الوداع جہاں نما

Image caption ’جہاں نما‘ کا آغاز 1969 میں ہوا اور 27 فروری 2015 کی صبح اس کا آخری پروگرام پیش کیا جائے گا

روایت کہتی ہے کہ ایران کا بادشاہ جمشید اپنے پیالے میں جھانک کر واقعاتِ عالم کی جھلک دیکھ لیا کرتا تھا۔ دنیا بھر میں جمشید کے اس پیالے کی ایسی دھوم مچی کے اسے جامِ جمشید کے ساتھ ساتھ جامِ جہاں نما بھی کہا جانے لگا۔

یہ دھوم صدیوں بعد تک، اُس وقت بھی قائم تھی جب بی بی سی کی اُردو سروس نے اپنی صبح کی نشریات شروع کیں، چنانچہ اس محفلِ صبح گاہی کا عنوان بھی ’جہاں نما‘ ٹھہرا۔

برسوں تک یہ محفل تازہ خبروں اور تبصروں پر انحصار کرتی رہی لیکن 1990 میں اردو سروس کے اُس وقت کے سربراہ بیری لینگریج نے بدلتے ہوئے وقت کے تقاضوں سے نمٹنے اور نشریات کے نئے نئے پینتروں سے مستفید ہونے کے لیے صبح کے پروگرام کو ایک مختلف رنگ دینے کی ٹھانی۔

اور یوں آج سے کوئی 25 برس پہلے شاہد ملک کی آواز میں صبح کا پروگرام ایک نئے انداز میں شروع ہوا جِس میں خبری معلومات کے علاوہ صبح کی مناسبت سے کچھ ہلکے پھلکے آئٹم بھی رکھے گئے۔

مثلاً ’آج کا دِن تاریخ کے آئینے میں‘ اور یہ سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں آج تک جاری ہے۔

میں نے 1990 میں سامعین کے خطوں کے جواب دینے شروع کیے۔ مجھ سے پہلے یہ سلسلہ رضا علی عابدی، راشد اشرف اور حسن ذکی کاظمی جیسے جیّد اور نابغہ روزگار نشرکاروں کے زیرِ نگرانی چلتا رہا تھا۔

آج سے کوئی 30 برس پہلے بی بی سی اردو سروس کو 65 ہزار کے قریب خطوط سالانہ موصول ہوتے تھے۔ انھیں پڑھنے اور چھانٹنے کے لیے ایک علیحدہ دفتر قائم تھا جس میں پانچ کُل وقتی ملازم کام کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بی بی سی اردو کی نشریات پاکستان سے باہر بھی ذوق و شوق سے سنی جاتی ہیں

شروع میں خطوں کے جوابات صرف شام کی نشریات میں دیے جاتے تھے، اور عموماً یہ اتوار کو نشر ہوتے تھے۔ پھر سامعین کی فرمائش پر خطوں کے محفل صبح کے وقت بھی سجنے لگی اور جہاں نما میں خطوں کا یہ سلسلہ آخر تک جاری رہا۔

اگرچہ سامعین کی جانب سے موصول ہونے والا ہر خط ہمارے لیے اہم رہا ہے ، لیکن ہر خط کو نشر کرنا بہر حال ممکن نہیں تھا۔ پھر بہت سے خطوط سامعین محض اپنا نام سننے کے لیے لکھ بھیجتے تھے۔ کچھ خطوں میں ہماری بے جا تعریف بھی ہوتی تھی اور ایسے خطوں سے ہم ہمیشہ بچ کے نکل جاتے تھے۔

ایک مرتبہ پاکستان کے سرحدی صوبے سے ایک پٹھان نوجوان کا خط آیا جس میں ہماری بے پناہ تعریف کی گئی تھی۔ ظاہر ہے ہم نے وہ خط نہیں پڑھا۔ کچھ دنوں بعد گل خان کا دوسرا خط آیا جس میں تنبیہ کی گئی تھی کہ لندن میں بیٹھ کر زیادہ ہوشیار بننے کی کوشش مت کرو اور سیدھی طرح میرے خط کا جواب دو۔

چونکہ خط میں کوئی قابلِ نشر بات نہیں تھی اس لیے اس کا بھی جواب نہ دیا گیا۔

تیسرے خط میں گُل خان نے کافی غصّے کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ بی بی سی والے اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں؟ ’تمھارے پروگرام کسی کام کے نہیں ہوتے۔ محض وقت ضائع ہوتا ہے۔۔۔ میں آئندہ تمھارا کوئی پروگرام نہیں سنوں گا۔۔۔‘

Image caption سامعین کی جانب سے موصول ہونے والا ہر خط اہم رہا ہے ، لیکن ہر خط کو نشر کرنا بہر حال ممکن نہیں تھا۔

اس کے بعد گل خان نے اپنا نام اور پتہ لکھا جو کچھ اس انداز کا تھا کہ

گُل خان ولد جلال خان

خٹک محلہ، چار سّدہ

صوبہ سرحد، پاکستان

اور پاکستان کے بعد بریکٹ میں لکھا تھا (ایٹمی طاقت)

ظاہر ہے ہم تو کانپ ہی گئے۔ فوراّ قلم اُٹھایا اور گُل خان کو جواب لکھ دیا۔

جہاں نما کے بند ہونے پر گُل خان، اور بہت سے دیگر خانوں کو بھی شدید صدمہ ہوا ہوگا، سندھ میں ہمارے بہت سے کھوسو اور تھیبو بھائی بہن بھی ناراض ہوئے ہوں گے، بلوچستان کے دور افتادہ دیہات کے وہ باسی جو بجلی کی سہولت سے بھی محروم ہیں اور بیٹری کے سیل ڈال کر صبح صبح ریڈیو کے ذریعے دنیا سے رابطے میں آتے ہیں، انھیں یقیناً جہاں نما کے بند ہونے کا افسوس ہوگا لیکن اُن میں سے ابھی تک کسی نے بھی ہمیں ایٹمی طاقت کی دھمکی نہیں دی۔