سٹار ٹریک کے سپوک، لیونارڈ نیموئی انتقال کر گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption لیونارڈ نیموئی گذشتہ کئی سالوں سے پھیپھڑوں کے موذی مرض میں مبتلا تھے

شہرۂ آفاق سیریز سٹار ٹریک میں مسٹر سپوک کا کردار ادا کرنے والے امریکی اداکار لیونارڈ نیموئی 83 سال کی عمر میں لاس اینجلیس میں انتقال کر گئے۔

اُن کے بیٹے ایڈم نے بتایا کہ اُن کا وفات ایک موذی پھیپھڑوں کی بیماری کی وجہ سے جمعے کی صبح ہوئی۔

نیموئی نے لمبے عرصے تک اداکار اور ہدایتکار کی حیثیت سے کام کیا اور مگر ان کی وجۂ شہرت ایک نیم انسان نیم دیومالائی کردار کی وجہ سے تھی جور سٹار ٹریک سیریز میں انہوں نے ادا کیا۔

گذشتہ سال انھوں نے انکشاف کیا تھ کہ وہ پھیپھڑوں کی موذی بیماری کا شکار ہیں باوجود اس کے کہ انہوں نے 30 سال قبل تمباکو نوشی ترک کر دی تھی۔

19 فروری کو انہیں سینے میں درد کی شکایت پت ہسپتال لیجایا گیا جس کے بعد انہوں نے ٹویٹ کی کہ ’زندگی ایک باغ کی طرح ہے۔ خوبصورت لمحات آتے تو ہیں مگر انہیں محفوظ نہیں رکھا جا سکتا سوائے یادوں کے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نیموئی کی آخری ٹویٹ

انہوں نے اس ٹویٹ کے آخر میں ’LLAP‘ لکھا جو اُن کی مشہور لائن تھی جس کا مطلب ہے ’لمبی زندگی جیو اور ترقی کرو‘ یہ اُن کی آخری ٹویٹ تھی۔

جارج تکائی جنہوں نے سٹار ٹریک میں ہیکارو سولو کا کردار ادا کیا تھا اور نیموئی کے دوست تھے نے انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’لفظ غیر معمولی کا استعمال اکثر زیادہ کیا جاتا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ لیونارڈ کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ وہ ایک غیر معمولی طور پر باصلاحیت انسان تھے اور وہ بہت ہی نفیس انسان بھی تھے۔‘

انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے امریکی خلائی تحقیق کے ادارے ناسا نے ٹویٹ کی جس میں وہ ایک خلائی شٹل کی نقل کے سامنے کھڑے ہوئے تھے۔

سٹار ٹرک ہی کے اداکار ولیم شیٹنر جنھوں نے نیموئی کے ساتھ سٹار ٹریک میں برسوں فن کا مظاہرہ کیا نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’انہیں نیموئی سے ایک بھائی کی طرح محبت تھی اور ہم سب اُن کی حسِ مزاح، اُن کی صلاحیتوں اور اُن کی محبت کرنے کی قابلیت کو یاد کریں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکی خلائی تحقیق کے ادارے ناسا نے ٹویٹ کی جس میں وہ ایک خلائی شٹل کی نقل کے سامنے کھڑے ہوئے تھے

نیموئی نے 1966 میں سپوک کا کردار ادا کرنا شروع کیا جس نے اُن کی فنی زندگی کو شناخت دی جسے انھوں نے تین سیریز اور اس کے بعد بننے والی کئی فلموں میں ادا کیا۔

نیموئی کی سوانح حیات کی دو جلدیں ہیں ایک ’آئی ایم ناٹ سپوک‘ جو 1975 میں شائع ہوئی اور دوسری ’آئی ایم سپوک‘ جو اس کے دو دہائیاں بعد شائع ہوئی جو اُن کے ملے جلے خیالات کی عکاس ہیں۔

نیموئی نے سپوک کے علاوہ اداکاری اور ہدایتکاری میں کامیابی حاصل کی اور موسیقی، مصوری اور فوٹوگرافی سے بھی انہیں دلچسپی تھی۔

انہوں نے ایڈونچر سیریز مشن امپوسبل میں بھی کام کیا اور انہوں نے بعد میں سٹار ٹریک کی دو فلموں کی ہدایات دیں جن میں سے ایک ’دی سرچ آف دی سپوک‘ اور دوسری ’دی لانگ ووئج ہوم‘ تھی اور 1987 میں انہوں نے ایک ہٹ کامیڈی بنائی جس کا نام تھا ’تھری مین اینڈ اے بے بی‘ جو اس سال کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم تھی۔

نیموئی نے اپنے پھیپھڑوں کے کینسر کا اعلان گذشتہ سال ٹوئٹر پر کیا ’میں نے تمباکو نوشی 30 سال قبل ترک کر دی تھی مگر تب تک دیر ہو چکی تھی۔ دادا نے کہا اب چھوڑو۔‘

ان کے اسی ٹوئٹر اکاؤنٹ کا استعمال کرتے ہوئے اُن کی پوتی نے اُن کی وفات کی خبر دی۔