ہیری پوٹر کی خالق جے کے رولنگ ’غدار‘ ہے

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption میں نہیں سمجھتی کہ کسی بھی سیاسی جماعت کا امیج بچانا میری ذمہ داری ہے

برطانیہ کی معروف ادیبہ جے کے رولنگ نے ٹوئٹر پر اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انھوں نے برطانیہ میں عام انتخابات کے نتائج کے بعد انٹرنیٹ ہونے والی گالم گلوچ میں اُن کا دفاع کیا۔

جے کے رولنگ مشہور کردار ہیری پوٹر کی خالق ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے مداحوں کے پیغامات کے حوالے سے رولنگ کا کہنا ہے کہ ’ان پیغامات کو پڑھ کر مجھے محسوس ہوا کہ واقعی یہ دنیا بہت وسیع ہے اور یہاں اچھے لوگوں کی تعداد بُرے لوگوں سے زیادہ ہے۔‘

اس سے قبل جے کے رولنگ نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ انٹرنیٹ پر کچھ پیغامات میں ان کے خلاف اس قدر گندی زبان استعمال کی گئی کہ لوگوں نے ’حدود پار کر دیں۔‘

’ٹوئٹر پر مشہور خاتون ہونا ہمیشہ لطف اندوز تجربہ نہیں ہوتا اور میرا خیال ہے کہ گالی گلوچ کرنے والوں کے خلاف کھڑا ہونا بھی آسان کام نہیں۔‘

واضح رہے کہ جے کے رولنگ کے خلاف گذشتہ برس بھی ٹوئٹر پر اس وقت ایک طوفان کھڑا ہو گیا تھا جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ انھوں نے سکاٹ لینڈ کی آزادی کے حق میں مہم چلانے والوں کو دس لاکھ پاؤنڈ عطیہ کیے تھے۔‘

اس سے قبل سنہ 2008 میں انھوں نے اتنی ہی رقم لیبر پارٹی کے فنڈ میں جمع کرائی تھی۔

جمعرات کے عام انتخابات کے اگلے دن مشہور مصنفہ نے بتایا تھا کہ ان کے سیاسی خیالات کی وجہ سے انہیں ٹوئٹر پر ’غدار‘ کہا گیا جس کے بعد انھوں نے کچھ صارفین کو اپنے اکاؤنٹ پر بلاک کر دیا تھا۔ جے کے رولنگ کا خیال ہے کہ یہ لوگ سکاٹش نیشنل پارٹی (ایس این پی) کے حامی تھے۔

اپنی ٹویٹ میں جے کے رولنگ نے لکھا کہ ’میں نہیں سمجھتی کہ کسی بھی سیاسی جماعت کا امیج بچانے کے لیے اس قسم کے لوگوں کی زبان بند کرنا میری ذمہ داری ہے۔‘

49 سالہ مصنفہ نے مزید بتایا کہ ’میں نے ایس این پی کے کئی حامیوں کے ساتھ ٹوئٹر پر بحث و مباحثہ کیا۔ان کی اکثریت شائستہ لوگوں کی تھی۔ میں نے انھیں بتایا کہ میرے اور ان کے سیاسی خیالات میں بہت سے چیزیں مشترک ہیں۔‘

ٹوئٹر پر جب ایک صارف نے لکھا کہ کہ جے کے رولنگ کی تمام کتابوں کو لوگوں کے سامنے نذر آتش کر دینا چاہیے تو مصنفہ نے اس کا جواب مزاح سے دیا اور کہا کہ میں اس موقعے پر ’مٹھائی لے کر آؤں گی۔‘

واضح رہے کہ سکاٹش نیشنل پارٹی نے ان انتخابات میں سکاٹ لینڈ کے 59 میں سے 56 حلقوں میں کامیابی حاصل کی ہے جس کے بعد وہ برطانیہ کی پارلیمان میں تیسری بڑی جماعت بن گئی ہے۔

اسی بارے میں