بالی وڈ کے وہ ہدایت کار جو ولن بن گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Spice
Image caption بالی وڈ میں یہ کہاوت مشہور ہے کہ ہیرو کا کردار تبھی ابھرتا ہے جب ولن موثر ہو

ایک وقت تھا جب بھارت کے فلمی ہدایت کار کیمرے کی چکا چوند سے دور نظر آتے تھے تاہم بدلتے دور میں کئی ہدایت کاروں نے اپنا ہنر نہ صرف کیمرے کے پیچھے بلکہ کیمرے کے سامنے بھی دکھایا ہے۔

بالی وڈ میں یہ کہاوت مشہور ہے کہ ہیرو کا کردار تبھی ابھرتا ہے جب ولن موثر ہو، ایسے میں کچھ معروف ہدایت کار ایسے بھی ہیں جنھوں نے اپنے ہیرو کو موثر بنانے کے لیے خود ولن بننا قبول کیا۔

کرن جوہر

تصویر کے کاپی رائٹ Spice Pr
Image caption کرن جوہر پردے پر پہلی بار سنہ 1995 میں فلم ’دل والے دلہنيا لے جائیں گے‘ میں ایک چھوٹے سے کردار میں نظر آئے تھے

رنبیر کپور کی آنے والی فلم ’بامبے ویلوٹ‘ میں رنبیر کپور کے کردار کے بارے میں بحث جاری ہے لیکن اس فلم میں ولن کے کردار میں پہلی بار نظر آنے والے کرن جوہر بھی ناظرین کے لیے کشش کا باعث ہیں۔

کرن جوہر پردے پر پہلی بار سنہ 1995 میں فلم ’دل والے دلہنيا لے جائیں گے‘ میں ایک چھوٹے سے کردار میں نظر آئے تھے لیکن ’بامبے ویلوٹ‘ میں وہ منفی کردار ادا کر رہے ہیں۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ ’بامبے ویلوٹ‘ انوراگ کشیپ کی فلم ہے اور کسی زمانے میں کرن اور انوراگ کی بالکل نہیں بنتی تھی۔

بدلتے وقت کے ساتھ اب دونوں بہت اچھے دوست بن گئے ہیں۔ اس کردار کے بارے میں کرن کہتے ہیں: ’انوراگ پاگل ہو گیا تھا اس لیے اس نے مجھے فلم میں لیا لیکن میں اتنا پاگل نہیں ہوں کہ کبھی انوراگ کشیپ کو فلم میں لوں گا۔‘

کرن کہتے ہیں: ’اگرچہ میرا کردار گبّر جیسا نہیں ہے پر ایسا کردار نبھانا جو پہلے نصیر صاحب کو دیا گیا ہو، مجھے ایک احترام اور ذمہ داری لگی۔‘

تگماش دھوليا

تصویر کے کاپی رائٹ Spice PR
Image caption فلم ’گینگز آف واسع پور‘ میں رمادھير سنگھ جیسے پرسکون اور سنجیدہ ولن کا کردار ادا کرنے والے تگماش پہلے اس کردار کے لیے تیار نہیں تھے

ایک اور ہدایت کار جن کا پردے پر آغاز ولن کے طور پر ہوا وہ ہیں تگماش دھوليا اور اس بار بھی ایک ہدایت کار کو ولن بنانے کا سہرا جاتا ہے انوراگ کشیپ کو۔

فلم ’گینگز آف واسع پور‘ میں رمادھير سنگھ جیسے پرسکون اور سنجیدہ ولن کا کردار ادا کرنے والے تگماش پہلے اس کردار کے لیے تیار نہیں تھے لیکن انوراگ نے ضد کر انھیں اپنی فلم میں ولن بننے کے لیے راضی کر لیا۔

انوراگ اور تگماش اچھے دوست ہیں۔ تگماش نے فلم ’گینگز آف واسع پور‘ کے بارے میں ایک پریس کانفرنس میں یہ بات میڈیا کو بتائی تھی کہ وہ انوراگ کے لیے ولن اسی شرط پر بنے ہیں کہ انوراگ ان کی فلم میں ولن بنیں گے۔ اس فلم میں رمادھير سنگھ کا ڈائیلاگ ’تم نہ ہو پائے گا‘ بہت مقبول ہوا تھا۔

انوراگ کشیپ

تصویر کے کاپی رائٹ Spice
Image caption سنہ 2011 میں ریلیز ہونے والی ڈائریکٹر تگماش دھوليا کی فلم ’شاگرد‘ میں انوراگ نے نانا پاٹیکر کے مقابلے میں ولن کا کردار نبھایا تھا

دو ہدایت کاروں کو اپنی فلموں کے لیے ولن بنانے والے انوراگ کشیپ خود بھی کیمرے کے سامنے ولن بن چکے ہیں اور اس وجہ سے یہ تجرنہ ان کے لیے نیا نہیں ہے۔

سنہ 2011 میں ریلیز ہونے والی ڈائریکٹر تگماش دھوليا کی فلم ’شاگرد‘ میں انوراگ نے نانا پاٹیکر کے مقابلے میں ولن کا کردار نبھایا تھا۔

اس سے پہلے بھی سنہ 2010 میں انوراگ کشیپ نے سوشل موضوعات پر فلم بنانے والے ہدایت کار کی بہت بڑی مشکل حل کر دی جب انوراگ ان کی فلم ’آئی ایم‘ میں منفی کردار ادا کرنے کے لیے راضی ہو گئے تھے۔

سدھیر مشرا

تصویر کے کاپی رائٹ Spice
Image caption ہدایت کار سدھیر مشرا کو مدھر بھنڈارکر کی ’ٹریفک سگنل‘ کے بعد کئی منفی کردار ادا کرنے کی پیشکش کی گئی تھی

سنہ 1985 میں آنے والی فلم ’خاموشی‘ کے بعد وہ براہ راست 2007 میں فلم ’ٹریفک سگنل‘ میں ولن کے روپ میں نظر آئے۔

’ہزاروں خواہشات ایسی،‘ اور ’یہ سالی زندگی‘ جیسی فلمیں بنانے والے ہدایت کار سدھیر مشرا کو مدھر بھنڈارکر کی ’ٹریفک سگنل‘ کے بعد کئی منفی کردار ادا کرنے کی پیشکش کی گئی تھی لیکن انھوں نے ہدایت کاری پر توجہ دینے کے لیے ایسے کردار کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

امول گپتے

تصویر کے کاپی رائٹ Rohit Shetty
Image caption ہدایت کاری چھوڑ کر سب سے کامیاب ولن بننے والوں میں سب سے بڑا نام امول گپتے کا ہے

ہدایت کاری چھوڑ کر سب سے کامیاب ولن بننے والوں میں سب سے بڑا نام امول گپتے کا ہے۔ ’ہوا ہوائی‘ اور ’سٹینلی کا ڈبہ‘جیسی فلمیں بنانے والے امول کمال کے ولن بن کر سامنے آئے ہیں۔

سنہ 2009 میں وشال بھردواج کی فلم ’کمینے‘ میں ولن کے کردار میں امول نے اتنی اچھی اداکاری کی کہ انھیں پھر سنہ 2010 میں فلم ’پھنس گئے رے اوباما‘میں بھی ولن ہی کا کردار ملا۔

اسی بارے میں