’زبان کی واٹ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

’ریڈیو اور ٹی وی چینلوں نے اردو زبان کی واٹ لگادی ہے۔‘

ایک ممتاز شاعر کے منہ سے یہ جملہ سن کر میں اچھل پڑا۔ پھر اردو لغت کی جانب دوڑا کہ ’واٹ لگا دی‘ کے معنی دیکھوں۔ دھندلکے میں کچھ نظر نہ آیا تو پانچ سو واٹ کا بلب روشن کر کے دیکھا لیکن یہ ترکیب نہ ملی۔

ہمارے ہاں لغات کو نئے الفاظ کے اضافوں کے ساتھ شائع کرنے کی روایت نہیں۔ فرہنگ آصفیہ سو سال بعد بھی وہی چھپ رہی ہے جو مولوی سید احمد دہلوی نے مرتب کی تھی اور شاید اسی لیے برقی ذرائع ابلاغ نے زبان کو ’اپ گریڈ‘ کرنے کا بیڑا اٹھا لیا ہے۔

جلد بازی میں لکھنے والے صحافی اور بریکنگ نیوز پڑھنے والے اینکر ایسے ایسے الفاظ اور تراکیب گھڑ رہے ہیں کہ انھوں نے جوش جیسے شاعروں اور یوسفی جیسے ادیبوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

’متحدہ عرب امارات سے عزیر بلوچ کی ’حوالگی‘ کے لیے قانونی کارروائی کی جا رہی ہے، حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اہم اقدام ’اٹھانے‘ کا فیصلہ کر لیا ہے، الیکشن کمیشن نے ’سینیٹ الیکشن بارے‘ سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا‘

یہ ہے وہ زبان، جو آج کل برقی ذرائع ابلاغ سے سننے کو ملتی ہے۔ لیکن کیا اس سے عوام کے بول چال پر کوئی فرق پڑتا ہے؟

ادبی پرچے دنیا زاد کے مدیر آصف فرخی ایک نجی یونیورسٹی میں زبان کے استاد بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ٹی وی چینل اپنے ایکویپمنٹ کی دیکھ بھال کرتے ہی ہوں گے۔ زبان کا معاملہ بھی ایسا ہے۔ اسے بھی مینٹیننس کی ضرورت ہوتی ہے۔ سکرین پر آنے والوں کو خود بھی، اور ان کے اداروں کو بھی زبان کو درست رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘

لیکن آصف فرخی یہ نہیں مانتے کہ میڈیا عوام کی زبان خراب کر رہا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ہم وہی زبان بولتے ہیں جو گھر میں سنتے ہیں۔ ٹی وی اینکر سے کوئی کیوں زبان سیکھے گا؟

صاحبِ طرز قلم کار اور زبان داں شکیل عادل زادہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام ٹی وی چینلوں پر اعتبار کرتے ہیں۔ وہ ان کی خبروں کو درست جانتے ہیں۔ اس لیے جب وہ سکرین پر غلط زبان کے ٹِکر دیکھتے ہیں یا اینکر کو غلط زبان بولتے ہوئے سنتے ہیں تو اسے ٹھیک سمجھتے ہیں اور یوں ذرائع ابلاغ زبان بگاڑنے کا سبب بن رہے ہیں۔

شکیل عادل زادہ خود ایک ٹی وی چینل کی زبان درست کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ یہ کوششیں زیادہ بارآور ثابت نہیں ہوئیں۔ اس کی وجہ انھوں نے یہ بیان کی ’کہ زبان کی درستی میڈیا اداروں کی ترجیحات میں کہیں بھی نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ پسماندہ طبقے کو اچھی بری زبان سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن جو لوگ اچھے کپڑے پہنتے ہیں، اچھی تعلیم حاصل کرتے ہیں، اچھے لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں، انھیں اچھی زبان بولنی چاہیے۔ ریڈیو اور ٹی وی کے میزبان ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان کی میڈیا انڈسٹری کا حجم اس میں سرمایہ لگانے والوں اور اس میں کام کرنے والوں کی توقعات سے زیادہ تیزی سے بڑھا ہے۔

پیشہ ور اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی کے باعث بہت سے ایسے لوگ میڈیا سے وابستہ ہوگئے جن کا تعلق پڑھنے لکھنے سے نہیں۔ کیمبرج سکولوں سے پڑھے ہوئے بہت سے نوجوان لڑکے لڑکیاں بھی اس طرف آئے ہیں۔ ان میں سے بیش تر نے اردو اس طرح پڑھی ہے جیسے 95 فیصد پاکستانیوں نے انگریزی۔

نجی ٹی وی کی اینکر ماریہ میمن نے بھی انگریزی سکولوں میں تعلیم حاصل کی اور میں نے ان کے ہاتھ میں اکثر انگریزی ناول ہی دیکھے ہیں لیکن بہت جلد انھوں نے خود کو اردو ذرائع ابلاغ سے ہم آہنگ کر لیا۔

ماریہ نے ایک بار بتایا کہ ان کی نانی اماں بچوں سے اخبار پڑھوا کر سنا کرتی تھیں۔ بڑے بچے بھاگ جاتے تھے اور وہ پکڑی جاتی تھیں۔ اس طرح انھیں خبریں پڑھنی آ گئیں۔ آج وہ یاد کرتی ہیں کہ کون کون سے مشکل الفاظ کے مطلب نانی اماں نے بتائے اور کون کون سے تلفظ ٹھیک کروائے۔

کیا آج کل کی نانی اماں اور دادی اماں کچھ پڑھتی لکھتی ہیں یا ٹی وی پر میرا سلطان اور سوئنگ کا سلطان ہی دیکھتی ہیں؟

اسی بارے میں