لاہور میں سخت سکیورٹی میں سالانہ ادبی میلے کا آغاز

Image caption لاہور ادبی میلے میں حاضرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

لاہور میں تین روزہ ادبی میلے کا آغاز ہوگیا ہے اور سکیورٹی خدشات اور موسلادھار بارش بھی صرف ملک بھر ہی نہیں بلکہ دنیا بھر سے آنے والے لکھاریوں، ادیبوں اور ادب سے چاہت رکھنے والوں کو نہ روک سکی۔

بارش میں بھی حاضرین کی اتنی تعداد افتتاحی خطاب کے لیے الحمرا کے وسیع و عریض ہال میں موجود تھی کہ نشست کا حصول مشکل ہو رہا تھا۔

’لاہور لٹریری فیسٹیول‘ کا آغاز معروف بھارتی مورخ رومیلا تھاپڑ کے خطاب سے ہوا جس میں انھوں نے تاریخ کو معروضیت کی نگاہ سے دیکھنے پر زور دیا۔

رومیلا تھاپڑ کا کہنا تھا کہ اس خطے میں مذہبی اقلیت اور اکثریت کا تصور برطانوی راج سے پہلے موجود نہیں تھا۔

انھوں نے تحقیق اور ثبوت کے بغیر لکھی ہوئی تاریخ کے تناظر میں پیدا ہونے والے سیاسی اور سماجی مسائل کی طرف بھی اشارہ کیا۔

اتوارتک جاری رہنے والے اس میلے میں 75 دور یا سیشنز ہوں گے جن کے دوران دہکتے سماجی مسائل پر ادبی گفتگو، کئی کتابوں کی رونمائی اور سوال و جواب کی نشستیں منعقد کی جا رہی ہیں۔

فیسٹول میں شرکت کے لیے آنے والی ایک خاتون نزہت سعدیہ صدیقی نے بتایا کہ ’یہ میلہ اس لیے خاص ہے کہ اس میں انگریزی اور اردو کے ساتھ مقامی ادب کے لیے بھی کئی سیشنز ہیں اور میں اسی لیے ہی یہاں آئی ہوں۔ انگریزی اور اردو ادب تو ہم ویسے بھی پڑھتے ہی رہتے ہیں۔ یہاں آکر مقامی زبانوں کے ادب سے بھی شناسائی ملے گی‘۔

ادب کے ساتھ فنون لطیفہ کو بھی اس میلے میں خاص اہمیت دی گئی ہےاور کئی نشستیں ایسی ہیں جہاں جنوبی ایشیا میں جدید مصوری کی تحریک کے حوالے سے مذکراے ہو رہے ہیں۔ سلیمہ ہاشمی کی کتاب ’دی آئی سِٹل سیکز‘ (آنکھ اب بھی تلاش کرتی ہے) بھی اس طرح کی کتابوں میں سے ایک ہے جس کی رونمائی میلے کے دوران ہی کی جائے گی۔

دانشور پرویز ہودبھائی کا کہنا تھا کہ ’پورے سماج میں گھٹن کے ماحول کے باوجود لاہور ادبی میلے میں آ کر تھوڑی دیر کے لیے اطیمنان اور آزادی کا احساس ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے جو کتابیں لکھتے اور پڑھتے ہیں اور جو دنیا اور اس میں ہونے والے واقعات پر غوروفکر کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں عام طور پر ایسے لوگ کم ہی نظر آتے ہیں۔‘

Image caption پولیس کے حصار میں ہی سہی یہ میلہ اپنے مقررہ وقت پر شروع ہوا

ہودبھائی اس میلے کے دوران قرطبہ کی تاریخ سے متعلق ایک سیشن میں شریک ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ وہ اپنے سیشن میں قرطبہ کا وہ زمانہ زیر بحث لائیں گے جب دنیا بھر کے مفکر، سائنسدان اور عالم وہاں بیٹھ کر علمی بحثیں کرتے تھے، جب وہاں رواداری تھی۔

ہود بھائی کا کہنا تھا ’ہم اپنی نشست پر اس پہلو پر غور کریں گے کہ اب مسلمانوں میں پہلے جیسی رواداری کیوں نہیں اور کیسے اس صورتحال کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔‘

میلے کا انعقاد فیض فاؤنڈیشن کی شراکت سے کیا جا رہا ہے۔ اتوار کو فیسٹول کے آخری دن ’فیض کچھ عشق کیا کچھ کام کیا‘ کے عنوان سے ایک سیشن رکھا گیا ہے۔

اس سیشن میں عدیل ہاشمی کشمیری، ادیب اور سکرین رائٹر بشارت پیر سے گفتگو کریں گے۔ بشارت پیرحال ہی میں ریلیز ہونے والی بھارتی فلم حیدر کے سکرین پلے رائٹر ہیں۔

عثمان سمیع الدین کی ’دی کوائٹ ونز‘ اور برطانوی صحافی پیٹر اوبورن کی ’وُونڈڈ ٹائیگر‘ کی رونمائی بھی اتوار کے روز ہو رہی ہے۔

یہ دونوں کتابیں پاکستان کے مقبول ترین کھیل کرکٹ کی تاریخ سے متعلق ہیں۔

سنہ 1947 کے بعد پاکستان کرکٹ کن نشیب و فراز سے گزری، ورلڈ کپ کی فتح، سٹے بازی کے الزامات اور دہشتگردی کے اس کھیل پر کیا اثرات رہے۔ان پہلوؤں سے متعلق کئی پوشیدہ حقائق سے ان کتابوں میں پردہ اٹھایا گیا ہے۔

میلے میں صحافتی مسائل اور خاص طور پر ٹی وی نیوز کے مستقبل سے متعلق بھی ایک سیشن ’جرنلزم یا مرچ مصالحہ‘ کے نام سے منعقد کیا جارہا ہے۔

تین روز پہلے لاہور میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد شہر بھر میں سیکورٹی بڑھا دی گئی تھی اور خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ شاید لاہور لٹریری فیسٹیول کو ملتوی کردیا جائے گا۔

تاہم پولیس کے حصار میں ہی سہی یہ میلہ اپنے مقررہ وقت پر شروع ہوا۔

صحافی جگنو محسن کہتی ہیں ’ یہ لاہور کی بہادری اور زندہ دلی کی ایک مثال ہے۔ اس طرح کے خوف و ہراس کی ماحول میں ہمیں اس زندہ دلی کا ثبوت دینا ضروری تھا۔‘

ان کا مزید کہناتھا کہ ’اس میلے نے امن سے محبت رکھنے والے بہت سے لوگوں کو اکٹھا ہونے کا موقع دیا ہے۔‘

اسی بارے میں