ناول کی اشاعت کے لیے دباؤ نہیں ڈالا گیا: ہارپر لی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تنہائی پسند 88 سالہ ہارپر نے کہا ہے کہ وہ اپنے نئے ناول کی اشاعت کی خبروں پر آنے والے ردعمل پر بہت خوش ہیں

مشہور مصنفہ ہارپر لی نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے کہ اپنے ’گمشدہ‘ ناول کی اشاعت کے سلسلے میں ان پر کوئی دباؤ ڈالا گیا ہے۔

اس نئے ناول کا نام ’گو سیٹ اے واچ مین‘ ہوگا اور ہارپر کے مقبولِ زمانہ ناول ’ٹو کِل اے موکنگ برڈ‘ کی 1960 کی دہائی میں اشاعت کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ان کا کوئی ناول شائع ہو رہا ہے۔

دنیا بھر میں ’ٹو کِل اے موکنگ برڈ‘ کی چار کروڑ کاپیاں فروخت ہوئی تھیں اور اب اس بزرگ مصنفہ کے نئے ناول کا بےچینی سے انتظار کیا جا رہا ہے۔

ناول کی اشاعت کا اعلان منگل کو کیا گیا تھا تاہم کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ تنہائی پسند 88 سالہ ہارپر کو اپنے سے دہائیوں پرانے مسودے کی اشاعت پر مجبور کیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں ہارپر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’میں زندہ اور باہوش ہوں اور ناول کے بارے میں ردعمل پر بہت خوش ہوں۔‘

ہارپر لی کا آنے والا ناول ’ٹو کل اے موکنگ برڈ‘ سے قبل لکھا گیا تھا اور دونوں ناولوں کے کئی کردار ایک ہی ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اس گمشدہ ناول کا مسودہ حال ہی میں ہارپر کی وکیل بہن ٹونجا کارٹر نے ان کے سامان سے دریافت کیا تھا۔

’ٹو کل اے موکنگ برڈ‘ کے لیے ہارپر نے نہ صرف پُلِٹزر انعام جیتا تھا بلکہ اس پر بنائی جانے والی فلم کو بھی آسکر ایوارڈ ملا تھا۔

تاہم اب نئے ناول کے اشاعت کے اعلان کی ’ٹائمنگ‘ کے حوالے سے شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں کیونکہ یہ اعلان ہارپر کی بڑی بہن ایلس کے انتقال کے چند ماہ بعد سامنے آیا ہے اور ایلس اپنی چھوٹی بہن کو باہر کی دنیا سے بچاتی رہی تھیں۔

نومبر میں 103 برس کی عمر میں انتقال کرنے والی ایلس نے 2011 میں لکھا تھا کہ ’ہارپر نہ تو دیکھ سکتی ہیں نہ سن سکتی ہیں اور ہر اس چیز پر دستخط کر دیں گی جو کوئی ایسا شخص ان کے سامنے رکھے گا جس پر انھیں اعتماد ہو۔‘

تاہم پینگوئن رینڈم ہاؤس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ’ہارپر لی اب بھی پڑھنا پسند کرتی ہیں اور نابیناؤں کے لیے نیویارک کے مرکز میں محدب عدسے کی مدد سے کتابیں، اخبار اور دستاویزات کا مطالعہ کرتی ہیں۔‘

اسی بارے میں