سلمان خان کی ضمانت منظور اور سزا معطل

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سلمان خان کو دی گئی سزا کو ان کے وکلا نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا

ممبئی کی ہائی کورٹ نے فٹ پاتھ پر سوئے افراد پر گاڑی چڑھانے کے معاملے میں اداکار سلمان خان کی درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں دی گئی پانچ سال قید کی سزا اپیل پر فیصلے تک کے لیے معطل کر دی ہے۔

ہائی کورٹ کے جج ابھے تھپسے نے یہ فیصلہ جمعے کو ضمانت کی درخواست کی سماعت کے بعد دیا۔

’الزامات ثابت‘: سلمان خان پانچ سال کے لیے جیل میں

انھوں نے ذیلی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت مکمل ہونے تک سلمان خان کی سزا معطل کرنے کا حکم دیا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک ہائی کورٹ اپنا حتمی فیصلہ نہیں سناتی، سلمان خان کو جیل نہیں جانا پڑے گا۔

بدھ کو ممبئی ہی کی ایک سیشن کورٹ نے سلمان کو غیر ارادی قتل کے جرم میں پانچ سال کی سزا سنائی تھی، لیکن حراست میں لیے جانے کے چند گھنٹے بعد ہی انھیں ہائی کورٹ سے 48 گھنٹے کی عبوری ضمانت مل گئی تھی۔

سلمان خان کو دی گئی سزا کو ان کے وکلا نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

جمعے کو سماعت کے دوران جج ابھے تھپسے نے عدالت میں پولیس کانسٹیبل رویندر پاٹل کے بیان کی کاپی مانگی، جو کیس کے اہم عینی شاہد تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سلمان خان کا دعویٰ ہے کہ وہ حادثے کے وقت گاڑی نہیں چلا رہے تھے بلکہ سٹیرنگ کے پیچھے ان کا ڈرائیور اشوک تھا

جج نے استغاثہ سے یہ بھی پوچھا کہ واقعے کے وقت موجود گلوکار کمال خان کا بیان پولیس نے دوبارہ کیوں نہیں ریکارڈ کیا۔

سلمان خان کے وکیل امت دیسائی کی دلیل تھی کہ ’یہ بات جج نے کہی ہے کہ سلمان خان حادثے کے وقت گاڑی چلا رہے تھے، استغاثہ اسے ثابت نہیں کر سکا۔‘

سلمان پر الزام تھا کہ انھوں نے 28 ستمبر 2002 کی رات نشے میں اپنی گاڑی ممبئی کے علاقے باندرہ میں امریکن ایکسپریس بیکری کے کنارے فٹ پاتھ پر سوئے ہوئے لوگوں پر چڑھا دی تھی۔

اس واقعے میں ایک 38 سالہ شخص نور اللہ خان ہلاک اور چار زخمی ہوئے تھے۔

سلمان خان کا دعویٰ ہے کہ وہ حادثے کے وقت گاڑی نہیں چلا رہے تھے تاہم سیشن کورٹ کے جج ڈي ڈبلیو دیش پانڈے نے کہا تھا کہ سلمان خان پر غیر ارادی قتل کا الزام ثابت ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سلمان ہی نشے میں گاڑی چلا رہے تھے اور ان کے خلاف تمام الزامات درست ثابت ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں