وائن ویڈیو بنانے سے ہزاروں پاؤنڈز کمانے والا نوجوان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مارکیٹنگ کمپنیاں اپنی مصنوعات بین کے ویڈیو کلپس میں دکھانے کے لیے ان کو اب پیسے دیتی ہیں

بارہ ماہ قبل تک بین فلپس گلین مورگن کی وادی میں اپنی والدہ کی جوتوں کی دوکان میں کام کرتا تھا۔ لیکن آج یہ 22 سالہ نوجوان سماجی رابطوں کی سائٹس پر شیئر کی جانے والی چھوٹی فلمیں جن کا دورانیہ صرف چھ سیکنڈ ہوتا ہے اور انہیں ’وائنز‘ کہا جاتا ہے کا مشہور ستارہ ہے۔

بین ان ویڈیوکلپس سے ہزاروں پاؤنڈ کما رہا ہے اور دنیا بھر کی سیر بھی کر رہا ہے۔

یہ سب اس وقت شروع ہوا جب کچھ عرصہ قبل بین نے اپنی سابقہ محبوبہ اور اس کے تین سالہ بیٹے کے ساتھ وائنز ریکارڈ کرنی شروع کیں۔ اب سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اس کے لاکھوں فالورز ہیں۔

اس بارے میں بین کا کہنا ہے کہ ’میری زندگی مکمل طور پر تبدیل ہوگئی ہے، مجھے یاد ہے کہ جب میرے دس ہزار فالوورز ہوتے تھے تو میں بہت خوش ہواتھا اور پھر جب میرے ایک لاکھ فالوورز ہوئے تو میں ذہن میں خیال آیا کہ ہم لوگوں کی زندگیوں میں کچھ تو اچھا کر ہی رہے ہوں گے تو وہ ہم کو دیکھنا پسند کرتے ہیں۔‘

بین کہتے ہیں کہ ’میرے شروع میں ذیادہ امریکی فالوورز تھے جن کو ہماری وائنز بہت پسند آتی تھیں۔اکثر لوگ برطانیہ سے شروع کرتے ہیں اور پھر امریکہ پہنچتے ہیں پر ہم نے الٹی شروعات کی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ان کا کہنا ہے کہ وہ کوئی وائن سٹار نہیں ہیں اور کے فالورز ان کے مداح نہیں بلکہ دوست ہیں

کاروباری اور مارکیٹنگ کمپنیاں اپنی مصنوعات بین کے وڈیو کلپس میں دیکھانے کے لیے ان کو اب پیسے دیتی ہیں۔ لیکن بین کہتے ہیں کہ یہ اشتہارات نہیں ہیں۔

’مجھ سے کبھی نہیں کہا جاتا کے مصنوعات کی قیمت بتاؤں مجھ سے صرف یہ پوچھاجاتا ہے کہ کیا میں اپنی فلم میں ان کی مصنوعات کے ساتھ کچھ تفریح کر سکتا ہوں، میں ان سے رابطہ نہیں کرتا وہ مجھ سے رابطہ کرتے ہیں۔

فورڈ وہ پہلی کمپنی تھی جس نے بین کو چھ سیکنڈ کے کلپ میں اپنی مصنوعات دیکھانے کے عوض 12ہزار پاونڈ دیے تھے یعنی دو ہزار پاونڈ فی سیکنڈ۔

اگرچہ وہ پیسوں کے بارے میں بات کرنا پسند نہیں کرتے پر انھوں ان اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ایک کلپ کے لیے ان کو اس سے بھی ذیادہ معاوضہ مل چکاہے۔

’جب تک کسی وائن کے 10 لاکھ ہٹس نہ ہوں تب تک مجھے ایک پیسہ بھی نہیں ملتا۔ پٹرول، کھانا اور زندگی مفت نہیں ہے اس لیے ہم وائنز میں کچھ اشتہار شامل کر لیتے ہیں لیکن ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ان وائنز کو جیتنا دلچسپ بنایا جا سکتا ہے بنایا جائے، صرف مصنوعات بیچنے کے لیے ہم یہ کلپس نہیں بناتے۔‘

وائن ویڈیوز سے حاصل ہونے والی آمدنی کی بدولت بین یورپ گھوم چکے ہیں جہاں وہ پر تعیش ہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں۔

بین کا کہنا ہے کہ ’آپ کے جتنے زیادہ فالوورز ہوتے ہیں اتنی ہی زیادہ آمدنی بھی ہوتی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ وہ کوئی وائن سٹار نہیں ہیں اور کے فالورز ان کے مداح نہیں بلکہ دوست ہیں۔

’ان وائنز سے پیسے بنانا میرا مقصد نہیں ہے ان کے ذریعے میں نے بہت سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی ہے اس سے اور بڑی کیا بات ہو سکتی ہے۔‘

بین کہتے ہیں کہ وائنز کے لیے مشورے ان کے خاندان والے اور ان دوست ان کو دیتے ہیں۔

’میرے کزن جورڈن اور میرے دوست ایلیٹ میری بہت مدد کرتے ہیں اور وہ بین فلپس برطانیہ کے پورے تصور پر یقین رکھتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’میری عمر میں لوگ قرضہ لے کر سفر کرتے ہیں میں بہت خوش نصیب ہوں میرے سفری اخراجات کمپنیاں برداشت کرتی ہیں۔‘

اپنے مستقبل کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’مستقبل میں کیا ہوگا اس کے بارے میں تو مجھے نہیں پتہ لیکن میں صرف لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنا چاہتا ہوں۔‘

اسی بارے میں