نئی حکومت سے ہمیں تھوڑا ڈر لگتا ہے: نندیتا داس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گالیاں کچھ لوگوں کی بول چال کا حصہ بھی ہیں اور گالی کسی کردار کا حصہ بھی ہو سکتی ہے: نندیتا داس

نندیتا داس ان بھارتی اداکاراؤں میں سے ہیں جو اپنے عمدہ کام کے علاوہ سماجی مسائل پر آواز بلند کرنے کے لیے بھی جانی جاتی ہیں۔

گودھرا فسادات کے پس منظر میں بننے والی فلم ’فراق‘ بطور ہدایت کارہ نندیتا کی پہلی فلم تھی جسے سینسر بورڈ سے لے کر گجرات تک میں تنازعے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بی بی سی ہندی کے اقبال احمد سے بات چیت میں نندیتا نے سینسر شپ سے لے کر بالی وڈ میں گورے پن کے بارے میں جاری تعصب پر کھل کر بات کی۔

سینسر بورڈ کے کردار پر ان کا کہنا تھا کہ ’سینسر شپ کا عالم یہ ہے کہ ہم کسی فلم میں ’بامبے‘ نہیں کہہ سکتے۔ انٹرنیٹ کے زمانے میں کچھ روکنا بےحد دقیانوسی ہے۔ آخر پانچ لوگ یہ کیسے طے کر سکتے ہیں کہ کسی کو کیا دیکھنا چاہیے اور کیا نہیں؟‘

نندیتا نے بتایا کہ گالیوں کے مسئلے پر ان کی فلم ’فراق‘ پر بھی سینسربورڈ سے تنازع ہوا تھا۔

انھوں نے یہ بھی کہا: ’سینسر شپ کے بارے میں کافی بحث ہو رہی ہے۔ گالیوں پر حال ہی میں انھوں نے کہا کہ ان پر پابندی لگا دی جانی چاہیے۔ ہم سب مانتے ہیں کہ گالی بری بات ہے لیکن گالیاں کچھ لوگوں کی بول چال کا حصہ بھی ہیں اور گالی کسی کردار کا حصہ بھی ہو سکتی ہے۔‘

نندیتا کا کہنا ہے کہ ’نئی حکومت سے ہمیں تھوڑا ڈر لگتا ہے کیونکہ اپنی بات کہنے کی آزادی صرف ایک مسئلہ نہیں ہے، یہ ہم سب کی زندگی سے منسلک چیز ہے۔‘

ان کا کہنا ہے: ’سینسر بورڈ یا دیگر ایجنسیوں کے ذریعے جس طرح کی پہریداري کی جا رہی ہے اس سے اظہار کی آزادی پر حملے جیسی صورت حال ہے۔ آپ فیس بک پر کوئی چیز لائیک کرو آپ کے گھر پولیس آ جائے یا کوئی چینل اگر ایسا کچھ کہہ دیتا ہے تو اس کے چینل میں توڑ پھوڑ ہو جاتی ہے۔

نندیتا کے مطابق: ’حکومت ہی نہیں بلکہ حکومت سے باہر بھی کچھ ایسے لوگ ہیں جنھیں یہ لگتا ہے کہ ہم کچھ کریں گے تو حکومت ہمارے ساتھ ہے۔ انھیں اس بات کا ڈر ہی نہیں ہے کہ آئین کے تحت کس طرح کا سلوک کیا جانا چاہیے۔‘

اسی بارے میں