’گائیڈ‘ میری پسندیدہ ترین فلم ہے: وحیدہ رحمان

تصویر کے کاپی رائٹ ABHA SHARMA
Image caption ’مجھے جینے دو‘ کے نام سے ہونے والے اس سیشن میں انھوں نے اپنے فلمی سفر کے تجربات بیان کیے

بھارت کے شہر جے پور میں جاری ادبی فیسٹول کے دوسرے روز جب گذرے زمانے کی مشہور اداکارہ وحیدہ رحمان کے استقبال میں فلم ’گائیڈ‘ کا مقبول نغمہ ’آج پھر جینے کی تمنا ہے‘ بجایا گیا تو پورا پنڈال تالیوں سے گونج اٹھا۔

جے پور میں رات سے جاری بارش اور سردی کے باوجود وحیدہ کے مداح بڑی تعداد میں انھیں سننے کے لیے وہاں پہنچے۔

’مجھے جینے دو‘ کے نام سے ہونے والے اس سیشن میں انھوں نے اپنے فلمی سفر کے تجربات بیان کیے۔

فلم ’گائیڈ‘ میں ’روزی‘ کے طور پر ان کا کردار تمام حدیں توڑتا ہوا نجات پانے کی خواہش لیے ہوئے ہے تو فلم ’خاموشی‘ میں کسی کی زندگی بہتر بنانے کے لیے ہمدردانہ جذبے سے سرشار ہے۔

فلم ’مجھے جینے دو‘ کی ’چمیلي جان‘، ’تیسری قسم‘ کی ’ہیرا جان‘ اور ’ریشما اور شیرا‘ کی ریشم جیسےبہت سے کرداروں کو خوبصورتی سے نبھانے والی وحیدہ رحمان نے ایک لائق اور قابل اداکارہ کی شناخت حاصل کی۔

نام نہیں بدلا

تصویر کے کاپی رائٹ UTV
Image caption دیو آنند خود کو صرف ’دیو‘ ہی کہلانا پسند کرتے تھے: وحیدہ رحمان

انھوں نے وحیدہ رحمان کے نام سے شہرت اور کامیابی حاصل کی لیکن سنہ 1950 کے جس عشرے میں وہ فلموں میں آئی تھیں اس وقت سلور سکرین پر کچھ اور نام رکھنے کی روایت عام تھی۔

بھارت کے معروف اداکار دلیپ کمار، مدھوبالا اور مینا کماری نے اپنے لیے نئے فلمی ناموں کا انتخاب کیا تھا۔

وحیدہ رحمان سے بھی کہا گیا کہ ان کا نام لمبا ہے، اچھا نہیں ہے، گلیمرس بھی نہیں ہے اور نہ ہی ان میں کوئی جنسی اپیل ہے۔ اس وقت وہ محض 16 برس کی تھیں اور نہ بالغ ہونے کے سبب ان کے كنٹریكٹ ان کی والدہ سائن کیا کرتی تھیں۔

لیکن وحيدہ اپنے ماں باپ کے دیے نام کو ہی رکھنے پر اڑي رہیں اور انھوں نے اپنے کام سے ثابت کر دیا کہ یہی نام ان کے لیے سب سے اچھا ہے۔

فلمی سفر کے اپنے تجربات بتاتے ہوئے وحیدہ رحمان نے کہا کہ فلم ’گائیڈ‘ ان کی پسندیدہ ترین فلم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں ’پیاسا‘، ’مجھے جینے دو‘، ’ریشما اور شیرا‘ اور ’خاموشی‘ جیسی فلمیں بھی بہت پسند ہیں۔ اس وقت کے حساب سے ’گائیڈ‘ میں روزی کا ان کا کردار بہت ہی بولڈ اور پروگریسیو ہے۔

ٹھہری ہوئی عورت

فلم ’صاحب بیوی اور غلام‘ میں انھیں امید تھی کہ گرودت انھیں بیوی کا رول دیں گے لیکن انھیں اس وقت مایوسی ہوئی جب گرودت نے کہا ’یہ ایک ٹھہری ہوئی عورت کا کردار ہے۔ ایک شادی شدہ کا جو اپنے شوہر کا انتظار کرتی رہتی ہے۔ آپ لڑکی لگتی ہیں۔‘

دیو آنند کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ خود کو صرف ’دیو‘ ہی کہلانا پسند کرتے تھے۔ کافی کوشش کے بعد ہی وحیدہ انھیں صرف دیو کہہ کر بلانے کی ہمت کر سکی تھیں۔

پرفیکشنسٹ گرو دت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ان کی سادگی میں بھی خوبصورتی اور عاجزی ہے جبکہ آواز کی مٹھاس اب بھی برقرار ہے

وحیدہ نے بتایا کہ گرو دت بہت ’پرفیکشنسٹ‘ تھے اور ری ٹیکس کا سلسلہ چلتا رہتا تھا۔اس کے بر عکس ہدایت کار ستيہ جیت رائے تین منٹ کا شاٹ ہو تو آدھا منٹ بھی زیادہ شوٹ نہیں کرتے تھے۔

گرو دت کی فلم ’پیاسا‘ کے ایک شاٹ کے تقریبا 76 ٹیک ہوئے، حالانکہ یہ ان پر نہیں فلمایا گیا تھا۔ کبھی ڈائيلاگ کی وجہ سے تو کبھی کیمرے تو کبھی ساؤنڈ کی وجہ سے ٹیک پر ٹیک ہوتے رہے۔

وحیدہ اپنی قریبی دوست نندا کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ باہمی اعتماد ہو اور حسد نہ ہو تو دوستی میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ ویسے ان کا خیال ہے کہ اکثر میڈیا بھی بہت سی باتیں بڑھا چڑھا کر اڑا دیتا ہے۔

عمر کے اس حصے میں اب وہ چودھویں کا چاند تو نہیں ہیں لیکن ’لمحے‘ کی دائی جا ایک پر اثر شخصیت ضرور ہیں۔

ان کی سادگی میں بھی خوبصورتی اور عاجزی ہے جبکہ آواز کی مٹھاس اب بھی برقرار ہے۔