گاندھی کا پوتا، نہرو کی بھانجی

Image caption کراچی کے بیچ لگژری ہوٹل میں ہونے والے اس میلے کے لیے اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس، او یو پی کو تین ممالک، سات سے زائد ملکی اور غیر ملکی ثقافتی اداروں اور کوکا کولا کا تعاون حاصل ہے

کراچی ادبی میلہ اس سال چھ، سات اور آٹھ فروری کو منعقد ہو رہا ہے۔ اس سال 85 اجلاسوں میں نو ممالک کے 37 مندوبین سمیت 210 ادیب اور دانشور اظہار خیال کریں گے جبکہ 28 کتابوں کا اجرا ہو گا۔

کراچی کے بیچ لگژری ہوٹل میں ہونے والے اس میلے کے لیے اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس (او یو پی)، سات سے زائد ملکی اور غیر ملکی ثقافتی اداروں اور کوکا کولا کا تعاون حاصل ہے۔

جمعہ کو کراچی آرٹس کونسل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے او یو پی کی منیجنگ ڈائریکٹر اور کراچی لٹریری فیسٹیول ( کے ایل ایف) کی بانی امینہ سید اور شریک بانی ڈاکٹر آصف فرخی نے بتایا کہ اس سال میلے کی افتتاحی تقریب میں کلیدی مقرر انگریزی میں لکھنے والی بھارتی فکشن رائٹر نین تارا سہگل اور پاکستانی شاعرہ زہرہ نگاہ ہوں گی۔

پانچویں کراچی ادبی میلے میں انتظار حسین، ندیم اسلم اور گاندھی جی کے پوتے ڈاکٹر راج موہن گاندھی سپیکر تھے جبکہ اس سال کی کی سپیکر پنڈت جواہر لعل نہرو کی بھانجی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میلے کے شرکا کی تعداد بھی پہلے سے زیادہ ہونے کا امکان ہے کیونکہ میلے نے لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیا ہے۔

ان کے مطابق سنہ 2010 میں شرکا کی تعداد پانچ ہزار تھی جو سنہ 2014 میں بڑھ کر 70 ہزار تک پہنچ گئی۔

ڈاکٹر آصف فرخی نے جو خود بھی ایک ممتاز افسانہ نگار، مترجم، نقاد اور سہ ماہی کتابی سلسلے ’دنیازاد‘ کے مدیر ہیں بتایا کہ میلے میں داستان گوئی، مشاعرہ، پرفارمنگ آرٹس، پوسٹر، آرٹ ایگزیبیشن، ویڈیو سکریننگ، بچوں کے لیے کھیل تماشے کے علاوہ مصنفوں سے ان کی کتابوں پر دستخط کرانے کے مواقع بھی ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سال بہترین فکشن، نان فکشن اور امن انعامات شارٹ لسٹ کی جانے والی کتابوں میں سے تین کتابوں کو دیے جائیں گے۔

آصف فرخی کا کہنا تھا کہ کراچی ادبی میلہ اب محض ایک مقامی تقریب نہیں رہا اس میں نہ صرف ملک بھر سے بلکہ برطانیہ، امریکہ، جرمنی، فرانس، کینیڈا، روس اور بنگلہ دیش سے بھی لوگ شرکت کرتے ہیں۔

Image caption پانچویں کراچی ادبی میلے میں انتظار حسین، ندیم اسلم اور گاندھی جی کے پوتے ڈاکٹر راج موہن گاندھی سپیکر تھے جبکہ اس سال کی کی سپیکر پنڈت جواہر لعل نہرو کی بھانجی ہیں

انھوں نے پاکستان اور دوسرے ممالک سے آنے والے ان ادیبوں، دانشوروں اور شاعروں نام بھی بتائے جن کی آمد کی توثیق ہو چکی ہے۔

اس سال کا فیسٹول ’میں کراچی‘ کے نام سے شروع کی جانے والی امن مہم کی حمایت اور تعاون سے ہو رہا ہے۔

’میں کراچی‘ کے لیے قائم کیے جانے والے کنسورشیم کے رکن سی پی ایل سی کے بانی جمیل یوسف نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

ان کا کہنا تھا ’یہ مہم اس شہر میں جاری بد امنی کے چیلنج کا سماجی اور ثقافتی جواب ہے‘۔

جمیل یوسف کا کہنا تھا ’میں کراچی‘ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے، جو تشویش میں مبتلا شہریوں کو ایک جگہ اکٹھا ہونے کا موقع دے گا تاکہ ان میں امید کی کرن پیدا ہو، انھیں خود پر فخر ہو، وہ متحد ہوں، ایک پر امن شہر کے لیے جد و جہد کریں اور اس پر اپنے حق کے دعویدار بنیں۔‘

انعامات کی تفصیل بتاتے ہوئے امینہ سید نے کہا کہ کے ایل ایف، کوکا کولا، بیسٹ نان فکشن بک پرائز، کے ایل ایف ایمبیسی آف فرانس ،بیسٹ فکشن بک پرائز اور امن انعام جرمن سفارت و قونصل خانے کی جانب دیا جائے گا۔

میلے کے لیے تعاون کرنے والوں میں قونصلیٹ جنرل آف جرمنی کراچی، گوئٹے انسٹیٹیوٹ، امریکی قونصلیٹ جنرل کراچی، سفارت خانہ فرانس، قونصلیٹ جنرل آف فرانس کراچی، الیانس فرانسے کراچی، برٹش کونسل، امریکن انسٹیٹیوٹ آف پاکستان سٹڈیز، ساؤتھ ایشین انسٹیٹیوٹ، یونیورسٹی آف ٹیکساس، سفارت خانہ اٹلی، قونصل خانہ اٹلی کراچی، کوکا کولا اور تہذیب فاؤنڈیشن شامل ہیں۔

اسی بارے میں