عجائب گھر میں سیلفی سِٹک نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty Images
Image caption سیلفی سٹک ایک ایسا آلہ ہے جس پر موبائل فون یا کیمرا لگایا جاتا ہے تا کہ بہتر تصاویر لی جا سکیں۔

لندن نیشنل گیلری کے حکام نے گیلری میں سیلفی سِٹکس کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔

نیشنل گیلری کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ سیلفی سٹکس ٹرائپوڈ کے زمرے میں آتی ہے اور ٹرائپوڈ کے استعمال پر پہلے ہی پابندی ہے۔

بیان کے مطابق ’اس پابندی کا مقصد تصاویر، حقِ انفرادیت اور مجموعی طور پر گیلری کا دورہ کرنے والے افراد کے تجربے کو تحفظ دینا ہے۔‘

اس سے قبل دنیا کی کئی دوسری گیلریز میں بھی ایسی ہی پابندی لگائی جا چکی ہے جن میں واشنگٹن کا سمتھسو نئن میوزیم بھی شامل ہے۔

سیلفی سٹک ایک ایسا آلہ ہے جس پر موبائل فون یا کیمرا لگایا جاتا ہے تا کہ بہتر تصاویر لی جا سکیں۔

گزشتہ برس سے سیلفی سٹکس کی فروخت میں کافی اضافہ ہوا ہے اور اب سیاحتی مقامات پر اسے بکثرت دیکھا جا سکتا ہے۔

فنونِ لطیفہ کے ناقد برائن سویل نے نیشنل گیلری کی جانب سے سیلفی سٹک پر پابندی کا خیر مقدم کیا ہے۔

انھوں نے برطانوی جریدے دی ٹائمز کو بتایا ’یہ ممکنہ طور پر آرٹ کے کام کے لیے خطرناک ہے اور اس کی وجہ سے تصویر کے گرد ہجوم جمع ہو جاتا ہے۔‘

برائن کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر کوئی گیلری میں اس سوچ کے ساتھ آتا ہے کہ وہ پینٹنگز کو دیکھے تو وہ انھیں نہیں دیکھ پاتا کیونکہ وہاں لوگ تصاویر لینے میں مصروف ہوتے ہیں۔ میں نے نیشنل گیلری میں کچھ ایسے مناظر دیکھے ہیں جن کو دیکھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔‘

نیشنل گیلری میں آنے والے چند افراد نے اس پابندی کی حمایت کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’ سیلفی سٹک کے ذریعے تصویر لینے والا پرامید ہوتا ہے کہ تصویر اچھی آرہی ہے۔‘

گیلری میں آنے والے ایک شخص مورنے ڈیویسن نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا ہے ’سیلفی سٹک کے ذریعے تصویر لینے والا پرامید ہوتا ہے کہ تصویر اچھی آرہی ہے۔‘

سیر کو آئے ایک اور شخص نے کہا’ فنونِ لطیفہ سے پیار کرنے والے افراد کو اس پابندی سے خوشی ہوگی۔یہ پابندی بہت پہلے لگا دینی چاہیے تھی۔‘

برٹش میوزیم کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ سیلفی سٹکس کے بارے میں اپنی پالیسی میں تبدیلی پر غور کر رہے ہیں۔

میوزیم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ میوزیم میں آنے والے اور وہاں موجود اشیا کی حفاظت کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔

نیشنل پورٹریٹ گیلری میں ابھی سلیفی سٹکس کی اجازت ہے لیکن وہاں کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’اگر کسی بھی چیز کو خلل ڈالتے پایا گیا تو اس پر اسی وقت اقدام کیا جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا ’ہمارے لیے یہ اہم ہے کہ گیلری میں آنے والے لوگ بھر پور لطف اندوز ہو سکیں۔‘

نیچرل ہسٹری میوزیم کے ترجمان نے کہا ہے کہ انھوں نے ابھی سیلفی سٹکس کے استعمال پر ابھی کوئی پابندی نہیں لگائی ہے اور انھیں اپنے اس فیصلے میں کسی قسم کی تبدیلی کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں سمتھسونئن میوزیم نے واشنگٹن میں اپنے 19 عجائب گھروں اور آرٹ گیلریز میں سیلفی سٹکس کے استعمال پر پابندی عائد کر دی تھی۔

سمتھسونئن میوزیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ قدم میوزیم اور آرٹ گیلری میں موجود اشیا اور سیر کے لیے آنے والے افراد کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ خاص طور پر جب شائقین کا ہجوم ہو۔

اسی بارے میں