ڈریم گرل بھی سلمان خان کی فین

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption معروف اداکارہ ہیما مالنی سلمان خان کی نئی مداح کی شکل میں سامنے آئی ہیں۔

ہر چند کہ سلمان خان اور تنازعات ایک دوسرے کا ساتھ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں لیکن ان کی مقبولیت کا پرچم ہر دن نئی بلندیاں چھو رہا ہے۔

سلمان خان کی دوستی اور دشمنی یا پھر ان کے کالے ہرن کے شکار یا لاپرواہ ڈرائیونگ سے قطع نظر بالی وڈ کی ڈریم گرل اور اپنے زمانے کی معروف ترین اداکارہ ہیما مالنی ان کی نئی مداح کی شکل میں سامنے آئی ہیں۔

بالی وڈ راؤنڈ اپ سننے کے لیے کلک کریں

خیال رہے کہ سلمان خان کے ’ہٹ اینڈ رن معاملے میں فیصلہ چھ مئی کو آنے والا ہے لیکن ہیما مالنی نے ان سے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ہیما مالنی نے کہا: ’سلمان خان آج کے زمانے کے سب سے مقبول اور پسندیدہ ہیرو ہیں۔ اس کے علاوہ وہ حیرت انگیز شخصیت کے مالک ہیں۔‘

’لیکن ان کے ساتھ کچھ ایسا واقعہ پیش آیا جس سے بچا نہیں جا سکتا تھا۔ ہم سب ان کے ساتھ ہیں اور ایک مناسب فیصلے کے منتظر ہیں۔‘

دوسری مادھوری تو نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک فلم مادھوری دیکشت بننا چاہتی ہوں بھی بالی وڈ میں آئی اور مقبول ہوئی۔

یوں نظر سے بات کی اور دل چرا گئے

ہم تو سمجھے تھے بت، آپ تو دھڑکن سناگئے

اپنے زمانے کی معروف اداکارہ مادھوری دیکشت کا جادو اس قدر سر چڑھ کر بولنے لگا تھا کہ لوگ بعد کی ہیروئنوں کا ان سے موازنہ کرنے لگے۔

یہاں تک کہ ایک فلم ’میں مادھوری دیکشت بننا چاہتی ہوں‘ بھی بالی وڈ میں آئی اور مقبول ہوئی۔

لیکن مادھوری کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں لوگوں کو دوسری مادھوری دیکشت کو دیکھنے کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے بلکہ انھیں اپنی نسل کی سٹار کے بارے میں سوچنا چاہیے۔

’ایک شخص دوبارہ نہیں آ سکتا میرے خیال میں ہر عہد اپنا منفرد سٹار رکھتا ہے اور وہ سامنے آتا ہے اور واقعتاً فرق پیدا کرتا ہے۔‘

خیال رہے کہ مادھوری نے اپنے کریئر کے بام عروج پر فلم کو خیرباد کہا اور ایک عرصہ تک خانگی زندگی گذارنے کے بعد وہ ایک بار پھر فلموں میں آئیں لیکن وہ اپنا پرانا جادو قائم نہ رکھ سکیں۔

سیف اور قلم

بالی وڈ کے ’چھوٹے نواب‘ یعنی سیف علی خان نے ایک تقریب میں قلم کی تعریف کچھ اس انداز میں کی جیسے وہ اپنے نام کے معنی بھول گئے ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انھوں نے ایک دلچسپ بات یہ بتائی کہ انھیں لکھنے کا بے حد شوق ہے۔

وہ اس تقریب میں ایک قلم بنانے والی کمپنی کے پروموشن کے سلسلے میں پہنچے تھے اور قلم کی تعریف میں وہ اس قدر جذباتی ہو گئے کہ وہ اس سے اپنے والد کی کہانی لکھنے کی بات کہنے لگے۔

خیال رہے کہ سیف کے والد بھارت کے معروف کرکٹر اور سابق کپتان نواب منصور علی خاں پٹودی ہیں۔

انھوں نے کہا: ’ان کی کہانی بھی لکھی جا سکتی ہے۔ بہت سی عظیم کہانیاں ہیں ان میں سے ایک وہ بھی ہو سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ میں ہی لکھوں۔ کون جانتا ہے۔‘

اسی دوران انھوں نے ایک دلچسپ بات یہ بتائی کہ انھیں لکھنے کا بے حد شوق ہے۔

انھوں نے کہا: ’سچ بات تو یہ ہے کہ مجھے لکھنے کا شوق ہے اور مجھے اچھے قلم سے پیار ہے۔‘

اسی بارے میں