’خیبر کے فنکار، خوف کا شکار‘

Image caption 2002 میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت میں گلوکاروں اور فنکاروں پر دباؤ بڑھا

پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں گذشتہ تقریباً ایک دہائی سے گلوکاروں اور موسیقی سے وابستہ ہنرمندوں پر جاری شدت پسندوں کے حملوں میں پہلے کے مقابلے میں خاصی کمی دیکھی جا رہی ہے تاہم اس کے باوجود فنکار برادری بدستور شدید خوف و ہراس کا شکار نظر آتی ہے۔

اس دوران شدت پسند حملوں اور بعض دیگر وجوہات کی بنا پر اب تک ایک درجن کے قریب فنکار وگلوکار یا دیگر ہنر مند ہلاک کیے جا چکے ہیں جبکہ کئی گلوکار ملک چھوڑ کر دوسرے ممالک میں پناہ لینے یا یہ پیشہ ترک کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں گلوکاروں اور فنکاروں پر دباؤ کا آغاز دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہو جانے کے بعد ہی ہوا تھا۔ تاہم اس میں شدت اس وقت دیکھی گئی جب 2002 میں اس صوبے میں مذہبی جماعتوں پر مشتمل متحدہ مجلس عمل کی حکومت قائم ہوئی۔

ایم ایم اے کی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی سب سے پہلے پشاور سمیت پورے صوبے میں موسیقی پر پابندی لگائی اور فنکاروں کو ان کے علاقوں سے زبردستی بے دخل کر دیا گیا۔ پشاور کا واحد تفریحی مرکز اور فنکاروں کے روزگار کا مقام نشتر ہال بھی بند کر دیا گیا جس کی وجہ سے سینکڑوں ہنرمند بے روزگار ہو گئے۔

پشتو کے مشہور گائیک گلزار عالم ان گلوکاروں میں شامل ہیں جنھیں ایم ایم اے حکومت کے رویّے اور شدت پسندوں کے خوف کے باعث اپنا شہر اور گھر بار چھوڑنا پڑا۔

گلزار عالم کا کہنا ہے کہ متحدہ مجلس عمل کی حکومت میں انھیں مارا پیٹا گیا اور ان کے بیٹوں پر جھوٹے کیس بنائے گئے جس کی وجہ سے انھیں مجبوراً پشاور چھوڑ کر کوئٹہ منتقل ہونا پڑا۔

انھوں نے کہا کہ وہ کچھ عرصہ بلوچستان میں رہے تاہم جب 2008 میں خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو وہ واپس پشاور آ گئے، تاہم اس وقت تک فنکاروں کےلیے حالات بہت خراب ہو چکے تھے۔

’ آج کل امن عامہ کی حالت پہلے کے مقابلے میں کافی حد تک بہتر ہے لیکن فنکاروں میں بدستور خوف کی کیفیت پائی جاتی ہے۔‘

ان کے مطابق: ’موسیقی کی ترقی کا جو ایک دور تھا وہ رک سا گیا ہے اور شاید پھر سے وہ ماحول بننے میں کئی عشرے لگ جائیں۔‘

انھوں نے الزام لگایا کہ شدت پسندی کی وجہ سے موسیقی اور اس سے وابستہ ہنرمندوں کو جو نقصان پہنچا اس کی دوبارہ بحالی کے لیے کسی حکومت یا ادارے کی طرف سے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا جا سکا ہے۔

2008 اور 2009 میں جب فاٹا اور مالاکنڈ ڈویژن میں شدت پسندوں کی کارروائیاں عروج پر تھیں تو ان دنوں بڑے بڑے شہروں میں لوگ عوامی مقامات پر آزادانہ طور پر موسیقی سننے میں خوف محسوس کرتے تھے۔

Image caption گائیک گلزار عالم ان گلوکاروں میں شامل ہیں جنھیں ایم ایم اے حکومت کے رویّے اور شدت پسندوں کے خوف کے باعث اپنا شہر اور گھر بار چھوڑنا پڑا

شادی بیاہ کے تقریبات میں بھی عوام نے گانے بجانے کی محفلیں ترک کر دی تھیں۔ یہ وہ وقت تھا جب فنکاروں اور گلوکاروں کے خلاف تشدد کے واقعات بڑھنے لگے اور کئی فنکار مارے بھی گئے۔ ان دنوں خیبر پختونخوا میں ایسا کوئی بڑا فنکار نہیں تھا جسے شدت پسندوں کی طرف سے قتل کی دھمکی نہ دی گئی ہو یا اسے یہ پیشہ ترک کرنے پر مجبور نہ کیا گیا ہو۔

موسیقی پر تحقیق کرنے والے سینئیر تجزیہ نگار شیر عالم شنواری کا کہنا ہے کہ اس میں شک نہیں کہ شدت پسندی کی وجہ سے پشتو موسیقی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے لیکن اکثر اوقات جب ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں تو پھر اس کا ردعمل بھی آتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس میں بھی شک نہیں کہ موسیقی پر دباؤ کے باعث پشتو میوزک میں اب نئے نئے نوجوان گلوکار سامنے آرہے ہیں جالانکہ پہلے اس طرح نہیں تھا۔ آج کل پشتو موسیقی دیگر زبانوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ فعال سمجھی جاتی ہے۔‘

ان کے مطابق پشتونوں کو موسیقی سے لگاؤ تو ہے لیکن ان کے معاشرے میں فنکاروں کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا جس کی وجہ سے ان کی ثقافتی ترقی بھی متاثر ہورہی ہے۔

خیبر پختونخوا میں فنکاروں کی مشکلات کی کئی وجوہات بیان کی جاتی ہیں جس میں ایک بڑی وجہ حکومت کی طرف سے فن اور ثقافت کے حوالے سے واضح اور موثر پالیسیوں کا فقدان بھی ہے۔

تاہم صوبے میں برسر اقتدار تحریک انصاف کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان کے دور میں گلوکاروں اور فنکاروں کو کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر ثقافت شاہ فرمان کا کہنا ہے کہ پہلی حکومتوں میں فنکار اور گلوکار آزادانہ طور پرگھوم پھر نہیں سکتے تھے یہاں تک وہ خوف کے باعث گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے تھے ۔

انھوں نے دعوی کیا کہ آج کل نہ صرف فنکار برادری آزاد ہے بلکہ حکومت کی طرف سے ان کی بحالی کےلیے اقدامات بھی ہو رہے ہیں جبکہ دیگر شعبوں کے مقابلے میں فنکاروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں