مادھوری کی پسندیدہ فلمیں

تصویر کے کاپی رائٹ Agency
Image caption سنہ 1999 میں فلمی دنیا سے قدرے فاصلے پر جانے والی مادھوری اب ایک بار پھر اپنے کریئر کی دوسری اننگز کا آغاز کر چکی ہیں

بھارتی فلم انڈسٹری کی 'دھک دھک گرل‘ مادھوری ڈکشٹ جمعہ کو 48 برس کی ہو گئیں۔

اپنے 23 برس کے فلمی کریئر میں مادھوری نے کئی یادگارفلمیں کیں اور بہت سے سحر انگیز نغمے ان پر فلمائے گئے۔

چھ فلم فیئر انعام جیتنے والی مادھوری ڈکشٹ کو بھارتی حکومت نے پدم شری جیسے اعزاز سے بھی نوازا ہے۔

اگرچہ سنہ 1999 میں شادی کے بعد مادھوری نےفلموں سے کچھ فاصلہ اپنا لیا تھا لیکن اب انہوں نے بالی ووڈ میں اپنے کیریئر کی دوسری اننگز شروع کی ہے۔

مادھوری کی سالگرہ پر بی بی سی نے ان سے ملاقات کی اور ان سے بات چیت میں ان فلموں کے بارے میں بات کی جنہیں مادھوری اپنے 30 برس کے کریئر کی بہترین فلمیں مانتی ہیں۔

ابودھ

تصویر کے کاپی رائٹ abodh

سنہ 1984میں آئی راج شري پروڈکشن کی فلم ' ابودھ' یعنی معصوم سے مادھوری نے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا تھا اور آج بھی وہ فلم ان کے لیے خاص ہے۔

اس فلم میں مادھوری نے کم عمر گاؤں کی ایک لڑکی 'گوری' کاکردار نبھایا تھا جس کی بچپن میں شادی کروا دی جاتی ہے اورپھر وہ کس طرح سے اس ذمہ داری اور شوہر کے لیے محبت کےجذبات پیدا کرتی ہے۔

یہ فلم باکس آفس پر کامیاب نہیں ہوئی تھی لیکن فلم مبصرین کومادھوری کی اداکاری پسند آئی تھی۔

مادھوری کہتی ہیں ’یہ میری پہلی فلم تھی اس لیے یہ ہمیشہ میرے دل کے قریب ہی رہے گی۔‘

تیزاب

تصویر کے کاپی رائٹ Tezaab

سنہ 1988 میں آئی فلم 'تیزاب' سے پہلے مادھوری نےتقریبا آٹھ فلمیں کی تھیں، جو باکس آفس پر ناکام رہیں، لیکن پھر این چندرا کی فلم 'تیزاب' نے انہیں راتوں راتوں سٹار بنا دیا۔

فلم کا مشہور نغمہ 'ایک دو تین ...' نے نہ صرف بالی وڈ کو نیاڈانس نمبر دیا بلکہ مادھوری اپنے خوبصورت رقص کےلیے مشہور بھی ہوگئیں۔

لوگ آج بھی جب فلم 'تیزاب' کا ذکر کرتے ہیں تو پہلے ان کے ذہن میں یہی نغمہ آتا ہے۔

رام لكھن

تصویر کے کاپی رائٹ Ram lakhan

'تیزاب' کی ہٹ جوڑی انیل کپور اور مادھوری کو ہدایت کار سبھاش گھئی نے اپنی فلم 'رام لكھن' میں جیکی شراف اور ڈمپل كپاڈيا کے ساتھ دہرایا۔ اسے بھی ناظرین نے خوب پسندکیا۔

سبھاش گھئی کہتے ہیں ’جب مادھوری اتّر دکھّن فلم کے لیےڈانس کر رہی تھیں، تو وہ گھبرائی ہوئی تھیں اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ میں کس طرح ڈانس کروں؟ تب میں نے مادھوری کو کہا کی صرف آنکھوں اورمسکراہٹ سے ڈانس کرو اور پھر ' رام لكھن' میں مادھوری نے توکمال ہی کر دیا جسے سب نے دیکھا۔‘

ہم آپ کے ہیں کون؟

تصویر کے کاپی رائٹ Rajshri

راج شري پروڈکشن سے کیریئر کی شروعات کرنے والی مادھوری نے ایک عشرے کے بعد پھر سے راجشري فلم کے ساتھ سنہ 1994 کی فلم 'ہم آپ کے ہیں کون' میں کام کیا۔

اس فلم میں مادھوری نے چلبلي نشا کا کردار نبھایا اور سلمان خان کے ساتھ مادھوری کی جوڑی نے شائقین پر جیسےجادو کر دیا ہو۔

معروف مصور ایم ایف حسین نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انہوں نے اس فلم کو مادھوری کے لئے 85 بار دیکھا ہے۔

مرتیو ڈنڈ

تصویر کے کاپی رائٹ eros

مادھوری کی اگلی پسندیدہ فلم ہے سنہ 1997 میں پرکاش جھاکی ' مرتیو ڈنڈ' یعنی سزائے موت۔ یہ بہار کے بلاس پور گاؤں کیایک کی حقیقی کہانی پر مبنی تھی۔ اس میں مادھوری ڈیکشٹ کاکردار 'كیتكي' مردانہ معاشرے میں عورت کے ساتھ ہو رہے ظلم کے خلاف ہے۔

اس فلم کا ڈائیلاگ ’تم شوہر ہو، خدا بننے کی کوشش مت کرو‘ ہندوستان کی قدامت پسند سوچ کے لیے ایک جھٹکا تھا۔

اس فلم کو سنہ 1997 میں لندن فلم فیسٹیول کے لیے خاص طور پر دعوت دی گئی تھی۔

دل تو پاگل ہے

تصویر کے کاپی رائٹ YRF

اس فلم کا نام لیتے ہوئے مادھوری مسکرا دیتی ہیں۔ بالی وڈ کی ہر اداکارہ کا خواب ہوتا ہے کہ وہ اگر رومانٹک فلم کرے تو ایک بار یش چوپڑا کی ہیروئن ضرور بنے۔

مادھوری کو یہ موقع ملا فلم 'دل تو پاگل ہے' میں جورقض پر مبنی فلم تھی۔

نہ كاہو سے دوستی، نا کاہو سے بیر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

مادھوری دیکشت نے رشی کپور سے لیکر رنبیر کپور تک تمام اداکاروں کے ساتھ کام کیا ہے اور ان کے اپنے تمام شریک اداکاروں کے ساتھ اچھے تعلقات رہے ہیں۔

مادھوری کہتی ہیں ’میرے ساتھ تمام اداکار بہت اچھے رہے ہیں۔ ان سب کے ساتھ کام کرنا بہت اچھا رہا ہے۔ انیل کپور، شاہ رخ خان، جیکی شراف کے ساتھ کام کرنا یادگار رہا ہے۔‘

جیکی شراف نے بی بی سی کو بتایا ’مادھوری انتہائی سادہ اور پیاری طبیعت کی ہیں اور انہوں نے سبھی کا احترام کیا ہے اور بدلے میں بھی انھیں احترام ملا ہے۔ مادھوری نہ کسی کے زیادہ نزدیک تھیں، نہ ہی کسی سے بہت دور۔‘

مادھوری نے بالی وڈ کو کبھی نہ بھولنے والے کئی ڈانس نمبر دیے ہیں جن میں سے ایک ہے ’ ہم کو آج کل ہے انتظار ...‘ جسے مادھوری سب سے مشکل نغمہ مانتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’یہ نغمہ بے حد مشکل تھا کیونکہ مجھے اس گانےمیں سروج خان کے چہرے کے تاثرات کوبھی نقل کرنا تھا۔

لیکن مادھوری نے یہ کام بخوبی کیا اور سروج خان بھی کہتی ہیں کہ مادھوری سے بہتر یہ کوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔

اسی بارے میں