بالی وڈ راؤنڈ اپ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

کشمیری پندتوں پر بھی فلم بنانے کا ارادہ ہے

تصویر کے کاپی رائٹ JLF PR
Image caption فلم حیدر کو فلم ناقدین کی جانب سے بہت سراہا گيا ہے

بھارت کے ’گلابی شہر جے پور میں جاری ادبی میلے میں فلم ساز وشال بھردواج نے اپنی معروف فلم ’حیدر‘ پر کی جانے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیری پنڈتوں پر بھی فلم بنانا چاہتے ہیں۔

تاہم انھوں نے اس فلم کے لیے وقت یا منصوبہ بندی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

انھوں نے کہا کہ جب دل کہے گا تو وہ کشمیری پنڈتوں پر ضرور فلم بنائیں گے۔ وشال کا کہنا تھا کہ کشمیری پنڈتوں کا مسئلہ ’حیدر‘ میں دکھانا پانا ممکن نہیں تھا۔

’حیدر‘ پر مبنی اجلاس میں یہ سوال چھایا رہا کہ ان کی فلم ولیم شیکسپیئر کے مشہور ڈرامے ’ہیملٹ‘ سے کس حد تک قریب ہے اور کیا وہ اس کے ذریعے ویسا ہی مضبوط سیاسی پیغام دینا چاہ رہے تھے؟

بھاردواج کے خیال میں اس میں شاید پیغام سے بھی زیادہ کچھ ہے۔

یکطرفہ فلم بنانے کے الزامات کو نظر انداز کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ’صرف کشمیر کے انسانی المیے‘ کی ترجمانی کرنا چاہتے تھے۔‘

تین خان نصف سنچری کے قریب

Image caption عمر کے ساتھ ان تینوں خانوں میں نکھار آيا ہے اور سب اپنے اپنے منفرد انداز کی وجہ سے مقبول ہیں

ہر چیز کی ایک عمر ہوتی ہے۔ فلمی ستاروں کی بھی چمک عمر کے ساتھ کم ہوتی جاتی ہے۔

اس سال بالی وڈ کے تین خان سلمان خان، شاہ رخ خان اور عامر خان 50 سال کے ہو جائیں گے۔ تاہم اس عمر میں بھی یہ تینوں خان نہ صرف ہٹ فلمیں دے رہے ہیں بلکہ نئی نسل کو ان سے سخت چیلنج کا سامنا ہے۔

تینوں خان کی لوگوں کے درمیان اپنی منفرد شبیہ ہے۔ جہاں شاہ رخ خان نے اپنی فلموں سے رومانی ہیرو کی شبیہ بنا رکھی ہے وہیں سلمان خان رومانٹک ہیرو اور ایکشن ہیرو نظر آتے ہیں جبکہ عامر خان نے خود کو ’پرفیكشنسٹ‘ بنا رکھا ہے۔

ہندی فلم کی تاریخ پرنظر رکھنے والے راجہ بھارتن کہتے ہیں: ’شاہ رخ ہر فلم سے نكھرتے رہے اور عامر نے سمجھ کر فلمیں کیں جبکہ سلمان خان میں ہمیشہ سے ایک سنہری کرشمہ رہا ہے۔ صرف قسمت آپ کو اتنا آگے نہیں لے جا سکتی محنت بھی ضروری ہے۔‘

جبکہ فلم تاریخ داں رفیق بغدادی کہتے ہیں: ’تینوں خانوں نے ہدایتکاروں کے ساتھ مل کر کامیاب فلمیں دی ہیں۔ مثال کے طور پر سلمان خان - سورج بڑجاتيا، شاہ رخ خان - یش چوپڑہ، عامر خان - راجکمار ہرانی۔‘

اتنی بار قینچی چلی کہ ۔۔۔

تصویر کے کاپی رائٹ maruti international
Image caption فلم سیکس کامیڈی کے زمرے میں رکھی گئی ہے

بالی وڈ ہدایت کار اندر کمار کی فلم ’گرینڈ مستی‘ کی ریلیز کے 17 ماہ کے بعد آخر کار اسے ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے کی اجازت مل گئی ہے۔

لیکن اس سیکس کامیڈی کے لیے راستہ ابھی بھی ہموار نہیں ہے کیونکہ ٹی وی پر دکھائے جانے سے پہلے سنسر بورڈ نے اس فلم کے 200 سے بھی زیادہ مناظر اور مکالموں پر قینچي چلانے کا مطالبہ رکھا ہے۔

ممبئی کے اخبار مڈ ڈے کے مطابق بورڈ کے ایک افسر نے کہا: فلم کو سرٹیفیکیٹ دیا جائے گا لیکن پہلے فلم ساز کمپنی کو فلم سے قابل اعتراض چیزوں کو ہٹا کر سینسر بورڈ کو دکھانی ہوگی۔

200 سے بھی زیادہ جگہ کاٹنے کے بعد فلم میں کیا بچے گا اس کا تصور کرنا مشکل ہے۔

گرینڈ مستی سے پہلے بھی بعض فلموں کو ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے کے لیے قینچی چلائی گئی تھی جیسے - ’ڈرٹي پکچر‘ (سو سے زیادہ کٹ)، ’گینگز آف واسع پور‘ (سو سے زیادہ کٹ) ’دہلی بیلی‘ (20 سے زیادہ کٹ)