’زکوٹا جن‘ کو مکان کی ضرورت

تصویر کے کاپی رائٹ unknown
Image caption منا لاہوری کو لگ بھگ آٹھ ماہ پہلے فالج کا حملہ ہوا تھا جس نے انھیں مفلوج اور گھر تک محدود کردیا

”مجھے کام بتاؤ، میں کیا کروں، میں کس کو کھاؤں۔،،

سنہ 90 کی دہائی کو اپنا بچپن اور لڑکپن سونپنے والے پاکستانیوں کو یہ جملہ ان کی یادداشت میں بسی اس طلسمی دنیا میں لے جاتا ہے جسے ’عینک والا جن‘ کہا جاتا تھا۔

پی ٹی وی لاہور سینٹر کا یہ ڈرامہ پاکستانی بچوں میں اپنے دور کا مقبول ترین ڈرامہ تھا اور اس کا ایک مقبول کردار زکُوٹا جن تھا۔

مطلوب الرحمنٰ عرف منّا لاہوری اب 62 برس کے ہوگئے ہیں مگر پچھلے کئی ماہ سے لاہور کے الحمرا آرٹس کونسل میں وہ اپنے فن کا مظاہرہ نہیں کر پا رہے اور اس کی وجہ ان کی عمر نہیں بلکہ صحت بنی ہے۔

منا لاہوری کو لگ بھگ آٹھ ماہ پہلے فالج کا حملہ ہوا تھا جس نے انھیں مفلوج اور گھر تک محدود کردیا۔

ان کی اہلیہ رخسانہ نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ گجرانوالہ میں سٹیج ڈرامے کے دوران منا لاہوری پر فالج کا حملہ ہوا جس سے ان کے جسم کا دایاں حصہ مفلوج ہوگیا اور اب ان سے ٹھیک طرح سے بولا بھی نہیں جاتا۔

’اب تو اللہ کا شکر ہے تھوڑا بہت چلتے پھرتے ہیں مگر یہ کہ سیدھا بازو کام نہیں کرتا، کھلانا پڑتا ہے، منہ میں نوالے دینے پڑتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Ahmed Raza
Image caption ان کی اہلیہ رخسانہ نے بتایا کہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے انھیں اپنا پرانا گھر چھوڑنا پڑا

انھوں نے بتایا کہ منا لاہوری عرف زکوٹا جن کے چھ بچے ہیں۔ جن میں سے دو بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے جبکہ باقی چار ابھی زیرکفالت ہیں اور ان کا بڑا بیٹا لاہور میٹرو بس سروس میں 12 ہزار روپے ماہوار پر کام کرتا ہے۔

منا لاہوری نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ ان کی زندگی کے اس مشکل ترین وقت میں فنکار برادری، آرٹس کونسل یا حکومت کی طرف سے کوئی ان کا حال پوچھنے نہیں آیا اور نہ ہی ان کے علاج اور گزر بسر کے لیے کوئی خاص مدد کی۔

’شہباز شریف صاحب کی طرف سے کبھی کبھی چیک مل جاتے ہیں مگر وہ بھی باقاعدگی سے نہیں آتے۔‘

رخسانہ کہتی ہیں کہ ’کبھی دو مہینے بعد، کبھی تین مہینے بعد چیک ملتا ہے۔ایک سال میں سات آٹھ چیک آئے ہیں۔ جب چیک نہیں آتا تو مجبوری ہے پھر بیٹھنا پڑتا ہے، اُنھیں فون کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ابھی نہیں آیا، ابھی کوئی مسئلہ ہے، ابھی فائل نہیں کھلی ہے تو پھر انتظار ہی رہتا ہے، کیا کریں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’زبان سے ہی تو بھائی ان کا سارا کام تھا۔ بس ایک وہی کام تھا اس کے علاوہ تو ان کے پاس کوئی کام کاج نہیں۔ اللہ کرا دیتا ہے گزارا۔‘

انھوں نے بتایا کہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے انھیں اپنا پرانا گھر چھوڑنا پڑا ہے اور اب وہ لاہور کے ایک غیرآباد بنجر علاقے میں رہ رہے ہیں۔

’یہاں آس پاس کوئی مکان نہیں، یہ بالکل جنگل بیابان ہے بھائی، مچھر کیڑے مکوڑے، ہر جانور ادھر موجود ہے۔ کاٹ کاٹ میرا، اِن کا، بچوں کا بُرا حال کیا ہوا ہے۔ کیا کریں۔‘

انھوں نے حکومت اور فنکار برادری سے اپیل کی کہ وہ ان کے شوہر کی خدمات کے اعتراف میں اس مشکل گھڑی میں مدد کریں۔ منا لاہوری نے اپیل کہ ’میں نواز شریف سے اپیل کروں گا کہ مجھے ایسی بستی میں مکان دلا دیں جہاں انسان رہ سکتے ہوں، کم سے کم میں مروں تو آرام سے اور میرے بچے جیئیں تو انسانوں کی طرح۔‘

اسی بارے میں