’میں ڈیڑھ گھنٹے روتی رہی‘

Image caption میں نے ایک کونے میں بیٹھ کر چچا میاں اور ببّا (والد) کو یاد کیا۔ ان کے بارے میں سوچا لیکن کچھ اثر نہ ہوا

’ایک بات جو پہلے دن سے آج تک میرے ساتھ ہوتی رہی ہے کہ جب مجھے سائلینس اینڈ کیو silence & queue کی آواز آتی ہے تو دل زور سے دھڑکنے لگتا ہے اور حلق میں ایسے لگتا ہے جیسے زبان کوئی اندر کی طرف کھینچ رہا ہو۔

غرض یہ کہ میں اب تک کیمرے کے سامنے ویسے ہی نروس ہوتی ہوں جیسے پہلے دن ہوئی تھی۔

مجھے یاد ہے جب قوی خان کے ساتھ ’قلعہ کہانی‘ میں پہلی بار میرا سین شروع ہوا تو یہی کیفیت ہوئی تھی۔

لالی! چار آنے دو

’گھوڑا چھلانگ لگاتا تو جان نکل جاتی تھی‘

’میں اکیلی ان بارودی سرنگوں سے گزری‘

’دو شادیوں والے ڈرامے پر جنرل ضیا نے بلوا لیا‘

میں نے سوچا کہ بڑ ے آرٹسٹ سے ڈرنے کی بجائے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے آپ کو اس کے مقابلے کا آرٹسٹ سمجھنا چاہیے۔

لیکن مسئلہ یہ تھا کہ مجھے ڈرانے والا کوئی آرٹسٹ نہیں بلکہ کیمرہ تھا جو آج تک مجھے ڈراتا ہے۔

ڈراما وارث کا ایک سین تھا جس میں مجھے اپنے والد کا کردار کرنے والے (سجاد کشور) سے ملنا ہے جو بیس پچیس سال سے بچھڑے ہوئے ہیں۔

کہانی کے مطابق اس عرصے کے دوران میں یہ سمجھتی رہتی ہوں کہ وہ مر چکے ہیں، پھر اچانک خبر ملتی ہے کہ وہ تو زندہ ہیں، لوٹ آئے ہیں اور گھر میں میرا انتظار کر رہے ہیں۔

بہت مشکل کام تھا کہ اس ساری صورتحال میں ایکٹنگ کیا کی جائے؟ کسی بھی طرح کے جذبات پیدا نہیں ہو رہے تھے۔

میں نے ایک کونے میں بیٹھ کر چچا میاں اور ببّا (والد) کو یاد کیا۔ ان کے بارے میں سوچا لیکن کچھ اثر نہ ہوا۔

نصرت ٹھاکر (ڈائریکٹر) سے کہا: ٹھاکر! کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ ایسی صورتحال میں کیا رد عمل دکھایا جانا چاہیے؟

ٹھاکر نے کہا ایک کام کرتے ہیں کہ غیر ضروری لوگوں کو سٹوڈیو سے باہر بھیج دیتے ہیں اور بہت خاموشی سے یہ سین کرتے ہیں۔ اگرسین ٹھیک نہ ہوا تو دوبارہ کر لیں گے۔

خیر کیمرے رول ہوتے ہی Queue کی آواز پر میں دروازے سے کمرے میں داخل ہوتی ہوں۔ میرا چہرہ سپاٹ اور جذبات سے عاری ہے۔ وہاں پر میرے والد بیٹھے ہیں۔ تھوڑی دیر کے لیے ہم ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں۔ میں ابھی بھی کچھ محسوس نہیں کر رہی۔

پھر میں ہاتھ میں پکڑا ہوا پرس پھینکتی ہوں اور بھاگ کر باپ کے سینے سے لپٹ جاتی ہوں۔

بس لپٹنے کی دیر تھی کہ آہستہ آہستہ آنسو نکلنا شروع ہوئے اور پھر جو میں ہچکیوں کے ساتھ اونچی اونچی آواز میں رونا شروع ہوئی تو مختلف زاویوں سے پندرہ بیس منٹ کے اندر سارا سین ریکارڈ ہو گیا۔

ظاہر ہے صرف رونا نہیں تھا الگ الگ ایکسپریشن بھی دینے تھے اور ڈائیلاگز بھی بولنے تھے۔

سین مکمل ہوتے ہی سٹوڈیو میں موجود لوگوں نے تالیاں بجانی شروع کر دیں۔ سجاد کشور بھی جذباتی ہوگئے۔ آپ یقین مانیے ایک دیڑھ گھنٹے تک ریکارڈنگ رکی رہی اور میں ہچکیوں کے ساتھ روتی رہی۔

ڈراما وارث کا ذکر آئے اور محبوب عالم (چوہدری حشمت) کی یاد نہ آئے یہ ہو ہی نہیں سکتا۔

میرے ساتھ محبوب عالم نے دو ڈراموں میں کام کیا تھا۔ وارث اور دھوپ جلی۔ محبوب نہایت ہی بھولا اور اللہ لوک انسان تھا۔

افسوس کہ شاید اسے شہرت راس نہ آئی۔ وہ ساری صورتحال کو پچا (ہضم) نہ سکا اور ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہوا کہ بالآخر اپنی جان پر کھیل گیا۔

(عظمٰی گیلانی کی ان یادداشتوں کو غلام عباس سیال نے قلم بند کیا ہے۔ یہ اقتباسات خصوصی اجازت سے شائع کیے جا رہے ہیں۔)

اسی بارے میں