تھر کا آلاپ صادق فقیر، سڑک حادثے میں ہلاک

Image caption صادق فقیر روایتی تھری آلاپ کے علاوہ کلاسیکل راگ کے بھی طالب علم تھے

سندھ کے نامور لوک گلوکار صادق فقیر سعودی عرب میں ایک سڑک حادثے میں ہلاک ہوگئے جبکہ ان کی بیگم اور برادرِ نسبتی شدید زخمی ہیں۔

صادق فقیر گزشتہ ہفتے اپنے اہل خانہ کے ساتھ عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب گئے ہوئے تھے، آج عرفات سے واپسی پر ان کی ویگن سڑک حادثے کا شکار ہوگئی، جس میں وہ ان کی بیگم اور برادرِ نسبتی زخمی ہوگئے۔

صادق فقیر کے ایک قریبی دوست عبدالرحمان نے ٹیلیفون پر بتایا کہ زخمیوں کو قریبی ہپستال پہنچایا گیا جہاں سے ایک دوسرے ہپستال منتقل کیا گیا لیکن صادق فقیر جانبر نہیں ہوسکے تاہم ان کی بیگم اور برادرِ نسبتی کی حالت بہتر ہے۔

صادق فقیر کا تعلق سندھ کے صحرائی علاقے تھر سے تھا اور وہ روایتی منگنہار خاندان کے فرد تھے، ان کی تربیت میں ان کے ماموں حسین فقیر کا اہم کردار رہا۔ صادق نے گائیکی کی ابتد نجی محفلوں سے کی اور بعد میں ریڈیو پاکستان سے شہرت حاصل کی۔

انہوں نے شاہ عبدالطیف ، صوفی شاہ عنایت کے علاوہ شیخ ایاز، ایاز گل، ادل سومرو ، ڈاکٹر آکاش انصاری اور حلیم باغی جیسے سنجیدہ شعرا کا کلام گایا۔

سینیئر صحافی ناز سہتو کے مطابق ’جب کچھ گلوکار بھارتی دھنوں کی طرز پر گیت گاکر مقبولیت حاصل کر رہے تھے ایسے میں صادق فقیر نے روزہ رکھ کر اس سے اجتناب برتا اور سنجیدہ شاعری اور خالص دھنوں کا انتخاب کیا۔‘

صادق فقیر روایتی تھری آلاپ کے علاوہ کلاسیکل راگ کے بھی طالب علم تھے، اس وجہ سے وہ مارواڑی گیتوں پر بھی عبور رکھتے تھے، ان میں میرا بائی اور بھگت کبیر کے گیت شامل ہوتے تھے، اس کے علاوہ وہ ہر سال ہندو برداری کے مذہبی تہواروں پر بھجن بھی گایا کرتے تھے۔

صادق فقیر کے علمی استاد سینئر ادیب تاج جویو کا کہنا ہے کہ سندھ کے نامور شاعر شیخ ایاز نے کہا تھا کہ ’مجھے جس آواز کی تلاش تھی وہ مجھے صادق کی صورت میں مل گئی ہے۔‘

اسی بارے میں