’گھوڑا چھلانگ لگاتا تو جان نکل جاتی تھی‘

Image caption عظمٰی گیلانی کی ان یادداشتوں کو غلام عباس سیال نے قلم بند کیا ہے۔ یہ اقتباسات خصوصی اجازت سے شائع کیے جا رہے ہیں

پاکستان کی معروف اداکارہ عظمٰی گیلانی کی یادداشتوں کی کتاب ’جو ہم پہ گزری‘ میں سے کچھ ڈراموں کی یادوں کے بارے میں اقتباسات کے سلسلے کی تیسری کڑی۔

’پناہ‘ کے تجربے کی طرح ایک دو اور ایسے واقعات ہیں جو میں آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتی ہوں۔

’نشیمن‘ ایک ایسا سیریل تھا جسے میں صحیح معنوں میں اپنے کیرئیر کا پہلا ڈراما سیریل سمجھتی ہوں، باقی جتنے سیریلز میں کام کیا وہ تھوڑے یا محدود اقساط پر مشتمل تھے۔

’نشیمن‘ یاور حیات کی بہت پسندیدہ سیریل تھی کیونکہ اس کا بیک گراونڈ ان کے اپنے خاندان کا تھا۔

’نشیمن‘ کا کردار ’لاڑی صاحب‘ ان کی سگی چچی تھیں جو واہ کینٹ اور کھاریاں کے قریب کسی علاقے کی جاگیردارنی تھیں اور اپنے علاقے پر راج کیا کرتی تھیں، اسی لیے ’لاڑی صاحب‘ کہلاتی تھیں۔

یاور صاحب نے اپنی چچی کا رول مجھے دیا، میں اس وقت اتنی بوڑھی نہیں تھی جتنی اب ہوں۔

مجھے عابد علی، سکندر شاہین اور روحی بانو کی ماں جبکہ آصف رضا میر اور خالدہ ریاست کی دادی کا رول کرنا تھا۔

اس رول کی مناسبت سے سارے منہ پر خوب جھریاں ڈالنی تھیں، کانوں میں اوپر سے نیچے تک بالیاں، سفید بالوں میں باریک باریک مینڈھیاں وغیرہ وغیرہ۔ یاور نے بتایا تھا کہ لاڑی کا صاحب کا یہی حلیہ ہوتا تھا۔

سب سے بڑا مرحلہ سارے چہرے پر جھریاں ڈالنے کا تھا۔

یاور حیات نے ٹیلی ویژن کے اس وقت کے سب سے منجھے ہوئے میک اپ آرٹسٹ نسیم صدیقی کے ذمے یہ کام سونپا۔

کمال الدین احمد ٹیلی ویژن کے میرے اولین دوستوں میں سے ہیں لیکن میک اپ میں مہارت کے حوالے سے وہ نسیم بھائی کے کہیں قریب نہیں ہیں۔

یہ سنہ 1985 کی بات ہے تب میک اپ کی تکنینک اتنی جدید نہیں تھی جتنی اب ہے لیکن سلام ہے نسیم بھائی کو۔

میک اپ کے دوران انھوں نے مجھے آئینہ نہیں دیکھنے دیا اور کہا کہ جب پوری تیار ہو جاو گی تب آئینہ دیکھنا۔

کوئی ڈیڑھ گھنٹہ لگا میک اپ مکمل کرنے میں اور جب میں نے آئینہ دیکھا تو یقین مانیے کہ ایک لمحے کے لیے میں اپنے آپ کو پہچان ہی نہ سکی۔ وہاں میر ی جگہ پر کوئی 85 سالہ بڑھیا تھی۔

یہ میک اپ تین مہینے تک ہر ہفتے ہوتا رہا جس کے نتیجے میں میرے چہرے پر مستقل چھریاں پڑ گئیں اوراس کے بعد میری جلد پھر کبھی ٹھیک نہیں ہوئی۔

ہالی وڈ میں اس طرح کی چیزوں کے لیے لاکھوں ڈالر کی انشورنس ہوتی ہے لیکن ہمارے جنون کے آگے پیسہ کیا چیز ہے؟

’نشیمن‘ میں ہی ایک اور کارنامہ یہ تھا کہ ’لا ڑی صاحب‘ جب اپنے علاقے کے دورے پر جاتی تھیں تو گھوڑے پر بیٹھ کر گزرا کرتی تھیں اور سارا علاقہ پہاڑیوں پر مشتمل تھا۔

یاور حیات نے کوئی دس قسطیں کی ہوں گی کہ کہ انھیں ٹریننگ کے لیے امریکہ جانا پڑ گیا اور وہ سیریل کی ذمے داریاں اپنے اسسٹنٹ نصرت ٹھاکر کے سپرد کر گئے۔

ڈرامے کے رائٹر نے ایک سین لکھ دیا کہ ’لاڑی صاحب‘ گھوڑے پر بیٹھی اپنے علاقے کے دور پر جا رہی ہیں اور پھر وہاں پہنچ کر جرگہ کرتی ہیں۔

اب میرے لیے مسئلہ پہاڑوں پر گھڑ سواری کا کا تھا۔

میرا بچپن بہاولپور میں گذرا تھا اُس زمانے میں میں نے گھڑ سواری کی تھی لیکن باقاعدہ سیکھی نہیں تھی۔ پہاڑوں پر گھڑ سواری تو اور بھی مشکل اور خطر ناک کام تھا۔

نصرت ٹھاکر نے کہا بھی کہ سین کو بدل لیتے ہیں لیکن میں نے کہا کہ ہرگز نہیں، اب یہ میرے لیے چیلنج ہے۔ اس طرح کھاریاں کی پہاڑیاں میں نے گھوڑے پر بیٹھ کر پار کیں۔

’لاڑی صاحب‘ کے طور پر میرے حواری میرے ساتھ پیدل چل رہے تھے اُن میں گھوڑے کا سائیس بھی تھا جس نے گھوڑے کی لگامیں تھام رکھی تھیں۔

جب ڈھلوان پر سے گھوڑا اونچائی پر کودتا تو سمجھیے کہ بس جان نکل جاتی تھی لیکن اگر آپ میں سے کسی نے یہ سیریل دیکھا ہو تو وہ سین بالکل ہالی وڈ کی ویسٹرن فلم کا سا سین لگتا تھا۔

(عظمٰی گیلانی کی ان یادداشتوں کو غلام عباس سیال نے قلم بند کیا ہے۔ یہ اقتباسات خصوصی اجازت سے شائع کیے جا رہے ہیں۔)

اسی بارے میں