ ہفتے تک ہم سب کو مسلسل ریہرسل کروائی۔ جب سٹوڈیو خالی ہو جاتا توسب فنکار مل کر ڈرامے کی ریہرسل کیا کرتے تھے، جس میں خصوصاً میری چیخ کی ریہرسل شامل ہوتی تھی۔

ریہرسل کے دوران ایک دو بار ایسا بھی ہوا کہ سٹوڈیو کا چوکیدار بھاگا بھاگا اندر آ یا اور سرا ئیکی میں بولا : ’ کیا تھی گے، اے چیک کیں ماری ہے؟ (کیا ہو گیا ہے، یہ چیخ کس نے ماری ہے؟)۔

بہرحال یہ پی ٹی وی کا سنہری دور تھا جب پروڈیوسر اور اداکار واقعی محنت کیا کرتے تھے۔ اگر پاگل کا کردار ہوتا تو پاگل خانے جا کر باقاعدہ مشاہدہ کیا جاتا تھا۔

ریہرسل سے مطمئن ہونے کے بعد سیینئر فنکارہ مہناز رفیع جو ڈرامے میں ملکہ کا کردار ادا کر رہی تھیں، انھوں نے اپنے ہاتھوں سے مجھے ساڑھی پہنائی۔ جب ڈراما آن ایئر گیا تو میرے اس رول کو انتہائی پسند کیا گیا اورحامد رضا جنھوں نے قطب الدین ایبک کا رول کیا تھا انھوں نے مجھے Over Night Star کا خطاب دیا۔

اسی سلسلے کا دوسرا تاریخی کھیل ملکہ نورجہاں اور بادشاہ جہانگیر پر مبنی تھا جسے محمد نثار حسین نے ڈائریکٹ کیا تھا۔

اس ڈرامے میں مجھے اپنے سے سینئیر اداکار محمد قوی خان کی والدہ کا کردار دیا گیا تھا جب کہ نیّر کمال نورجہاں بنی تھیں۔‘

عظمٰ گیلانی کی ان یادداشتوں کو غلام عباس سیال نے قلم بند کیا ہے۔ وہ آئی ٹی سپیشلسٹ اور فری لانس جرنلسٹ بھی ہیں۔ یہ اقتباسات خصوصی اجازت سے شائع کیے جا رہے ہیں۔

اُس وقت میری اپنی عمرکوئی 25 سال تھی ،غرضیکہ میں نے سنہ 1970 کے آخر سے کام شروع کیا اور سنہ 1975 تک ہر قسم کے چھوٹے موٹے، کردار ادا کیے مگر ہمت نہ ہاری اور تہیہ کیے رکھا کہ اپنے آپ کو منوا کر چھوڑوں گی۔

یاور حیات کے ایک اور کلاسیکل کھیل ’میٹھا زہر‘ میں ا یک پاگل عورت کے کردار میں بھی میری پرفارمنس کو بہت پسند کیا گیا۔

پھر سنہ 1976 میں اشفاق احمد کی ہٹ ڈراما سیریز ایک محبت سو افسانے کے کھیل ’نردبانِ عرفان‘ میں کمہار کی بیوی کا کردار کیا جس کی بنا پر مجھے گریجویٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

یہ میرے کیرئیر کا پہلا ایو ارڈ تھا۔ یوں مجھے اپنا آپ منوانے میں مسلسل پانچ سال لگے۔ ’نردبانِ عرفان‘ ڈراما صحیح معنوں میں میرا بریک تھرو ثابت ہوا۔

یہاں پر میں اشفاق صاحب کے ایک اور ڈرامے کا ذکر ضرور کروں گی جس میں منور سعید کو ایک ایسے مولوی صاحب کا کردار دیا گیا تھا جس کی دو بیویاں ہوتی ہیں۔ پہلی بیوی انتہائی نیک سیرت جب کہ دوسری ذرا تیز طرار۔

ان دونوں بیویوں کے درمیان ایک جمعدارنی ہوتی ہے جو دونوں کو خوب لڑواتی ہے۔ اشفاق صاحب نے جو رول لکھا اس میں پہلی بیوی کا کردار مجھے دیا، مگرمیں نے ان سے کہا کہ اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو جمعدارنی کا کردار میں کر لوں؟

جمعدارنی کا کردار اگرچہ چھوٹا سا تھا مگراشفاق احمد نے مجھے وہ کردار دے دیا اور پہلی بیوی کے کردار کے لیے نگہت بٹ کو چن لیا گیا۔

میں نے جمعدارنی کے کردار میں کچھ ایسا رنگ بھرا کہ اُس کی چالاکیوں اور زبان درازیوں کی دھوم مچ گئی۔

چونکہ یہ ڈراما دو شادیوں والے مرد کی کہانی تھی اور وہ جنرل ضیاالحق صاحب کا زمانہ تھا اسی لیے انھیں یہ ڈراما قابل اعتراض لگا، نتیجتاً اشفاق صاحب کو پریزیڈنٹ ہاؤس بلوا لیا گیا۔

اشفاق صاحب بعد میں بتاتے تھے کہ انھوں نے دلیلیں دے کر نہ صرف صدرِ پاکستان کو قائل کر لیا تھا بلکہ الٹا انھیں یہ بھی کہا تھا کہ آپ وہ ڈراما خود دیکھیں اور اس میں جو کچھ جمعدارنی کرتی پھر رہی ہے اسے تو ضرور دیکھیں۔

اسی بارے میں