اسلام آباد میں تین روزہ میوزک میلے کا آغاز آج سے

Image caption ’ہم اس بار شائقین کی تعداد پچھلے سال سے دگنی کی توقع کر رہے ہیں‘

پاکستان کے تین بڑے شہروں میں اس سال کے آغاز سے ایک ایسے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ کے عرصے میں ان شہروں کی نئی نسل کو اتنا متواتر دیکھنے کو نہیں ملا تھا۔ آج کل کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں ہر دوسرے ہفتے بہت سے موسیقی اور کلچر سے جڑے موضوعات پر میلوں اور فیسٹیولز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان میں موسیقی کے فروغ اور آرٹسٹوں کے استحکام کا مقصد لیے اسی قسم کا تین روزہ ایک میلہ اسلام آباد میں اس سال ایک بار پھر سجے گا۔ اس میلے میں پاکستان کے کونے کونے سے آرٹسٹ بلائے گئے ہیں اور اس میلے کے منتظمین کادعویٰ ہے کہ پاکستان میں موسیقی کے بارے میں یہ انتہائی بڑے پیمانے پر کیے جانے والے میلوں میں سے ایک ہے۔

ساتھ ہی میلے کے منتظمین کو اس بات پر بھی فخر ہے کہ پاکستان کا سرکاری ٹی وی چینل اس کی کوریج کر کے اسے تین قسطوں میں نشر کرے گا۔ ان کے نزدیک یہ پہلا ایسا نجی ایونٹ ہے جسے پی ٹی وی کی کوریج ملے گی۔ اور یوں یہ پاکستان کے کونے کونے تک پھیلے گا۔

اس میلے کے منتظمین میں سے ایک اریب اظہر ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’پاکستان کے لیے اور اسلام آباد کے لیے تو بہت ہی نئی چیز تھی۔ ہم اس بار شائقین کی تعداد پچھلے سال سے دگنی کی توقع کر رہے ہیں۔ پورے پاکستان سے بینڈز آ رہے ہیں اور اس میں فوک میوزیشنز، فیوژن میوزک، کلاسیکل میوزک، راک میوزک ہوں گے۔ پچھلے سال کی طرح بڑے نام بھی ہیں لیکن بالکل نئے اور نامعلوم میوزیشنز بھی ہیں جن کو موقع ملے گا۔‘

اریب اظہر کا کہنا ہے کہ اس میوزک میلہ کانفرنس کے مقاصد میں سے ایک ایسے آرٹسٹس کو پاکستان میں فروغ دینا ہے جن کے پاس وسائل نہیں یا وہ تعلیم سے محروم ہیں اور اس کے باعث وہ اپنا فن پاکستان یا اس سے باہر نہیں پھیلا سکتے۔

’اس دفعہ ایک نئی بات یہ بھی ہے کہ ہمارے پاس تین انٹرنیشنل ایکٹس ہیں۔ دو امریکہ سے اور ایک پولینڈ سے۔ ‘

یہ میوزک میلہ محض موسیقی کی لائیو پرفارمنس پر مبنی نہیں بلکہ گزشتہ سال جب اسے پہلی بار ڈیزائن کیا گیا تو اس میں کچھ ایسے موضوعات پر گفتگو اور حاضرین سے سوال جواب کے سیشنز رکھے گئے تھے جس سے موسیقی سے جڑے کچھ اہم مسائل پر پہلی بار عوامی سطح پر کسی فورم پر بات ہو رہی تھی۔

انہی کو آگے بڑھاتے ہوئے اس سال ایک بار پھر آرٹسٹس کو رائلٹیز دیے جانے کے معاملے کو اٹھایا جا رہا ہے۔ اریب اظہر کے نزدیک پاکستان میں آج بھی آرٹسٹ اس لیے غیر مستحکم ہے کیونکہ اسے عدم تحفظ کا احساس ہے۔

’ہماری اب کوشش ہے کہ ہم وہ ادارہ قائم کر لیں جس کا کام ہو گا کہ تمام چینلز کو مانیٹر کرے اور دیکھے کہ کس کا میوزک کتنا چل رہا ہے اور اس کی رائلٹیز آرٹسٹ تک پہنچائیں۔ ہمارے جو میڈیا ہے خاص طور نجی ٹی وی چینلز ہیں وہ زیادہ تر بھارتی پروگرامز نشر کرتے ہیں حالانکہ ہمارے پیمرا قوانین میں شامل ہے کہ اسّی فیصد نشر ہونے والا مواد پاکستانی ہو، ہاں بیس فیصد غیر ملکی ہو سکتا ہے۔ یہ قوانین موجود ہیں مگر لاگو نہیں ہوتے۔

’اس میلے سے ہم کوشش کریں گے کہ ایک لابی گروپ بنائیں جو اس مسئلے سے نمٹے کہ میڈیا ہاؤسز اگر انڈیا کو اتنے سارے رائلٹیز میں پیسے دیتے ہیں اور دے رہے ہیں تو وہ پیسے پاکستانی میوزیشنز کو بھی جانے چاہیے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ بھارتی مواد کو روکو، وہ یقیناً ہونا چاہیے۔ لیکن تھوڑی سی پروٹیکشنسٹ پالیسی پاکستان کے کلچر کے لیے ضروری ہے اس سٹیج پے۔‘

منتظمین کے مطابق پاکستان میں منعقد ہونے والے اس منفرد اور بڑے میلوں میں سے ایک میلے کو یوں تو غیر ملکی مالی امداد اور سرکاری سطح پر تھوڑی سی حمایت نے ممکن تو بنا دیا مگر حکومت کو چاہیے کہ اب اس بات پر غور کریں کہ پاکستان میں موسیقی کی صنعت پاکستان کی معیشت سے جُڑی ہے۔

’اسے برآمد کرنے پر غور کیا جائے اور ساتھ ہی اسے یونیورسٹی اور پرائیوٹ سکولوں کی سطح پر نصاب میں موسیقی کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کیا جائے۔‘

یہ تین روزہ میلہ اسلام آباد میں آج سے شروع ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں