نصاب میں جدید اردو ادب شامل کرنے کا مطالبہ

شرکاء تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption شرکاء نے کہا کہ انفرادی، قومی اور بین الاقوامی المیوں کا جتنا وسیع بیان نظم میں ہے یہ کسی اور صنف میں نہیں ملتا

اسلام آباد میں وفاقی حکومت کے ادارے نیشنل بک فاؤنڈیشن کی جانب سے پانچ روزہ کتاب میلہ لگایا گیا ہے جس کا مقصد مطالعے کو فروغ دینا ہے۔

کتاب میلے میں ادبی موضوعات پر مذاکروں، مشاعروں اور فنون لطیفہ کے دیگر پروگرام بھی منعقد کیے جا رہے ہیں۔

جمعرات کو میلے میں اردو ادب کی جدید نظم اور عہد حاضر کے تقاضے کے عنوان سے مذاکرہ ہوا۔ اگرچہ اس شاعرانہ محفل کا عنوان تو خشک تھا مگر نوجوان اور سینیئر شعراء کی شاعری نے عہد حاضر میں جدید اردو نظم کے عنوان سے ہونے والی اس نشست میں رنگ بھر دیے۔

نوجوان شاعر اور جدید اردو نظم میں پی ایچ ڈی ڈاکٹر سعید احمد نے کہا کہ ’آزاد نظم نے ہمارے افسانے کو متاثر کیا ہے، آزاد نظم ہماری غزل میں تبدیلیاں لانے کا باعث بنی ہے لہذا یہ اس وقت ایک ایسی صنف بن چکی ہے جس میں ہمارے فرد سے لے کر قومی اور بین الاقوامی مسائل تک فنکارانہ طریقے سے بیان ہوئے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ انفرادی، قومی اور بین الاقوامی المیوں کا جتنا وسیع بیان نظم میں ہے یہ کسی اور صنف میں نہیں ملتا کیونکہ نظم بیک وقت طوالت اور اختصار کا مجموعہ ہے۔

ممتاز نظم گو نصیر احمد ناصر نے کہا کہ پاکستانی نصاب میں عصر حاضر کا اردو ادب شامل نہیں جس کی وجہ سے ایک پورے دور پہ جو بیتا اور اس پر جس طرح کا اظہار نظم کے میدان میں ہوا، وہ نئی نسل تک نہیں پہنچ پا رہا۔

انھوں نے کہا ’شاعری کو ہم کہتے ہیں کہ اس میں عصری شعور ہوتا ہے یعنی اس میں روح اثر ہوتی ہے، جو بھی واقعات اس دور کے ہوتے ہیں جو اس دور کے انسان کی سوچ ہوتی ہے۔ تاریخ سے زیادہ معتبر ہم شاعری کو سمجھتے ہیں۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کے دور کی شاعری نصاب میں نہیں ہے تو آپ اپنی نئی نسل کو چالیس پچاس سال کا جو عرصہ گزر چکا ہے اس سارے شعور سے اسے محروم رکھنا چاہتے ہیں۔‘

ڈاکٹر سعید احمد بھی نصیر احمد ناصر سے اتفاق کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جو کتابیں ہم انٹر یا بی اے کی سطح پر پڑھا رہے ہیں وہ تو اس قابل ہیں ہی نہیں کہ جسے ہم کہہ سکیں کہ اس میں اعلیٰ ادب کا انتخاب کیا گیا ہے بلکہ حیرت اس بات پہ ہوتی ہے کہ یونیورسٹیاں جب اپنا نصاب اس طرح سے ترتیب دیتی ہیں کہ جدید ادب کا حصہ اگر نہ ہی پڑھایا جائے یا اسے آپشن پہ چھوڑ دیا جائے تو طالبعلم ماسٹرز کرلیتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ نصاب کو ہم تین سو سال پہلے سے شروع کرتے ہیں اور پھر بمشکل اسے اقبال تک لے کر آتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’کیوں نہ ایسا کیا جائے کہ آج کے عہد کے اہم نظم نگاروں، افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں کو نصاب میں پہلے شامل کریں اور پھر پیچھے روایت کی طرف جائیں۔‘

مذاکرے میں نوجوان شعراء نے بھی اپنا کلام پیش کیا جس میں شدت پسندی، دہشتگردی، لوڈ شیڈنگ جیسے موضوعات نمایاں تھے۔

اسی بارے میں